لاڑکانہ، بینظیر بھٹو میوزیم لاپرواہی سے بھوت بنگلہ بن گیا

لاڑکانہ، بینظیر بھٹو میوزیم لاپرواہی سے بھوت بنگلہ بن گیا

لاڑکانہ(نامہ نگار ) ملک کی ترقی اور غریب عوام کی خوشحالی کا منشور رکھنے والی پیپلز پارٹی کی شہید چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے نام سے منسوب لاڑکانہ میں محترمہ شھید بینظیر بھٹو میوزیم محکمہ سیاحت و ثقافت کی لاپرواہی، غفلت اور عدم توجہگی کے باعث ویران بنگلہ (بھوت بنگلہ) بن گیا ہے، میوزیم کو دیکھنے کے لئے سیاحوں وشہریوں کی عدم آمد کے باعث پرندوں نے اپنا مسکن بنالیا، کروڑوں روپے کے لاگت سے میوزیم کی عمارت تو بن گئی تاھم شہید رانی بینظیر بھٹو سے منسوب اشیاء اس عجائب گھر میں نادر و نایاب ہو نے کے ساتھ عمارت پر نام تک نہیں لکھا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کے پہلے دور حکومت میں 2010 کے دوران سابق وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے پارٹی کی شھید چئرپرسن بینظیر بھٹو سے وابستہ تمام اشیاء کو ایک جگہ جمع کرنے کے لئے لاڑکانہ میں شھید بینظیر بھٹو میوزیم کا سنگ بنیاد رکھا جسکی تعمیر پر کئی کروڑ روپے لاگت آئی اور میوزیم کی تعمیر کے بعد اسکا اس وقت کی صوبائی وزیر سیاحت وثقافت سسی پلیجو نے لاکھوں روپے اخراجات کے ساتھ 2013 میں افتتاح کیا تو سیاحت و ثقافت محکمے کی جانب سے عارضی طور پر میوزیم کے لئے حیدر آباد اور موئن جو دڑو و دیگر مقامات سے نودرات اور بینظیر بھٹو کی تصاویر و منسوب اشیاء لائی گئی اور افتتاح کے بعد اٹھالی گئی، تاھم پی پی پی حکومت نے چار سال گزرنے کے باوجود شھید بینظیر بھٹو میوزیم پر کوئی توجہ نہیں دی میوزیم کے سامنے مین گیٹ والی سڑک گندگی و ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جبکہ شھید بینظیر بھٹو میوزیم میں سیاحوں اور شھریوں کی عدم آمد کے باعث ویران میوزیم دیکھکر پرندوں نے اپنے ڈیرے ڈال لئے ہیں اور محکمہ سیاحت و ثقافت کی جانب سے میوزیم میں شھید رانی بینظیر بھٹو سے منسوب کوئی تصویر مجسمہ نہیں صرف بڑے بڑے شوکیش ویران و گرد آلود پڑے ھیں البتہ محکمے کی جانب سے میوزیم میں سندھی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے سر سنگیت ساز و سامان، ڈھول، گٹار کا انتظام کرتے ہوئے میوزک اسکول قائم کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سر شاھنواز بھٹو میموریل لائیبریری اور شھید بینظیر بھٹو میوزیم کے انچارج شمش الدین کلہوڑو نے بتایا افسوس اس بات کا ہے کہ تاحال شھید بینظیر بھٹو میوزیم ہمارے حوالے ہی نہیں کیا گیا اسکے باوجود ہم اسکی دیکھ بھال کررہے ہیں۔ انہوں نے آرکیالوجی حکام اور پیپلز پارٹی کی سرکردہ شخصیات سے اپیل کی کہ بینظیر بھٹو کے متعلق تصاویر، ملنے والے تحائف اور منسلک اشیاء فراہم کی جائیں تاکہ انہیں میوزیم میں رکھا جائے۔ سروے کے دوران ڈاکٹر بدر شیخ سمیت طالب علموں نے ’’امت‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کی معروف شخصیت شھید بینظیر بھٹو ہیں ان کے نام پر بننے والا میوزیم حکمرانوں کی نااہلی کے باعث بند پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میوزیم کا مطلب عجائب گھر ہے تاکہ اندر آنے والے عجائیبات محسوس کریں اندر شوکیش خالی پڑے ہیں حکمران بھٹو کے نام پر حکومت کررہے ہیں اور میوزیم بینظیر کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جہاں خود بینظیر بھٹو کی کوئی تصویر تک نہیں ایسے حکمرانوں کو عوام سے کیا دلچسپی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں جانا پہچانا موئن جو دڑو بھی یہاں ہے یہاں میوزیم میں ایسی بینظیر بھٹو سے منسلک اشیاء رکھی جائے تا کہ محسوس ہو کہ یہ بھٹو کے شھر کا میوزیم ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ جس شخصیت کے نام میوزیم قائم کیا گیا اس شھید رانی بینظیر بھٹو سے منسوب نادر و نایاب اشیاء کو رکھا جائے جو دنیا بھر سے آنے والوں کے لئے قابل توجہ ہو۔ واضع رہے کہ محکمہ سیاحت و ثقافت کے صوبائی وزیر سید سردار شاہ کئی دفعہ لاڑکانہ آتے رہے ہیں لیکن وہ دعوت دینے کے باوجود بھول کر بھی شھید بینظیر بھٹو میوزیم دیکھنے نہیں آئے۔

مزید : کراچی صفحہ اول