’وہ سعودی ارب پتی پہلی مرتبہ مجھ سے ملا تو میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے خون سے یہ جملہ میرے بازو پر لکھ دیا‘ سعودی شہری کی لونڈی بن کر رہنے والی معروف مغربی ماڈل نے ایسا انکشاف کردیا کہ جان کر آپ کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا

’وہ سعودی ارب پتی پہلی مرتبہ مجھ سے ملا تو میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے خون سے یہ ...
’وہ سعودی ارب پتی پہلی مرتبہ مجھ سے ملا تو میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے خون سے یہ جملہ میرے بازو پر لکھ دیا‘ سعودی شہری کی لونڈی بن کر رہنے والی معروف مغربی ماڈل نے ایسا انکشاف کردیا کہ جان کر آپ کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کے کھرب پتی اسلحہ ڈیلر عدنان خشوگی کا نام 80ءکی دہائی کے کئی بدنام زمانہ سیاسی سکینڈلز کے ساتھ ساتھ جنسی سکینڈلز کے حوالے سے بھی معروف ہے۔ رواں سال 6جون کو انتقال کرنے والے عدنان خشوگی کی 2بیویاں اور 11لونڈیاں تھیں۔گزشتہ روز اس کی ایک لونڈی نے اس کے متعلق انتہائی حیران کن انکشاف کر دیا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 58سال جل ڈوڈ (Jill Dodd)نامی اس خاتون نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا ہے کہ اس کی عدنان سے ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ محض 21سال کی تھی۔ ان کی ملاقات ایک پارٹی میں ہوئی۔ڈوڈ نے بتایا کہ ”میں پارٹی میں بیٹھی شراب پی رہی تھی۔ اس دوران میں نے محسوس کیا کہ کوئی شخص میری طرف دیکھ کر مسکرا رہا ہے۔ اس کی عمر میرے باپ کے برابر تھی۔ کچھ دیر بعد وہ اٹھ کر میرے پاس آ گیا اور ہم دونوں میں گفتگو شروع ہو گئی تاہم شور کی وجہ سے ہم زیادہ بات نہیں کر سکے۔ پھر اس نے مجھے اپنے ساتھ رقص کرنے کی دعوت دی۔“

’یہ ہماری نمائندہ نہیں‘ مسلمان لڑکی کے مس آسٹریلیا بننے کے بعد غیر مسلموں کے پے در پے حملے، لیکن پھر اس لڑکی نے ایسی بات کہی کہ سب کے منہ بند کردئیے

ڈوڈ کا مزید کہنا تھا کہ ”کچھ دیر رقص کرنے کے بعد ہم ایک کونے میں جا کر بیٹھ گئے جہاں عدنان نے کسی ٹوٹے ہوئے شیشے سے اپنی انگلی کو زخمی کیا اور اپنے خون سے میرے بازو پر ’آئی لو یو‘ لکھ دیا۔ مجھے یہ دیکھ کر ایک جھٹکا لگا۔ یہ حرکت میرے لیے حیرت کا باعث بھی تھی لیکن اس کی اسی حرکت کی وجہ سے میں اس پر فریفتہ ہو گئی۔ پھر اس نے مجھے اپنی لونڈی بننے اور بدلے میں لگژری زندگی دینے کی پیشکش کی۔ اس حوالے سے ہمارے درمیان تحریری معاہدہ ہوا اور میں اس کے ساتھ سعودی عرب چلی گئی اور اس کے ساتھ رہنے لگی، جہاں اس کی دیگر لونڈیاں بھی موجود تھیں۔ یہاں ہماری زندگی بے حد پرتعیش تھی۔ میں اس کے ساتھ سیاستدانوں اور بادشاہوں کی کئی لگژری پارٹیوں میں بھی گئی اور ہم دونوں مل کرتفریح کے لیے کوکین کا استعمال بھی کرتے تھے۔ جب میری باری ہوتی تو وہ میرے پاس آتا اور ہم کئی کئی دن کے لیے خود کو کمرے میں بند کر لیتے۔ باورچی ہمیں کمرے میں ہی کھانا پہنچا دیا کرتے تھے۔میں آج بھی یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ مجھے اس سے محبت تھی۔ وہ بہت عظیم آدمی اور بہترین محبت کرنے والا تھا۔ ہمیشہ ہمارا تعلق بہت خوبصورت اور باہمی رضامندی پر مبنی رہا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس