سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود اردو زبان کوسرکاری سطح پر رائج نہ کرنے کے خلاف درخواست پرجواب طلب

سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود اردو زبان کوسرکاری سطح پر رائج نہ کرنے کے خلاف ...
سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود اردو زبان کوسرکاری سطح پر رائج نہ کرنے کے خلاف درخواست پرجواب طلب

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود اردو زبان کو سرکاری سطح پر رائج نہ کرنے کے خلاف درخواست پر ڈائریکٹر جنرل مقتدرہ قومی زبان اور سیکرٹری سکولز ایجوکیشن پنجاب کو جواب سمیت طلب کر لیاہے۔

پنجاب حکومت کی56کمپنیوں میں 80ارب روپے کی کرپشن ،لاہورہائی کورٹ میں درخواست دائر

درخواست گزار نفاذ اردو فورم کے وکیل اے کے ڈوگر نے عدالت کو بتایاکہ سپریم کورٹ نے اردو زبان سرکاری سطح پر رائج کرنے کا حکم دیا تھا لیکن حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے لئے کچھ نہیں کر رہی جو عدالتی فیصلے سے انحراف کے مترادف ہے،انہوں نے کہا کہ غیر ملکی زبان کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے سے قوم کی ذہنی نشوونما بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔دنیا کی تمام تر اقوام نے اپنی قومی زبان کو رائج کر کے ترقی کی منازل طے کیں۔اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج نہ کر کے آئین پاکستان اور عدالتی فیصلے کی سنگین خلاف ورزی کی جا رہی ہے،سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت اردو زبان کی ترویج کے لئے اقدامات کر رہی ہے،بہت سارے قانون اردو زبان میں تراجم کئے جا رہے ہیں، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اردو زبان نافذ کرنے کے لئے تکنیکی طور پرچاہے دہائیاں درکار ہوںسپریم کورٹ کے فیصلہ پرعملدرآمد کرنا پڑے گا،وفاقی حکومت بتائے کہ اردو زبان نافذ کرنے کے لئے کیااقدامات کر رہی ہے؟ عدالت نے مزیدسماعت کے لئے 14نومبر کی تاریخ مقرر کی ہے ۔

مزید : لاہور