کاغذات نامزدگی فارم میں بھی متنازع ترمیم کا انکشاف، ٹیکس چوری، قرضہ معافی اور مقدمات کی شقیں بھی ختم

کاغذات نامزدگی فارم میں بھی متنازع ترمیم کا انکشاف، ٹیکس چوری، قرضہ معافی ...
 کاغذات نامزدگی فارم میں بھی متنازع ترمیم کا انکشاف، ٹیکس چوری، قرضہ معافی اور مقدمات کی شقیں بھی ختم

اسلام آباد(ویب ڈیسک) قومی اورصوبائی اسمبلی کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی فارم میں ایک اور متنازع ترمیم سامنے آگئی، پارلیمنٹ نے الیکشن ایکٹ منظوری کے وقت نئے کاغذات نامزدگی فارم میں امیدواروں کے انکم ٹیکس، زرعی ٹیکس،قرضہ معاف کرانے، بینک ڈیفالٹر، زیرالتوا فوجداری مقدمات، 3 سال کے غیر ملکی دوروں، تعلیم، پیشے کی معلومات ظاہرکرنے کی شق ختم کردیں،پرانے کاغذات نامزدگی فارم میں مذکورہ تمام معلومات فراہم کرانا لازمی تھا۔ امیدوار اب صرف ویلتھ سٹیٹمنٹ دیںگے، کاغذات نامزدگی کو الیکشن ایکٹ کا حصہ بنا کر الیکشن کمیشن کے ہاتھ باندھ دیے گئے اور اب الیکشن کمیشن اس میں ترمیم نہیں کرسکتا جبکہ اسکروٹنی کا وقت کم ہونے کے باعث ٹیکس چور، بینک ڈیفالٹر، قرضہ معاف کرانے والوں کے ایم این اے، ایم پی اے بننے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں۔ ۔ ۔دھوم دھام سے شادی ، 2 دن بعد پاکستانی دولہا کمرے میں گیا تو دلہن کیا کرہی تھی؟ دولہے کو زندگی کا سب سے زوردار جھٹکا دیدیا کیونکہ ۔ ۔ ۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پارلیمنٹ نے ایم این اے، ایم پی اے بننے کیلیے کاغذات نامزدگی میں سے کڑی اور عوام کیلیے امیدواروںکی ضروری معلومات ختم کردی ہیں۔ نئے کاغذات نامزدگی میں امیدوار پرتھانوں میں یا عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تفصیلات، کریمنل ریکارڈ ظاہرکرنے ،بینکوں سے قرضے لینے یا قرضہ معاف کرانے کی تفصیلات ظاہرکرنے کی شرط ختم کردی گئی ہے۔یوں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے کم وقت کا فائدہ اٹھا کر قرضہ معاف کرانے اورڈیفالٹرزکے بھی الیکشن میں حصہ لینے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ نئے کاغذات نامزدگی فارم میں امیدواروں سے آرٹیکل62،63 پر پورا اترنے کا اقرار نامہ لیا جائیگا ،کاغذات نامزدگی کا نیا فارم انتخابی اصلاحات کمیٹی نے متفقہ طور پر تیارکیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔ ۔۔ ”میری بہن کمرے میں اکیلے سوئی ہوئی تھی ، چلانے کی آواز آئی تو ہم بھاگ کر گئے، وجہ پوچھی تو اس نے بتایاکہ چھاتی اور چہرے پر۔ ۔ ۔“بری نظر رکھنے سے منع کرنے پر گھر آئے مہمان نے نوجوان لڑکی سے ایسی شرمناک حرکت کردی کہ ہنگامہ برپا ہوگیا

رپورٹ کے مطابق ن لیگ، پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی ، ایم کیو ایم ،جے یو آئی ف، جماعت اسلامی سمیت تمام جماعتوں نے کاغذات نامزدگی میں تبدیلیوں پر اتفاق کیا جبکہ تبدیلی کی دعویدار اور ماضی میں انھی معاملات پرتنقیدکرنے والی تحریک انصاف بھی متنازع قانون سازی میں شامل رہی ہے، اس حوالے سے جب کمیٹی میں شامل پی ٹی آئی ممبران ڈاکٹر شیریں مزاری،سینیٹر شبلی فراز، عارف علوی، پیپلز پارٹی کے نوید قمر،شازیہ مری ، جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ سے رابطہ کیا گیا توانھوں نے موقف دینے سے انکارکردیا جبکہ وزیر قانون زاہد حامد بیرون ملک ہونے کے باعث رابطے میں نہ آسکے۔

مزید : قومی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...