ایک بابو ،ایک سپاہی اور رواں دواں زندگی

ایک بابو ،ایک سپاہی اور رواں دواں زندگی
ایک بابو ،ایک سپاہی اور رواں دواں زندگی

روز  ایک  ہی تماشا سجا دیکھتا ہوں – روز ایک ہی منظر  مگر کچھ کردار  کچھ چہرے نئے، کہانی وہی  یا شاید اس کو فلمانے والے بھی  اسی ایک منظر کشی میں کچھ ایسے  ڈھل چکے ہیں  کہ انہیں  بھی اب  اپنے کردار کی ادائیگی میں کوئی مشکل ہی پیش نہیں آتی– روزانہ کی اس تلخی کو ہنس کے پینے اور جینے والے  دنیا کے  رنگین پردے پہ  کھیلے جانے والے ایسے بے باک کھیل  اور ان کے کردار اس کو مقدر کا لکھا مان کر  سر جھکائے  نبھائے جا رہے ہیں –  نیلی پینٹ سفید شرٹ  میں ملبوس ٹریفک کا  ایک بابو اپنے کردار کی منظر کشی میں کچھ  ایسے مصروف ہوتا ہے  کہ اسے ارد گرد کا کچھ پتہ ہی نہیں  ہوتا اور میں اسے  روزانہ اسی حالت میں دیکھتا   ہوں اور گذر جاتا ہوں   کہ کس نا انصافی سے وہ انصاف کرتا   ہے  جس کا تو شاید اس کو بھی ادراک نہیں- کبھی کوئی ٹریکٹر ٹرالی ، کبھی کو ئی ٹرک  ،کبھی منی  بس   ، ویگن اور کبھی کو ئی ڈمپر سڑک کی سائیڈ پہ کھڑا ہوتا ہے اور وہ بند پنسل کسی پیپر پہ کچھ لکھ رہا ہوتا ہے – پھر کچھ طے پاتا ہے اور گنوں بھری  ٹرالی پھر اسی مصروف شاہراہ  پہ  عازم ِ سفر ہوتی ہے  -  ٹرک اپنا سفر شروع کرتے ہیں  -  ڈمپر والا منہ میں بڑبڑاتا  اپنی  سیٹ پہ آ بیٹھتا ہے اور بس ویگن  کا کنڈیکٹر" چلے  "کہتا ہوا اپنی مخصوص کھڑکی کی طرف دوڑتا  دکھائی دیتا ہے -جب یہ بڑی ٹریفک  اس کے آس پاس نہیں ہوتی   تو کوئی  دوسرا ضرور ہوتا ہے  وہ شاید کوئی دیہاتی  ہے جو اس کے پاس کھڑا منت سماجت کر رہا ہوتا ہے  کیونکہ ان پڑھ معاملہ طے کرنے کے اسرارو رموز  ہی نہیں جانتا  تو صاحب  فقط اس کی منتوں پہ اس کی قسمت کا فیصلہ کیا کرے -باقی اس یک طرفہ ٹریفک والی شاہراہ پہ کوئی الٹی جانب چلے یا سواری سمیت سڑک کی درمیانی حد بندی پھلانگ جائے ، گدھا گاڑی والا خالی جیب جس طرف سے مرضی آ جائے کوئی پرواہ نہیں – چنگچی رکشہ والوں نے معاملات شاید کہیں اور طے کئے ہوئے ہیں اس لئے ان سے بھی کچھ پوچھ پرتیت نہیں-  گاڑی کے صاحب جیسے مرضی آئیں جائیں کوئی  روک ٹوک  نہیں جی – ان کے منہ لگنے سے آنکھیں بند کر لینا ہی بھلا ہے کیونکہ اس  "تو تو میں میں" میں دن بھی کھوٹا ہوتا ہے اور کبھی صاحب کے پاس طلبی بھی ہوجاتی ہے-     

   مجھے آج اس لئے یہ لکھنے کی ضرورت پیش آئی کہ  صبح منظر کچھ  نیا تھا – آج موٹر سائیکل والے دھرے ہوئے تھے اور سڑک کے کنارے کھڑی کئی  موٹر سائیکلوں کے سوار  سرکاری بابوؤں سے الجھ رہے تھے-

