سعودی حکومت شاہی خاندان کے ہر شہزادے کو ماہانہ کتنا وظیفہ دیتی ہے؟ جان کر آپ کی حیرت اور پریشانی کی کوئی حد نہ رہے گی

سعودی حکومت شاہی خاندان کے ہر شہزادے کو ماہانہ کتنا وظیفہ دیتی ہے؟ جان کر آپ ...

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں آج بھی بادشاہت کا دور چل رہا ہے۔ یہ بادشاہت نا صرف بہت طاقتور ہے بلکہ اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ شاہی خاندان بے حد وسیع ہے، اتنا وسیع کہ شہزادوں اور شہزادیوں کی مجموعی تعداد درجنوں یا سینکڑوں میں نہیں بلکہ ہزاروں میں ہے۔ شاہی خاندان کے افراد اگرچہ بہت بڑی تعداد میں ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے پاس دولت کی ہرگز کوئی کمی نہیں کیونکہ ان کے آرام و آسائش کا خا ص خیال رکھا جاتا ہے۔ ان شہزادوں اور شہزادیوں کی ناز برداری کا نظام کس طرح کام کرتا ہے، اس کے بارے میں وکی لیکس کو حاصل ہونے والی خفیہ امریکی سفارتی خط و کتابت میں انتہائی حیرتناک انکشافات سامنے آ چکے ہیں۔

خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق یہ انکشافات ان خفیہ امریکی سفارتی کیبلز کی صورت میں سامنے آئے جن کا تعلق 1996ءاور بعد کے چند سالوں کے دور سے ہے۔ ان سفارتی دستاویزات سے شاہی خاندان کیلئے قائم کئے گئے رائل ویلفیئر پروگرام کی بہت سی تفصیلات کا پتہ چلتا ہے۔

جہنم کا دروازہ؟ سعودی عرب میں سینکڑوں سال پہلے بنائے گئے پتھر کے دروازے مل گئے، یہ کس جگہ پر لگے ہوئے ملے؟ ایسا انکشاف کہ پوری دنیا میں کھلبلی مچ گئی

اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ شاہی خاندان کے افراد کو نہ صرف بھاری وظائف ملتے ہیں بلکہ وہ کئی طرح کی سکیموں سے بھی بھاری رقوم حاصل کرتے ہیں، جن میں بالائے بجٹ فنڈز، کفالہ سسٹم اور بینکوں سے حاصل کئے جانے والے قرضہ جات بھی شامل ہیں۔ سال 2007ءکی ایک سفارتی کیبل کے مطابق شاہ عبداللہ نے اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے کچھ اقدامات کئے لیکن مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں احتجاجی تحریکوں کے سر اٹھانے کے بعد سعودی عرب میں اصلاحات کی یہ کوششیں متاثر ہوئیں۔

سال1996ءکی ایک سفارتی کیبل کے مطابق سعودی خاندان سے تعلق رکھنے والے شہزادوں اور شہزادیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جنہیں ملنے والی رقوم کا سب سے بڑا ذریعہ ماہانہ وظائف ہیں۔ 1990ءکی دہائی میں شاہی خاندان کے کمتر رتبے کے افراد کے لئے تقریباً 800ڈالر ماہانہ (تقریباً 80 ہزار پاکستانی روپے) سے لے کر اعلیٰ رتبے کے افراد کیلئے دو لاکھ 70 ہزار ڈالر (تقریباً پونے تین کروڑ پاکستانی روپے ) ماہانہ کے وظائف دئیے جارہے تھے۔ شاہی خاندان کی تیسری نسل کے شہزادے اور شہزادیوں کو 27ہزار ڈالر ماہانہ دئیے جارہے تھے جبکہ چوتھی نسل کے افراد کو 13ہزار ڈالر اور پانچویں نسل کے افراد کو 8ہزار ڈالر (تقریبا 8 لاکھ پاکستانی روپے) ماہانہ دئیے جارہے تھے۔ شادی اور محلات کی تعمیر کیلئے بونس بھی دئیے جارہے تھے جن کا سالانہ مجموعی حجم 2ارب ڈالر (تقریباً 2 کھرب پاکستانی روپے) تھا۔ شاہی خاندان کے افراد کے لئے ان وظائف کا آغاز پیدائش کے وقت سے ہی ہوجاتا ہے۔

’میں آپ کو چیلنج دیتا ہوں کہ۔۔۔‘ دبئی کے شہزادے نے اپنے ہی شہریوں کو چیلنج دے دیا، مگر کیا کام کرنے کا؟ جان کر آپ بھی داد دیں گے

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بھاری وظائف بھی اکثر شہزادوں اور شہزادیوں کیلئے کافی نہیں تھے لہٰذا وہ دیگر ذرائع سے دولت کا حصول جاری رکھتے۔ ایک سعودی شہزادے کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا کہ یومیہ 10لاکھ بیرل تیل کی آمدنی صرف پانچ سے چھ شہزادوں کو جارہی تھی۔ مملکت کی درجن بھر کمرشل بینکوں سے بھاری قرض لینا اور پھر واپس نہ کرنا بھی شہزادگان کے لئے حصول دولت کا ایک بڑا ذریعہ تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ تمام اعدادوشمار سعودی عرب میں موجود امریکی سفارتکاروں نے جمع کئے اور یہ تفصیلات خفیہ سفارتی کیبلز کی صورت میں امریکی حکام کے سامنے پیش کی گئیں۔ سال 2007ءمیں بھیجی گئی ایک کیبل کے مطابق کنگ عبداللہ نے اس صورتحال کو بدلنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کیں، جس پر انہیں شاہی خاندان کے بہت سے شہزادگان کی ناراضی کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔ ایک امریکی سفیر نے لکھا ”کنگ عبداللہ نے مبینہ طور پر اپنے بھائیوں سے کہا ہے کہ میری عمر اب 80 سال سے زائد ہے اور میں اپنے یوم حساب کی جانب کندھوں پر کرپشن کا بوجھ اٹھائے ہوئے نہیں بڑھنا چاہتا۔“

مزید : عرب دنیا

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...