فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 250

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 250

ایک دن ڈار صاحب نے کہا ’’آفاقی‘ یہ منیر نیازی آج کل کیا کرتے ہیں؟‘‘

ہم نے جواب دیا ’’پتا نہیں۔‘‘

کہنے لگے ’’اس کو بھی ہم ’’آثار‘‘ میں کیوں نہ رکھ لیں۔ یہ بھی کام سے لگ جائے گا۔‘‘

ہم نے کہا ’’منیر نیازی کا کام میں دل نہیں لگتا۔ شاعر آدمی ہیں۔‘‘

اگلی بار منیر نیازی ہمارے دفتر آئے تو ڈار صاحب نے یہ تجویز ان کے سامنے رکھی اور کہا کہ کیا حرج ہے اگر تم باقاعدہ صحافت شروع کر دو۔

منیر نیازی نے کچھ دیر سوچا اور پھر رضامندی کا اظہار کر دیا۔ ’’کام کیا کرنا ہو گا؟‘‘

ہم نے کہا ’’کام بھی تلاش کر لیں گے۔ آپ کل صبح دفتر آ جائیے۔‘‘

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 249  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

نیازی صاحب دوسرے دن ٹھیک وقت پر دفتر آ گئے’’اب بتاؤ کیا کرنا ہے؟‘‘ انہوں اس طرح پوچھا جیسے کے دفتر آ کر انہوں نے ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔

ڈار صاحب نے کہا ’’پہلے دفتر کے ماحول سے مانوس ہو جاؤ۔ پھر کوئی ڈیوٹی بھی مقرر کر دیں گے۔‘‘

ابراہمی جلیس کے ساتھ کچھ دیر گپ شپ رہی۔ لطیفہ بازی اور گپ شپ میں ابراہیم جلیس بادشاہ تھے۔

منیر نیازی دفتر کے ماحول سے کیا مانوس ہوتے۔ وہ ہر وقت ہمارے کمرے میں ہی بیٹھے چائے نوشی اورگپ شپ میں مصروف رہتے تھے۔ آخر ہم نے انہیں یاد دلایا کہ اب وہ سٹاف ممبر ہیں اور انہیں کام کرنا چاہئیے۔ انہیں نیوز روم میں نیوز ایڈیٹر اقبال صدیقی کے سپرد کر دیا گیا۔ اقبال صدیقی اس سے پہلے ’’زمیندار‘‘ میں چیف رپورٹر تھے۔ کافی تجربہ کار آدمی تھے۔ اقبال صدیقی ان سے بخوبی واقف تھے۔ علیک سلیک ہوئی۔ کچھ دیر باتیں ہوتی رہیں پھر اقبال صدیقی نے انہیں چند انگریزی خبریں ترجمے کے لئے دے دیں۔ کافی اہم خبریں تھیں مگر منیر نیازی صاحب نے چند سطروں میں ان کا نچوڑ نکال کر اقبال صدیقی کے حوالے کر دیا۔

اقبال صدیقی نے طویل انگریزی خبر کو دیکھا۔ پھر نیازی صاحب کے چند سطری ترجمے پر نظر ڈالی اور پوچھا ’’بھائی یہ آپ نے کیا حال کر دیا خبر کا؟‘‘

بولے ’’اس میں کام کی بات صرف اتنی ہے تھی۔ باقی تو فضول بک بک ہے۔‘‘

صدیقی صاحب نے ہم سے اور ڈار صاحب سے شکایت کی۔ ہم یہ مسئلہ نیازی صاحب کے رو برو لائے تو انہوں نے کہا ’’یار یہ بے کار خبریں مجھ سے نہیں ہوں گی‘ میرا دل نہیں لگتا۔‘‘

ہم اور ڈار صاحب سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ اب منیر نیازی صاحب کو کیا کام دیا جائے۔ جس میں ان کا دل لگے۔

ڈار صاحب نے کہا ’’دیکھو بھئی وہ آزاد منش آدمی ہے۔ اس سے پہلے کہیں جم کر کام نہیں کیا۔ پہلے اسے ہلکا پھلکا کام دینا چاہئیے جو زیادہ مشکل بھی نہ ہو۔‘‘

کافی غوروخوص کے بعد طے پایا کہ فی الحال انہیں ’’ایڈیٹر کے نام خطوط‘‘ کا کالم دے دیا جائے۔ انہوں نے شکائتی خطوط پر نظر ڈالی۔ دو چار کی اصلاح کی۔ باقی خطوط ردی کی ٹوکری کی نذر کر دئیے۔ ان کا خیال تھا کہ سارے خطوط بے معنی اور فضول ہیں۔ اگلی بار انہیں ’’اضلاع کے نامہ نگاروں‘‘ کی خبریں درست کرنے اور ایڈٹ کرنے کی ذمے داری سونپی گئی۔ یہ خبریں انہوں نے کاٹ پیٹ کر پھینک دیں۔ انہیں کوئی ایک خبر بھی پسند نہیں آئی۔

