’’ چھ لاکھ احادیث اپنے ہاتھ سے لکھ ڈالیں‘‘وہ زمانہ جب مصنف و محقق کو کتابیں اپنے ہاتھوں سے لکھنا پڑتی تھیں

’’ چھ لاکھ احادیث اپنے ہاتھ سے لکھ ڈالیں‘‘وہ زمانہ جب مصنف و محقق کو کتابیں ...
’’ چھ لاکھ احادیث اپنے ہاتھ سے لکھ ڈالیں‘‘وہ زمانہ جب مصنف و محقق کو کتابیں اپنے ہاتھوں سے لکھنا پڑتی تھیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

فرید نظامی

آج کتاب اور مصنف و محقق کی ناقدری شاید اس وجہ سے ہے کہ اسکو سہولتیں بہت حاصل ہوچکی ہیں۔پرنٹنگ،کمپیوٹر نے اس زمانے میں کتابوں کا وجود اتنا آسان کر دیا ہے کہ اس وقت کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے جو اگلے زمانے میں کتابوں کے بہم پہنچانے میں پیش آتی تھی۔ آج کل عمدہ سے عمدہ کتاب دام خرچ کرنے سے بلا دشواری مل سکتی ہے لیکن پہلے یہ بات کہاں تھی۔ جو بھاری کام اب سیسے اور پتھر نے اٹھا لیا ہے وہ اس وقت کے طلبا کو خود کرنا پڑتا تھا۔ یعنی وہ اپنے واسطے کتابیں خود لکھتے تھے۔ گویا چلنے کے واسطے ان کو سڑک بھی خود بنانا پڑتی تھی۔ شقائق نعمانیہ میں لکھا ہے کہ ابتداء جب علامہ تفتازانی کی تصانیف روم پہنچیں اور اس میں مقبول ہوئیں تو اس کے نسخے دام خرچ کرنے پر بھی نہیں ملتے تھے۔ مجبوراً علامہ شمس الدین کو علاوہ جمعے اور شنبے کی معمولی تعطیلوں کے دو شبنے کی تعطیل مدارس میں مقرر کرنا پڑی ۔ پس ہفتے میں تین دن طلبا کتابیں لکھتے تھے اور چار دن پڑھتے تھے۔ کثرت مشق اور رات دن کے لکھنے نے اگلے لوگوں کو تحریر پر ایسا قادر کر دیا تھا کہ اب ان کی حکایتیں مشکل سے باور ہوتی ہیں۔

حافظ ابن فراث بغدادی نے جب وفات پائی تو کتابوں کے اٹھارہ صندوق چھوڑے۔ جن کتابوں سے اٹھارہ صندوق بھر گئے تھے ان میں سے اکثر خود ان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تھیں۔ خوبی تحریر کی سند اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ محدثین کے نزدیک ان کی لکھی ہوئی کتابیں صحت نقل اور جودت ضبط میں حجت اور سند خیال کی جاتی تھیں۔

سبط ابن جوزی فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے دادا (شیخ ابن جوزی( کو ایک بار سر مبر یہ کہتے سنا کہ میں نے اپنی ان انگلیوں سے دو ہزار جلدیں لکھی ہیں۔ جس شیخ وقت نے ڈھائی سو کتابیں تصنیف کی ہوں، اس کا دو ہزار جلدیں لکھ لینا ناممکن نہیں۔ جن قلموں سے انہوں نے حدیث شریف کی کتابیں لکھی تھیں ان کا تراشہ جمع کرتے گئے تھے۔ جب وفات پانے لگے تو وصیت کی کہ غسل کا پانی اسی تراشے سے گرم کیا جائے۔ چنانچہ ان کے غسل کا پانی اسی ایندھن سے گرم ہوا۔

حضرت یحییٰ بن معینؒ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ میں نے اپنے ہاتھ سے چھ لاکھ حدیثیں لکھی ہیں۔ امام ابو اسامہ کوفی نے ایک سو دس برس کی عمر میں وفات پائی۔ تاہم سلسلہ تحریر آخر عمر تک قائم رہا۔ ان کے بیٹے کا بیان ہے کہ میرے والد نے جب اشعار عرب مدون کئے، تو کچھ اوپر اسی قبائل کا کلام تھا۔ ایک قبیلے کا کلام شائع کر چکتے تو اس کے شکرانے میں ایک نسخہ کلام اللہ کا لکھ کر مسجد میں پہنچا دیتے۔ اس طرح اسی سے زیادہ نسخے کلام پاک کے انہوں نے لکھ کر وقف کر دیئے۔ بعد وفات امام ابوجعفر طبری کی تصانیف کا حساب لگایا گیا۔ تو ابتدائے شباب سے یوم رحلت تک چودہ ورق روزانہ کا اوسط پڑا اور عام تحریر کا اندازہ کیا گیا تو چالیس ورق یومیہ ہوئے۔

حکیم بلمظفر مصری کے حال میں علامہ ابن ابی اصیبعہ لکھتے ہیں ’’عجیب تر یہ بات ہے کہ ان کے کتاب خانے میں ہزاروں کتابیں ہر فن کی تھیں مگر کوئی کتاب کسی فن کی ان کے یہاں ایسی نہیں ملتی جس پر خود ان کے قلم کی کچھ نفیس و نادر باتیں فن کتاب کے مناسب لکھی ہوئی نہ ہوں ۔۔۔چنانچہ میں نے اپنی آنکھ سے بکثرت طب اور دیگر فنون کی کتابیں حکیم مذکور کے کتب خانے کی دیکھی ہیں جن پر ان کا نام اور فوائد متفرقہ متعلق کتاب درج ہیں۔ قوت تحریر پر واقعہ ذیل بھی عمدہ شاہد ہے۔ مفتی قسطنطنیہ ابو سعود رومی نے بارہا ایک ایک دن میں ہزار ہزار رقعوں کا جواب لکھ ڈالا جن میں سے ایک بھی خوبی اسلوب اور حسن معنی کے لحاظ سے گرا ہوا نہیں ہوتا تھا۔

مزید : ادب وثقافت