3میں سے ایک خاتون تشدد کا شکار ہے،خواتین کی الگ عدالت کے افتتاح کے موقع پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا خطاب

3میں سے ایک خاتون تشدد کا شکار ہے،خواتین کی الگ عدالت کے افتتاح کے موقع پر چیف ...
3میں سے ایک خاتون تشدد کا شکار ہے،خواتین کی الگ عدالت کے افتتاح کے موقع پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا خطاب

لاہور(نامہ نگار )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ جینڈر بیسڈ وائیلنس کیسز کو سمجھنے کے لئے ہمیں اپنی ماﺅں ، بہنوں اور بیٹیوں کو اپنے ذہن میں رکھ کر سوچناہوگا ،عورت وہ صنف ہے جو ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ کمزور ہے جسے جنسی، جسمانی، ذہنی اور معاشی تشدد کا سامنا ہے اور ہمارے صوبے میں ہر 3میں سے ایک خاتون کسی ایسے ہی تشدد کا شکار ہے۔

پنجاب حکومت کی56کمپنیوں میں 80ارب روپے کی کرپشن ،لاہورہائی کورٹ میں درخواست دائر

چیف جسٹس نے ان خیالات کا اظہار لاہور سیشن کورٹ میں پنجاب کی پہلی جینڈر بیسڈ وائیلنس کیسز کورٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سردار محمد شمیم خان، جسٹس محمد قاسم خان ، جسٹس عالیہ نیلم، رجسٹرار سید خورشید انور رضوی، ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری محمد اکمل خان، ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی ماہ رخ عزیز ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور عابد حسین قریشی، صدر لاہور بار ایسوسی ایشن چودھری تنویر اختر سمیت جوڈیشل آفیسرز اور وکلاءکی بڑی تعداد موجود تھی۔چیف جسٹس نے کہا کہ آج کا یہ دن ہماری ماﺅں بہنوں اور بیٹیوں کے نام ہے جو ہماری آبادی کا 50فیصد ہیں۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ آج سے کچھ ماہ پہلے ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے کچھ نمائندوں بشمول ساﺅتھ آسٹریلیا کی سپریم کورٹ کی سابق جج رابن لیٹن اور مسں ارم نے مجھ سے ملاقات کی اور ججز کی صنفی حساسیت کے موضوع پر ٹریننگ کی درخواست کی اوراسی تسلسل میں ٹریننگ کا پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں آغا ذ ہوا، دوسری وومن ججز کانفرنس میں اس بات کا اعلان کیا گیا کہ عنقریب جینڈر کورٹ کا آغاز کیا جائے گا، جینڈر بیسڈ وائیلنس کیسز کورٹ سلمان اکرم راجہ کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے جاری ہدایات، انٹر نیشنل پریکٹسز اور دیگر ممالک کے کورٹس کو مدنظر رکھ کر بنائی گئی ہے، جس کی بہت اشد ضرورت تھی۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ عورت کو معاشرے میں بہت مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن جب وہی عورت کوئی شکایت لے کر عدالت آتی ہے تواسے یہاں بھی ایسے ہی ماحول کا سامنا کرنا پڑے تو یقیناََ ہم ناکام ہوگئے ، ہمارا نظام مکمل فیل ہوگیا۔ عدالت تو وہ جگہ ہوتی ہے جہاں سائلین تحفظ محسوس کرتے ہیں، انصاف کی امید رکھتے ہیں لیکن اگر عدالتوں میں ہی احساس تحفظ اور انصاف کی امید نہ رہے تو لوگ کہاں جائیںگے۔فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی واضع ہدایات موجود ہیں لیکن2013 سے ابتک اس فیصلے پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ لیکن ہم جسٹس رابن لیٹن کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہم نے یہ احساس ذمہ داری پیدا کیا اور اسی احساس ذمہ داری کو ذہن میں رکھتے ہوئے آج ایک ایسی عدالت کا آغاذ کیا جارہا ہے جہاں خواتین اپنے اوپر ہونے والے تشدد کے خلاف احساس تحفظ اورآزادی کے ساتھ آوازبلند کر سکیںگی اور کسی بھی قسم کے تشدد کی شکار متاثرہ خاتون پرسکون اورپر تحفظ ماحول میں اپنا بیان ریکارڈ کروا سکے گی اور خواتین دوسرے کمرے میں بیٹھ کر ویڈیو لنک کے ذریعے بھی بیانات ریکارڈ کروا سکیں گی۔