بولے ’’یار یہ کیا خبریں ہیں۔ بھینس چوری ہو گئی۔ دو پارٹیوں میں لڑائی ہو گئی۔ شادی شدہ چھ بچوں کی ماں آشنا کے ساتھ فرار ہو گئی۔ نری خرافات ہیں۔ اس پر زبان غلط‘ املا غلط‘ ہجے غلط‘ یہ بکواس چھاپنے کے قابل نہیں۔‘‘

ڈار صاحب نے انہیں بٹھا کر سمجھایا کہ بھائی اخباروں میں تو یہی کچھ چھاپا جاتا ہے۔ ان ہی خبروں اور خطوط کو لوگ شوق سے پڑھتے ہیں۔ تمہیں نہ بیرون ملک کی خبریں پسند ہیں نہ اضلاع کی خبریں اچھی لگتی ہیں۔ خطوط تمہارے نزدیک بے کار اور بے معنی ہیں۔ آخر تمہیں اور کیا کام دیا جائے؟‘‘

کہنے لگے ’’یہ تو تم سوچو۔ تم ہی مجھ سے کام کرانا چاہتے ہو‘‘ یہ کہہ کرکمرے سے باہر چلے گئے۔

ہم دونوں ابھی سوچنے بھی نہ پائے تھے کہ وہ کمرے میں داخل ہوئے۔ ہم دونوں کو لکھنے میں مصروف پایا تو اشارے سے اپنی ’’انگلیاں‘‘ دکھا کر دوبارہ غائب ہو گئے۔ اب ہم اس انتظار میں کہ منیر نیازی صاحب باتھ روم سے لوٹ کر آئیں توان سے کام کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے مگر منیر نیازی صاحب لاپتا ہو چکے تھے۔ دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ دفتر سے باہر نکلے تھے اس کے بعد لوٹ کر نہ آئے۔ ایک دن‘ دو دن‘ چھ سات دن گزر گئے اور منیر نیازی کا کوئی اتا پتا نہ لگ سکا۔

ایک ہفتے کے بعد کیا دیکھتے ہیں کہ منیر نیازی مسکراتے ہوئے چلے آ رہے ہیں ’’بھئی آپ کہاں چلے گئے تھے؟‘‘

کہنے لگے ’’ذرا منٹگمری چلا گیا تھا‘‘

’’منٹگمری؟‘‘

کہنے لگے ’’یار میرا تو کوئی پروگرام نہیں تھا۔ میں دفتر سے باہر نکلا تو میرا کزن مل گیا۔ وہ منٹگمری جا رہا تھا۔ اس نے مجھے بھی ساتھ بٹھا لیا۔‘‘

اب غور فرمائیے کہ ایسا لاابالی شخص نوکری کیسے کرے گا!

منیر نیازی سے ہماری ملاقات غالباً 1951ء میں ہوئی تھی۔ اس زمانے میں وہ بھی اخباروں کے دفاتر‘ چائے خانوں اور ادبی محفلوں میں جایا کرتے تھے اور ہم بھی۔ کیونکہ اس وقت یہی دستور تھا۔ اس وقت منیر نیازی محض ایک ابھرتے ہوئے نئے شاعر تھے۔ ان کے ہم عصر اور بھی بہت سے شاعر تھے جنہوں نے آگے چل کر بہت شہرت و امتیاز حاصل کیا۔ اس عہد میں اردو شاعری کے آسمان پر بڑے بڑے آفتاب و ماہتاب چمک دمک دکھا رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ کسی نئے شاعر کے لئے شاعری میں مقام بنانا کوئی آسان کام نہ تھا اور پھر منیر نیازی کے لئے شاعری میں مقام بنانا کوئی آسان کام نہ تھا اور پھر منیر نیازی تو ٹھہرے پٹھان۔ صاف گو اور کُھرے آدمی۔ جو منہ میں آیا کہہ دیا۔ جو رائے قائم کر لی وہ بیان کر دیا۔ ان کو دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے وہ بیزار بیزار سے ہیں۔ اپنے ماحول سے‘ شاعری سے‘ حالات سے‘ ہر ایک سے و بیزار نظر آتے تھے۔ ان کے دوستوں کی تعداد بہت محدود تھی۔ باقی کو وہ گردانتے ہی نہ تھے۔ لوگوں کے بارے میں ریمارکس پاس کرنا اور ان پر نکتہ چینی کرنا ان کا مرغوب مشغلہ تھا۔

