نصرت بھٹو:مادر جمہوریت ،نشان پاکستان

نصرت بھٹو:مادر جمہوریت ،نشان پاکستان

بیگم نصرت بھٹو عزم واستقلال کا پیکر اور غیر جمہوری قوتوں کے خلاف مزاحمت کی علامت تھیں، انہوں نے جنرل ضیاء الحق کے بدترین مظالم کا جس جرأت و بہادری سے مقابلہ کیا وہ ایک شاندار مثال ہے۔ مسلسل قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن سر نہیں جھکایا۔ بیگم صاحبہ نے اپنے کارکنوں کوپیغام دیا تھا کہ ہمارے سرکٹ تو سکتے ہیں لیکن جھک نہیں سکتے۔

بیگم نصرت بھٹو ایک دردمند اور عظیم خاتون تھیں۔ وہ نہایت شفیق، غمگسار، بلند ہمت اور جرأت مند تھیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی سربراہ کے طور پر کارکنوں کا بہت خیال رکھتی تھیں،ان کے ذاتی مسائل میں دلچسپی لیتی تھیں اور حتی المقدور مدد کرتیں۔ کارکنوں کو پارٹی کا اثاثہ سمجھتی تھیں اور پیپلزپارٹی کے کارکن بھی بیگم صاحبہ کا بے حد احترام کرتے تھے۔ ان کی زندگی دکھوں اور غموں کی کہانی ہے۔ زندگی کی آخری دہائی مشکل ترین اور اذیت ناک تھی، یادداشت ساتھ چھوڑ گئی تھی، نہ کسی کو پہچانتی تھیں اور نہ ہی بات کرسکتی تھیں، انہیں یہ تک پتہ نہیں تھا کہ بیٹی بے نظیر اور اس کے بچے نواسا اور نواسیاں ان کے پاس بیٹھے ہیں، ان پر کیا گزررہی ہے۔

وہ اس کا اظہار ہی نہیں کرسکتی تھیں۔ ایک عظیم اور باوقار ملک کی سابق خاتون اول کو دیکھ کر ان کی پیاری اولاد کی جوکیفیت تھی اس سے وہ بے خبر تھیں۔ دبئی میں بیٹی بے نظیر کا گھر ان کا مسکن تھا۔ وہ خادماؤں کے سہارے زندگی کے دن بسر کررہی تھیں۔ بی بی ایک فرض شناس بیٹی کی طرح ان کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔ بی بی ڈنر ٹیبل پر بیگم صاحبہ کو اپنے اور بلاول کے ساتھ بٹھاتی تھیں۔ بختاور اور آصفہ میز کے دوسری طرف سامنے بیٹھتی تھیں۔ بیگم صاحبہ کو کھانا خادمہ کھلاتی تھی۔ بی بی کا معمول تھا کہ کھانے کے بعد بیگم صاحبہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کافی دیر تک ان سے باتیں کیا کرتی تھیں۔ اس کا جواب بیگم صاحبہ کی خاموشی ہوتی۔

بیگم صاحبہ کی کتابِ زندگی کا یہ دردناک ترین باب تھا۔ بی بی کا اپنی والدہ سے ہم کلامی کا یہ رشتہ تکلیف دہ ہونے کے باوجود قدرے اطمینان کا باعث تھا۔ بی بی نے جس طرح ان کی خدمت کی، بلاشبہ انہوں نے ماں کے قدموں تلے جنت میں جگہ بنالی۔قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کی قید کے دوران بیگم نصرت بھٹو کو پارٹی کا قائم مقام چیئرمین بنا دیا گیا وہ بطور چیئرپرسن مارشل لأ کے خلاف سینہ سپر ہوگئیں اور بے مثال جرأت و بہادری کے ساتھ عوام کے جمہوری حقوق کی آواز بلند کی۔ انہیں اس جمہوری و عوامی جدوجہد سے روکنے کے لئے جیل اور گھر میں قید کر دیا گیا مگر اس بہادر خاتون نے مضبوط اعصاب کے ساتھ تمام مشکلات و مصائب برداشت کئے۔کارکنوں نے بھی اپنی قائد کی پیروی کرتے ہوئے اس جمہوری جدوجہد میں بہادری کے نئے باب رقم کئے اور اپنے کردار و عمل سے پاکستان پیپلزپارٹی کا پرچم سر بلند رکھا۔

