انتظامیہ عدالتی بجٹ کیسے بناسکتی ہے؟چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کورٹ فیس سے ہونے والی آمدنی کا ریکارڈ طلب کرلیا

انتظامیہ عدالتی بجٹ کیسے بناسکتی ہے؟چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کورٹ فیس سے ...
انتظامیہ عدالتی بجٹ کیسے بناسکتی ہے؟چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کورٹ فیس سے ہونے والی آمدنی کا ریکارڈ طلب کرلیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے حکومت کورٹ فیس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ریکارڈ طلب کر تے ہوئے قراردیا کہ عدالتی بجٹ بنانا عدلیہ کا کام ہے ،انتظامیہ عدالتی بجٹ کیسے بنا سکتی ہے ؟چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے سابق سیشن جج جاوید رشید محبوبی کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران مزید ریمارکس دیئے کہ آئین کے تحت عدلیہ خودمختار ادارہ ہے، آئین کی منشاکے منافی کسی قانون کا عدلیہ پراطلاق نہیں کیا جا سکتا ہے۔

پنجاب حکومت کی56کمپنیوں میں 80ارب روپے کی کرپشن ،لاہورہائی کورٹ میں درخواست دائر

درخواست گزار کی طرف سے موقف اختیار کیاگیا کہ ضلعی عدلیہ کے سابق ججوں کی پنشن میں جوڈیشل الاﺅنس کوشامل نہیں کیا جاتاجو کہ امتیازی سلوک ہے،وفاقی حکومت اور حکومت پنجاب کی جانب سے سرکاری وکلاءنے عدالت کو آگاہ کیا کہ فنڈز محدود ہونے کی وجہ سے جوڈیشل الاﺅنس کوپنشن میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔آئین کے آرٹیکل 120کے تحت فنڈز جاری کرنا صوبائی حکومت کا اختیار ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئین کے تحت عدلیہ انتظامیہ سے الگ اور خود مختار ادارہ ہے ،1994ءکے سروس رولز کے تحت عدلیہ کو چلانے کا اختیار چیف جسٹس کو دیا گیا ،حکومت جوڈیشل افسروں کو کس قانون کے تحت سول سرونٹ شمار کرتی ہے ؟ جس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ ہائیکورٹ نے سول سروس سے متعلق بعض قوانین کو اختیار کر رکھا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جن قوانین میں حکومت کے اختیار کی وضاحت موجود نہیں ان کے تحت انتظامیہ اپنا اختیار کیسے استعمال کر سکتی ہے، عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ عدالتی بجٹ انتظامیہ کیسے بنا سکتی ہے؟عدالتی بجٹ بناناعدلیہ کاکام ہے حکومت اس میں جتنی چاہے کٹوتی کرے،عدلیہ تو کورٹ فیس کی مد میں پہلے ہی حکومت کو کما کر دے رہی ہے، عدلیہ سے متعلق نافذ قوانین سے متعلق عدالت کو معاونت فراہم کی جائے تاکہ انتظامیہ اور عدلیہ کو تفویض کئے جانے والے اختیارات واضح ہو سکیں،عدالت نے کیس کی مزید سماعت یکم نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

مزید : لاہور