چیف جسٹس نے کہا سیشن کورٹ لاہور عابد حسین قریشی بھی مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے صرف ایک ہفتے میں ایسی کورٹ کے قیام کو یقینی بنایا اور بہت جلد بچوں کےلئے بھی ایک ایسی ہی ماڈل کورٹ بنائی جائے گی۔انہوں نے کہا ہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ہم نے کوئی نظام تبدیل نہیں کیا بس جدید طریقے اپنائے ہیں، اب بارکو بھی اس میں اپنامثبت کردار ادا کرتے ہوئے ہمارا ساتھ دینا ہے۔ یہ ادارہ ہمارے لئے ماں کا درجہ رکھتا ہے اور ججز اور وکلاءکا اسی ادارے سے وابسطہ ہے۔ ہمیں لوگوں کو انصاف تک آسان رسائی ممکن بنانا ہے، ہمارسارا دن کام کرنے کا مقصد دعائیں لینا ہوتا ہے اور اس عدالت سے انصاف لینے والی خواتین ہمیں ڈھیروں دعائیں دیں گی۔ ان کا کہنا تھا خود کو تبدیل کرنے کےلئے زندگی میں ایسے مواقع بہت کم آتے ہیں، ہمیں اس سے استفادہ کرنا چاہیے، ہمیں اس تبدیلی میں اپنا اپنا حصہ ڈالناہے۔ فاضل چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جینڈ سٹڈیزہمارے لئے بہت ضروری ہو چکی ہے۔ پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میںججزکو جینڈر سٹڈیز پر تربیتی کورسز کروائے جارہے ہیں، ہم بار سے بھی کہتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے اپنا پروگرام تشکیل دیں ، ہم ہر طرح کے تربیتی کورسز کروانے کےلئے تیار ہیں۔ قبل ازیں تقریب سے جسٹس عالیہ نیلم کا کہناتھا کہ ماڈل کورٹ میں خواتین بغیر کسی خوف کے اپنا بیان قلمبند کرا سکیں گی ، انہوں نے کہا کہ میری چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ اس طرح کے ماڈل کورٹ بچوں کے مقدمات کےلئے بھی ھونے چاہیں۔ جینڈر سٹڈیز کی بین الاقوامی ماہر جسٹس رابن لیٹن نے اس موقع کو پاکستان کےلئے تاریخ ساز قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختصر عرصہ میں ایسی کورٹ کے قیام پر تمام سٹیک ہولڈرز بشمول پولیسں، وکلاء، پراسیکیوٹر ز اور عدلیہ کا شکریہ ادا کرتی ھوں۔ صدر لاہور بار چوہدری تنویر اختر نے سائیلین کو انصاف کی باہم فراہمی کے سلسلے میں چیف جسٹں کی کاوشوں بشمول مصالحتی نظام اور ماڈل کورٹس کو سرا ہتے ہوئے جینڈر کورٹ کے قیام کو انہی کوششوں کی ایک کڑی قرار دیا۔ان کا کہناتھا کہ جینڈر کورٹ کے قیام سے سائیلین کو نہ صرف انصاف ملے گا بلکہ اس سے کرائم بھی کم ھو گا، بار کے صدر نے کہا کہ پوری ڈسٹرکٹ بار کی کابینہ اور کریمنل لاءکے وکلاءنے ڈسٹرکٹ اور سیشن سے ملاقات کی اور ماڈل کورٹ کو کامیاب کرنے میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور عابد عزیز قریشی نے کہا کہ جینڈر بیسیڈ وائیلنس کیسز کورٹ پنجاب کی پہلی ماڈل کورٹ ہے جہاں گھریلو ، جنسی ، نفسیاتی تشدد اور تیزاب گردی کے کیسز کی سماعت ھو گی۔ ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی ماہ رخ عزیز نے اس موقع پر کہا کہ خواتین پاکستان کی کل آبادی کا تقریبا 50 فیصد ہیں۔دوسری وومن ججز کانفرنس کی گزارشات میں سے ایک جینڈر بیسڈ وائلنس کیسز کورٹ کا قیام تھا اتنے قلیل وقت صرف سات دن اس کا قیام ایک خواب لگتا ہے۔سپریم کورٹ کی گائیڈ لائن کی روشنی میں اس کاقیام خوش آئند ہے۔

مزید : لاہور

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...