اجرت مانگنے پر مزدور پر تشدد‘ ساتھیوں کا احتجاج‘ فیکٹری مالک پر دھاوا

اجرت مانگنے پر مزدور پر تشدد‘ ساتھیوں کا احتجاج‘ فیکٹری مالک پر دھاوا

بورے والا(تحصیل رپورٹر)نواحی گاؤں 535ای بی کا رہائشی محنت کش فقیر حسین چیچہ وطنی روڈ پر واقع افتخار آئل ملز میں مزدوری کرتا تھا دس روز مزدوری کے بعد اُس نے کام چھوڑ دیا اور مالکان سے مزدوری کا تقاضا کرتا رہا لیکن انہوں نے مزدوری دینے سے انکار کر دیا گھریلو تنگدستی کی وجہ سے(بقیہ نمبر15صفحہ12پر )

آج وہ اپنی بیوی شبانہ کوثر کے ہمراہ فیکٹری مالکان کے پاس آیا اور مزدوری کی رقم کے لیے منت سماجت کی جس پر فیکٹری مالک کے بیٹوں نبیل احمد اور عدیل احمد نے دیگر ملازمین کو بلوا کر اُسے کمرہ میں بند کر دیا جہاں اُسکی بیوی کو باہر بھیج کر اُسے برہنہ کرکے اسلحہ کے بٹ،مکوں اور ڈھڈوں سے بہیمانہ تشدد شروع کر دیا بیوی کے شور مچانے پر اُس کے ساتھ بھی بدتمیزی کی اور اُسکی حالت غیر دیکھ کر اُسے فیکٹری کے گیٹ کے قریب پھینک کر روپوش ہو گئے اس واقعہ کو دیکھ کر مزدور کے کئی ساتھیوں اور اُسکے ورثاء نے موقع پر پہنچ کر فیکٹری گیٹ کے سامنے فیکٹری مالکان کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے روڈ بلاک کر دیا جس سے گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگ گئیں اسی دوران فیکٹری میں داخل ہوتے ہوئے اسکا مالک محمد افتخار اور ایک ملازم بھی مشتعل مزدوروں کے ہتھے چڑھ گیا جنہیں لاتوں اور مکوں سے تشدد کا نشانہ بنایا تو دونوں اپنی جان بچاتے ہوئے وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے جس کے بعد مشتعل مظاہرین فیکٹری میں داخل ہو گئے اور ملزمان کی تلاش میں دفاتر پر ہلہ بول دیا لیکن فیکٹری مالکان اور عملہ وہاں سے روپوش ہو چکا تھامزدور مریض کو ایمولینس کے ذریعہ ہسپتال منتقل کرکے روڈ کو کلیئر کروایا گیا ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر