چیئرمین واپڈاکے تقرر کا موجوہ طریقہ کار آئینی اصولوں کے منافی ،پالیسی کے لئے عدالت رہنمااصول فراہم کرے گی :چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کافیصلہ

چیئرمین واپڈاکے تقرر کا موجوہ طریقہ کار آئینی اصولوں کے منافی ،پالیسی کے لئے ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے چیئرمین واپڈا اور ممبران کی تعیناتیوں کے موجودہ طریقہ کارکو آئینی اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ ان تقرریوں کے حوالے سے عدالت راہنمااصول فراہم کرے گی جن کی روشنی میں پالیسی وضع کی جائے اورنئے مجوزہ طریقہ کار کے تحت چیئرمین اور ممبران کی تعیناتیوں کا عمل 6 ماہ کے عرصہ میں مکمل کیا جائے۔عدالت نے یہ حکم آصف کھوکھر نامی شہری کی درخواست پر جاری کیا ۔

سابق وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کی گرفتاری،نیب کا اعلامیہ جاری

فاضل جج نے قراردیا کہ چیئرمین واپڈا اور ممبران کے تقرر کاموجودہ طریقہ کار شفافیت کے آئینی اصولوں کے منافی ہے اس لئے عدالت حکومت کو رہنمااصول فراہم کرے گی جس کے مطابق حکومت ان تعیناتیوں کے طریقہ کار کے بارے میں قواعد وضوابط اور پالیسی وضع کرکے اس بابت رپورٹ پیش کرے ۔فاضل جج نے مزید قرار دیا کہ آئندہ تاریخ سماعت پر 14نومبر کو یہ راہنما اصول حکومت کو فراہم کردیئے جائیں گے ۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ 60برسوں میں واپڈا کے23چیئرمین تبدیل ہوئے مگر آج تک تعیناتیوں کا طریقہ کار نہیں بنایا جاسکا،آئین کی محافظ کے طور پر اب عدالت اپنا کردار اداکرے گی ۔درخواست گزارکے وکیل سید مجیب الحسن نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت نے چیئرمین واپڈا،ممبر فنانس اور ممبر واٹرکو قوانین اور میرٹ کے برعکس تعینات کیا۔چیئرمین واپڈا نے نیلم جہلم پراجیکٹ میں استعمال ہونے والی اربوں روپے کی قابل استعمال ٹنل بورنگ مشین کو فرسودہ قرار دے کر کھڑا کر رکھا ہے جس سے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تعیناتیوں سے متعلق طریقہ کار موجود نہیں ہے،چیئرمین واپڈا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چیئرمین واپڈا نے ایک سال کے عرصے میں تیز رفتاری سے درجنوں منصوبے مکمل کئے ہیں جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ چیئرمین واپڈا کے عہدے کی معیاد میں چار برس باقی ہیں، عدالت نئے چیئرمین اور ممبران کی تعیناتیوں سے متعلق طریقہ کار وضع کرنے کے لئے راہنمائی فراہم کر دے گی،عدالتی گائیڈ لائن کی روشنی میں شفاف طریقہ کار کے تحت چیئرمین اور ممبران کی تعیناتیوں کے عمل کو6 ماہ کے عرصہ میں مکمل کیا جائے،عدالت نے قراردیا کہ موجودہ چیئرمین واپڈا بھی نئی تعیناتی کے لئے درخواست دے سکیں گے ، عدالت اس بات سے آگاہ ہے کہ موجودہ چیئرمین کی تعیناتی کے لئے کابینہ سے منظوری کے لئے ایک ہی نام بھجوایا گیا،چیئرمین واپڈا جیسے بڑے عہدوں پر طریقہ کار موجود نہ ہونے کے باعث تعیناتیاں کر دی گئیں اور شفافیت کو برقرار رکھنے کے لئے 1958ءکے پرانے قانون کو تبدیل کرنا گوارا نہیں کیا گیا،اس کیس کی مزید سماعت 14نومبر کو ہوگی اوراس روز عدالت راہنما اصول فراہم کرے گی ،چیف جسٹس نے عندیہ دیا کہ راہنما اصولوں کی فراہمی کے بعد حکومت کو قواعد وضوابط بنانے اور پالیسی وضع کرنے کے لئے مناسب وقت دیا جائے گا ۔

مزید : لاہور

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...