دوسرے شعراء کو بھی بہت مشکل سے مانتے تھے۔ اندازہ لگائیے کہ ایک ایے شخص کے لئے ادب یا کسی بھی شعبے میں تن تنہا آگے بڑھنا اور نام وری حاصل کرنا کتنا دشوار ہو گا۔ وہ کسی ادبی لابی سے بھی متعلق نہیں تھے۔ بس اپنی ذات ہی میں کھوئے رہتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کی یہ عادات و اطوار یار لوگوں کو پسند نہیں تھیں اور ان کے پسند کرنے والوں کے مقابلے میں انہیں ناپسند کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ بہت سے نقاد‘ شاعر اور ادیب تو انہیں شاعر ہی نہیں مانتے تھے اورمنیر نیازی کا یہ رویہ تھا کہ میری بات مانو نہ مانو۔ میری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

ان کے ہمدرد اور مخلص دوست آپس میں اس بات پر اظہار تشویش کرتے رہتے تھے کہ یہ شخص آگے کیوں کر بڑھے گا اور اپنا مقام اور نام کیسے حاصل کرے گا۔ ہر ایک سے بے نیاز اور بے پروا۔ ہر ایک سے خود کو بالاتر سمجھنے والا۔ کسی بھی شعبے اور معاشرے میں ایسے لوگوں کی ترقی کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔

لوگ مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہم آغاز ہی سے منیر نیازی کو شاعر مانتے تھے۔ ان کا طرز اظہار‘ اسلوب‘ الفاظ کا انتخاب او نشست و برخاست‘ ان کے خیالات‘ سبھی چیزیں دوسروں سے مختلف تھیں۔ جیسے کہ وہ بذات خود دوسرے سے بالکل مختلف تھے۔ یہ نہیں کہ بدمزاج اور مغرور تھے۔ وہ بہت شگفتہ مزاج اور فقرے باز تھے۔ خود بھی ہنستے اور دوسروں کو بھی ہنساتے حالانکہ یہ ان کا اوپری روپ تھا۔ اندر سے وہ ایک بے حد حساس‘ دکھی‘ غم خوار و غمگین اور آس پاس کے حالات اور انسانوں کی مشکلات پر کڑھنے والے انسان تھے۔ ان کے یہ دونوں روپ بیک وقت سامنے آتے رہتے تھے۔ ابھی اداسی اور غم کا دامن تھامے غمگین بیٹھے ہیں تو کچھ دیر بھی ہنس رہے ہیں۔ فقرے کس رہے ہیں۔ ان کی ہنسی بے اختیاری بھی تھی اور وہ بے ساختہ کھل کھلا کر ہنستے تھے۔ بالکل بچوں کی طرح ’ان کایہی انداز آج بھی ہے۔ ہمیں تو وہ ہنستے ہوئے اور لطیفے بازی کرتے ہوئے ہی اچھے لگتے تھے اور ہم دونوں کی کوشش ہوا کرتی تھی کہ بیشتر وقت ہنستے ہنساتے رہیں۔ منیر نیازی کا جوانی کا روپ آج بھی آنکھوں کے سامنے ہے۔ دراز قد‘ سمارٹ‘ سرخ و سفید چہرہ‘ براؤن بال اور مسکراتی ہوئی شوخ آنکھیں۔ جو دکھ کے ذکر پر غم و اندوہ میں ڈوب جاتی تھیں۔ منیر نیازی کے دکھ کا احساس ان کے چہرے اور آنکھوں سے ہو جاتا تھا۔ جب ہنستے تو یوں لگتا جیسے اس چہرے اور آنکھوں پر کبھی دکھ اور تکلیف کے سائے پڑے ہی نہ ہوں۔ آج بھی ان کا یہی عالم ہے۔

منیر نیازی تو اب اس دنیا میں نہیں لیکن اسکی یادیں ہیں کہ آج بھی ذہن پر حملہ آور ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔وہ شخص واقعی سب کو اداس کر گیا ہے ۔۔۔دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی ایک شخص کے بزم سے اٹھ جانے سے دنیا اداس ہوجاتی ہے ۔۔۔ لیکن یہ بھی اسی دنیا کا رنگ ڈھنگ ہے کہ کسی کے چلے جانے کے باوجود دنیاکا کاروبار چلتا رہتا ہے ۔