 آج میں بھی رک گیا  تا کہ دیکھو ماجرا کیا ہے – پتہ چلا ہیلمٹ پہننے کا ہفتہ منایا جا رہا ہے- وہی جو آج سے پہلے سڑکوں پہ ہیلمٹ کے بغیر نظر آتے تھے اس ہفتہ یہ نظر نہیں آئیں گے- خوشی ہوئی  کہ چلو  آج کچھ تو مختلف ہے  لیکن  پھر سوچا جب یہ ہفتہ ختم ہو جائے گا تو کیا پھر وہی  بھیڑ کی چال   وہی لاقانونیت کی زندگی جاری و ساری ہو جائے گی یا اس کا کوئی خاطر خواہ اثر آنے والے دنوں پہ  بھی ہو گا- چند ثانیہ بعد ہی بات سمجھ آ گئی  جب میں نے دس بارہ  برس کے ایک سکول جانے والے بچے کو دیکھا  جس کے پاس ہیلمٹ نہیں تھا- اس کا باپ معاملہ طے کر رہا تھا – کچھ دیر بعد معاملہ طے پا گیا  تو میں نے پوچھا کیا  اس بچے کے پاس موٹر سائیکل چلانے کی کوئی دستاویز یا قانونی کاغذ ہے  تو ہجوم میں سے ایک منچلے نے ہنستے ہوئے کہا جناب یہ ہفتہء لائسنس تھوڑی ہے  - ٹریفک جام ہو رہا تھا اور سڑک پہ دباؤ بڑھ رہا تھا اس لئے میں نے بھی اپنی منزل کی راہ لی – مگر میں اب تک سوچ رہا ہوں کہ  جو قانون ہر وقت اور برس ہا برس سے چلا آ رہا ہے اس کا ایک ہفتہ ہی  کیوں منایا جا رہا ہے – ملکی قانون کا اطلاق ایک ہفتہ کے لئے ہی کیوں- اگر یہ بابو سارا سال اپنا کام ایمانداری سے نبھاہیں تو  سڑکوں پہ اموات کم ہوجائیں اور ٹریفک کے دباؤ میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہو -سا لانہ ان چھوٹی چھوٹی وجوہات کی  بنا پہ  لقمہء اجل بنتے  شہری بھی امان پائیں اور ہسپتال کی ایمرجینسی وارڈ میں دوسرے امراض کے مریضوں کو بھی جلدی اور بہتر  علاج  کی سہولتیں بھی میسر آئیں- ان حادثات کی وجوہ  کا حل کوئی راکٹ سائنس نہیں کیوں کہ  اوور سپیڈنگ، غلط اوورٹیکنگ، یو ٹرن پہ بے احتیاطی و  لا پروائی، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، کم عمری  بغیر لائسنس ڈرائیورز،ون وے کی  پابندی کو خاطر میں نہ لانا، پیدل چلنے والوں کا  سڑک  کے قوانین سے  لا علم ہونا  ، پیدل چلنے والوں میں تعلیم کی کمی  ، شاہراہوں کے محافظ بابوؤں کی چشم پوشی  و نذرانوں کی وصولی میں  مصروفیت- ٹریفک حادثات پہ سزاؤں کا نہ ہونا، ڈرائیورز کا بلا مناسب  آرام چوبیس گھنٹے گاڑی چلانا ،سفر کے لئے ان فٹ گاڑیاں ، سڑکوں کی ناگفتہ  بہ  حالت  ، غلط پاکنگ اور بڑی ٹریفک کا اندرون شہر داخلہ  ہی وہ وجوہات ہیں جو زیادہ تر ان حادثات کا باعث بنتی ہیں- ان سب کو اگر غور سے جانچا جائے تو ان میں ایسا کیا ہے کہ جو کیا نہ جاسکے-

ہم سب واقف ہیں کہ جا بجا  بسے  غیر قانونی اڈوں کی کمائی کہاں تک پہنچتی ہے اور اس منتھلی کے عوض کیا کیا مراعات ملتی ہیں – جب میں قانون نافذ کرنے والے  اسی بابو اسی سپاہی کو چالان کی پرچی ہاتھ میں پکڑے کسی کا چالان بھگتتے دیکھتا ہوں تو دھنگ رہ جاتا ہوں کہ صاحب سڑک پہ خود ہی چالان کر و ہو اور خود ہی بھگتو  ہو– آج کل میڈیا  اور ذرائع رسل و رسائل میں ترقی ہمیں ان تمام اسباب سے رفتہ رفتہ  آگاہی فراہم کر رہی ہے جو ہماری جڑوں کو دھیرے دھیرے دیمک کی طرح چاٹ رہے تھے- وجوہات دھونڈنا  اور اس کا آئینہ ارباب ِ اختیار کو  مہذب انداز میں دکھانا ہر شہری کا فرض ہے تاکہ ایک تندرست اور سزا و جزا کا معاشرہ اپنی جڑیں  مضبوط کر سکے – ہمیں اپنے رستے  زخموں کا مرہم  مل جل کے خود ڈھونڈنا ہے اور ہم سب کو سدھرنا ہے کیوں کہ یہی پاکستان ہمارے پرکھوں کا خواب تھا اور  ہماری آنے والی نسلوں  کا مستقبل –  اپنا حال سنواریے اور اجتماعی  سوچ کو پروان چڑھائیے  – کسی کی نشان دہی پہ  غصہ دکھانے سے پہلے سوچیئے کہ کیا  یہ  عمل ایک پڑھے لکھے بابو اور وطن کے سپاہی کو زیب دیتا ہے  یا  سڑک پہ چلتی نظم و ضبط  کی ٹریفک کسی مہذب قوم کا شعار  ہوتا ہے اور اگر خواہش ہو کہ ہمیں بھی  وہ  مہذب قوم بننا ہے تو عمل کیجیئے  ان اصولوں پر جو ایک قوم کو عظیم سے عظیم تر بناتے ہیں- ایک بابو ایک سپاہی کے کردار سے نکل آئیے اور پاکستان کے سپاہی بن جائیے-

 .

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...