امت مسلملہ کے اتحاد کی بنیاد طیبہ ہے : مولانا مسرور نواز

امت مسلملہ کے اتحاد کی بنیاد طیبہ ہے : مولانا مسرور نواز

مظفرآباد(بیورورپورٹ)ممبر پارلیمنٹ اسمبلی جھنگ مولانا مسرور نواز جھنگوی نے کہا ہے کہ امت مسلمہ کے اتحاد کی بنیاد کلمہ طیبہ ہے۔سیرت النبیﷺ کو اپنا کر ہی امت مسلمہ متحدہوسکتی ہے۔امت مسلمہ کا اتحاد اس وقت تک ممکن نہیں جب تک نبی کریمﷺ کے اسوہ حسنہ کو مکمل طورپر زندگی میں اپنایا نہیں جاتا۔حق بیان کرنا اور حق پر چلنا بھی نبی کریمﷺ کی ایک سنت ہے۔حق پر چلتے ہوئے تکلیفیں ومصائب برداشت کرنا نبیﷺ کی سنت ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے اہلسنت والجماعت آزادکشمیر ضلع مظفرآباد کے زیر اہتمام چوک شہیداں اپر اڈہ مظفرآباد میں عظیم الشان"سیرت البنیﷺ واتحاد امت"کانفرنس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس سے اہلسنت والجماعت آزادکشمیر کے قائد مولانا تصدق حسین،جنرل سیکرٹری مولانا عبدالوحید جلالی،مولانا جہانزیب فاروقی،مفتی نسیم چغتائی،مولانا مفتی آفتاب احمد عباسی،مولانا عقیل الرحمن،مولانا زاہد ،جنرل سیکرٹری مظفرآباد راجہ عبدالشکور خان،مفتی یاسرخواجہ،مولانا آفتاب کاشف ودیگر نے خطاب کیا۔جبکہ پاکستان کے مشہور نعت خوان آصف رشیدی،طاہر رشیدی،عبدالرحمن بٹ نے بارگاہ رسالت میں گلہائے عقیدت پیش کیا۔کانفرنس میں مظفرآباد بھر سے اہلسنت والجماعت کے سینکڑوں کارکنان نے شرکت کی۔کانفرنس میں اہلسنت والجماعت پاکستان کے سرپرست اعلیٰ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے شرکت کرنا تھی مگر محکمہ داخلہ کی جانب سے پابندی کے باعث وہ شریک نہ ہوسکے۔جبکہ مولانا حق نواز جھنگوی شہید کے فرزند اور ممبر پنجاب اسمبلی مولانا مسرور نواز جھنگوی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نبی کریمﷺ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا الفاظ میں احاطہ کرنا ممکن نہیں،کامیابی کے تمام راستے نبی کریمﷺ کے اسوہ حسنہ پر عملدرآمد سے ہوکر گزرتے ہیں۔امت مسلمہ کے اتحاد کا مقصد بھی صرف نبی کریمﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے ممکن ہے۔کشمیر کی یہ سرزمین طویل جدوجہد کے بعد حاصل کی گئی ہے۔کشمیر میں ڈوگرہ ظالم شخص کی حکومت تھی جس سے نجات پانے کے لیے مسلمانوں نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔قربانیوں کے تسلسل کے باعث آج آپ لوگ آزادی میں اپنا سانس لے رہے ہیں۔اسلام کا دفاع اس وقت سب سے اہم ہے اور دفاع ختم نبوت ،دفاع عظمت صحابہ واہلبیت وازواج مطہراتؓ پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جاسکتا۔کانفرنس سے مولانا تصدق حسین،مولانا عبدالوحید جلالی اور دیگر ذمہ داران اہلسنت والجماعت آزادکشمیر نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے کوڑے ہم پر برسائے گئے،ہمارا مشن حق روکا گیا،ہمیں کہا گیا بیٹھ جاؤ ہم بیٹھ گئے اور جب ملک مشکلات میں گھر گیا تو ہمیں کہا گیا کہ اٹھ کھڑے ہوجاؤ ملک مشکلات میں ہے تو ہم اٹھ کھڑے ہوگئے۔محرم کے دوران آزادکشمیر میں شر پھیلانے کی کوشش کی گئی ہم نے سرکاری اداروں تک بات پہنچائی اور صبر سے کام لیا۔مظفرآباد میں اختلافی اور فرقہ وارانہ ناموں سے چوک بنائے گئے۔ہم انتظامہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان چوکوں کو ختم کیا جائے۔انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کیا کہ انہوں نے مظفرآباد میں اہلسنت والجماعت کو کانفرنس کی اجازت دی۔دارالحکومت مظفرآبادمیں اپنی نوعیت کا یہ پہلا اجتماع تھا جس میں کثیر تعداد میں شہریوں اور کارکنان نے شرکت کی۔کانفرنس میں جمعیت علماء اسلام اور سواد اعظم اہلسنت والجماعت کے علاوہ مرکزی سیرت مصطفی کمیٹی کے قائدین مولانا قاری عبدالمالک توحیدی،مولانا قاری محمد افضل خان،مولانا عتیق الرحمن دانش،قاری ممتاز الحق قاسمی،مولانا ضیا ء فضل،مولانا فضل الرحمن،مولانا گل احمد الازہری،مولانا غلام سرور،مولانا الطاف لون،مولانا عبدالمالک صدیقی ایڈووکیٹ،مظہر اعوان،محمد صدیق،محمد آزاد کیانی،محمد ساجد ترک ودیگر قائدین وکارکنان نے بھرپور شرکت کی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر