جنرل بس سٹینڈ ‘ چوک کمہارانوالا سود خورمافیا کے بڑے مراکز بن گئے

جنرل بس سٹینڈ ‘ چوک کمہارانوالا سود خورمافیا کے بڑے مراکز بن گئے

ملتان(جنرل رپورٹر)جنرل بس سٹینڈ اور چوک کمہاراں والا سود خورمافیا کا سب سے بڑے مسکن بن گئے گاڑیوں کی خریدوفروخت کی آڑ میں سود کا کاروبار گھناؤنی شکل اختیار کرگیا (بقیہ نمبر37صفحہ7پر )

ہے کئی لوگ اپنا گھر فروخت کرنے کے باوجود رقم نہ اتار سکنے کے باعث خودکشی کرچکے ہیں متعدد ذہنی مریض بن گئے مگر بے رحم سود خوروں نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا گاڑیوں کے شوروم مالکان کے علاوہ سپےئرپارٹس ‘ ورکشاپ اور دیگر کام کرنے والے بھی کمیشن کے چکر میں سادہ لوح لوگوں کو سود پر رقم دلوا کر ان کی زندگی تباہ کردیتے ہیں ذرائع کے مطابق گاڑیوں کے شوروم مالکان 10لاکھ روپے مالیتی گاڑی کے کاغذات اپنے نام کروانے کے بعد مالک سے چیک بھی وصول کرلیتے ہیں اور صرف2سے3لاکھ روپے کی رقم دیتے ہیں جس کا منافع ماہانہ بنیادوں پر ایک لاکھ روپے کے عوض10ہزار روپے وصول کیا جاتا ہے اگر کوئی شخص سالانہ بنیاد پر قرض لے تو اسے رعایت کرکے ایک لاکھ روپے کا50ہزار روپے منافع لیا جاتا ہے اور تین سالہ بنیاد پر قرض لینے والے کو100فیصد زائد رقم واپس کرنا پڑتی ہے یعنی ایک لاکھ روپے کے عوض دو لاکھ روپے وصول کئے جاتے ہیں شوروم مالک گاڑی کے کاغذات اپنے نام کروانے کی رقم اور ملازم کی مٹھائی کی مد میں بھی 10ہزار سے زائد کٹوتی کرلیتا ہے اور اس طرح ایک لاکھ روپے سود پر لینے والے کو 90ہزار روپے ملتے ہیں اگر رقم لینے والا شخص کسی ورکشاپ‘ سپےئر پارٹس والے یا کسی اور دکاندار کے ذریعہ سے آیا ہو تو اس کو اسے بھی 10ہزار روپے ادا کرنا پڑتے ہیں یعنی 80ہزار روپے وصول کرنے والے شخص کو ایک سال کا منافع 70ہزار روپے ادا کرنا پڑتا ہے اگر دو اقساط میں تاخیر ہوجائے تو سود مافیا کے کارندے گاڑی پکڑ کر لے جاتے ہیں اور پھر سود پر مزید سود لگایا جاتا ہے اگر وہ شخص انکار کرے تو گاڑی فروخت کرکے اسے تمام کٹوتیاں کرنے کے بعد تھوڑی سی رقم واپس کردی جاتی ہے اپنی گاڑی کے تمام کاغذات اور چیک دینے کے بعد گاڑی مالک کسی قسم کی کارروائی کا بھی حق نہیں رکھتا جس کی وجہ سے سود مافیا دھڑلے سے رقم وصول کرتا ہے ۔

سود خوف مافیا

مزید : ملتان صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...