دراصل منیر نیازی سے ہماری دوستی کی بنیاد جن بھوت‘ چڑیلیں اور آسیب بنے تھے۔ ہم دونوں بیٹھے اپنے بچپن کے واقعات سنا رہے تھے۔ تو معلوم ہوا کہ کم از کم بھوت پریت ہم دونوں میں قدر مشترک ہیں۔ پھر پرانی روایات کا تذکرہ چھڑ گیا۔ پرانی حویلیاں‘ کھنڈرات‘ بے درو بام کی یادگاریں‘ بڑی بوڑھیوں کی داستان گوئی‘ بڑی بڑی حویلیوں کی بھائیں بھائیں۔ اونچے اونچے درختوں کی سائیں سائیں۔ دوپہر کا سنّاٹا‘ جاڑوں کی اداس شامیں‘ پرانے لوگوں کے طور طریقے۔۔۔ یہ سب ہمارے پسندیدہ اور مشترکہ موضوعات نکلے۔

ہم جب بھی اکٹھے ہوتے دیر تک بیٹھے بچپن کے دنوں کی باتیں کرتے رہتے۔ جب ہم اپنے اپنے حصے کے بھوت پریت کے واقعات ختم کر بیٹھے تو ہماری دوستی اور انڈرسٹینڈنگ کا آغاز ہو گیا۔ بچپن کا منیر نیازی پر بہت گہرا اثر ہے۔ اس کی شاعری شدّتِ احساس اور گہرے مشاہدے کی شاعری ہے۔ اس پر اس کا مخصوص انداز بیان۔ وہ ایسی چیزوں کے بارے میں شعر کہتا ہے جنہیں دوسرے عموماً نظرانداز کر دیتے ہیں اور پھر ان کے بارے میں اس کے اظہار کا طریقہ دوسروں سے قطعی مختلف ہوتا ہے۔

ہم نے اپنے ملنے والے اور بے تکلف لوگوں میں دو ایسے آدمی دیکھے جنہوں نے اپنے بچپن کی یادوں اور اس ماحول کو فراموش نہیں کیا۔ ایک منیر نیازی اور دوسرے انتظار حسین۔ دونوں نے اپنی اپنی جگہ شاعری اور افسانہ نگاری میں بہت نام پیدا کیا او اپنے نئے اسلوب اور طرز کے موجد کہلائے۔ مگر منیر نیازی نے ماضی کو یاد ضرور رکھا مگرپس منظر کے طور پر۔ جب کہ انتظار حسین نے خود کو انہی یادوں کے حصار میں قید کر لیا۔ وہ زیادہ تر بیتے دنوں کا ماتم کرتے رہے ۔ منیر نیازی بیتے دنوں کو یاد ضرور کرتے لیکن ان کے کھونے کا نوحہ نہیں کرتے تھے۔ ان کو گم گشتہ جنت کا احساس تو تھا لیکن وہ اس کے پانے کی جستجو میں نہیں لگا رہتاتھا۔ وہ حقیقت پسند تھا اور یہ سمجھتا تھا کہ گئے ہوئے دن واپس لوٹ کر نہیں آئیں گے۔

انتظار حسین کے مانند وہ ہجرت کو یاد کرتا تھا مگر نئی بستیاں بسانے کا بھی آرزومند تھا۔ شاید اس لئے کہ وہ ایک جنگجو پٹھان تھا۔ ہارنے پر یقین نہیں رکھتاتھا۔ لڑ کر جان دینے کا قائل تھا۔

منیر نیازی نے ساری زندگی شاعری کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں کیا تھا۔ یہی اس کا اوڑھنا بچھونا رہا اور یہی ذریعہ معاش۔ اب تو منیر نیازی مرحوم ہوچکے مگرانکی مقبولیت آج بھی قائم ہے، اس کی کتابیں ہاتھوں ہاتھ بک جاتی ہیں۔ منیر نیازی نے اس سے پہلے بھی شاعری کے سوا کوئی کام نہیں کیا۔ وہ کچھ عرصے فلموں سے بھی وابستہ رہے مگر یہ عرصہ بہت کم ہے۔

منیر نیازی نے فلمی دنیا کو کبھی پسند نہیں کیا۔ یہی حال فلمی دنیا کا بھی ہے۔ یعنی ناپسندیدگی دو طرفہ تھا۔ نیازی صاحب کو فلم والوں کی بیشتر باتیں ناپسند تھیں جن کا وہ کھلم کھلا اظہار کرتے رہتے تھے۔(جاری ہے )

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 251 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : فلمی الف لیلیٰ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...