انہیں یہ طاقت بیگم صاحبہ کی ولولہ انگیز اور بے خوف قیادت سے ملی۔ لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں بیگم صاحبہ پر تشدد کیا گیا اور زخمی بیگم بھٹو کی یہ تصویر بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہوئی جس سے بیگم نصرت بھٹو پر دوسرے درجہ کا ذہنی تشدد کیا گیا، ان کی جواں سال بیٹی بے نظیر بھٹو کو قید اور نظربند کرکے علیحدہ رکھاگیا۔ بے نظیر بھٹو کو سکھر جیل میں شدید گرمی میں رکھا گیا۔ انہوں نے یہ سب کچھ برداشت کیا اور عزم اور ولولے کے ساتھ جنرل ضیاء الحق کے جبر کو چیلنج کر کے ان کی نیندیں حرام کر دیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پھانسی کی کوٹھڑی سے میرمرتضی بھٹو کے نام خط میں بیگم صاحبہ اور بے نظیر بھٹو کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا،’’ان بدترین حالات میں، جن سے ہم پہلے کبھی نہیں گزرے، آپ کی والدہ اور ہمشیرہ میرے لئے قوت کا ایک شاندار ستون ہیں۔

میں سمجھتا ہوں ان کی شاندار مجاہدانہ مدد کے بغیر حالات میرے لئے مشکل ہی نہیں ناممکن بن جاتے۔ عدالتوں اورانتظامیہ میں میرے لئے کوئی انصاف نہیں، صرف اللہ تعالی اور عوام کے ہاتھ میں میری زندگی ہے‘‘۔

بیگم صاحبہ نے اپنے دونوں جلاوطن بیٹوں میر مرتضی بھٹو اور شاہ نواز بھٹو کی جدائی کا غم بھی برداشت کیا۔ بیگم صاحبہ طویل قید کے دوران پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا ہوئیں۔ وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہیں۔ آخرکار بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے انہیں علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی گئی۔ بیگم صاحبہ 22نومبر1982ء کو جرمنی کے شہر میونخ پہنچیں۔ ان کی صحت بے حد تشویشناک تھی، وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ دکھائی دیتی تھیں۔ بیگم نصرت بھٹو نے اپنی شدید علالت کے باوجود یورپی ملکوں سے آئے ہوئے پارٹی ورکروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان کے حکمرانوں نے ملک میں روایتی ظالمانہ ہتھکنڈوں سے عوام کی جو تذلیل کی ہے، پاکستان کی تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی ۔خیبر سے کیماڑی تک ہر جگہ کوڑوں کی بھرمار ہے،

ملک کی جیلیں سیاسی کارکنوں سے بھری پڑی ہیں اور ایک ظالم جنرل من مانی کر رہا ہے۔ اس غیر آئینی فوجی حکومت کے خاتمے ہی میں ملک کی بقا ہے۔ اس لئے پاکستان کے عوام کو چاہئے کہ وہ اندرون ملک اور بیرون ملک مارشل لأ کے خاتمے انسانی حقوق اور آئین و جمہوریت کی بحالی کے لئے آگے بڑھیں اور مارشل لا کی پابندیوں کی پروا کئے بغیر سراپا احتجاج بن جائیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکنوں اور دیگر جمہوریت پسند پاکستانیوں کا یہ فرض ہے کہ ملک میں مارشل لأ کے بظاہر مضبوط لیکن اندر سے کھوکھلے ستونوں کو آخری ٹھوکر لگا کر زمین بوس کردیں۔

بیگم نصرت بھٹو آج دنیا میں نہیں لیکن ان کی یاد پاکستان پیپلز پارٹی کے ہر کارکن اور جمہوریت سے محبت کرنے والے ہر پاکستانی کے دل میں بسی ہے ۔ قوم کا ہر فرد ان کی ماں کی طرح عزت کرتا ہے، اس لیے بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ بیگم نصرت بھٹو واقعی نشانِ پاکستان اور مادر جمہوریت ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔آمریت کے خلاف جمہوریت کی جنگ کا علم اب آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو نے تھام رکھا ہے۔پیپلزپارٹی اور بھٹو خاندان آج بھی آمریت پسندانہ مخصوص مائنڈ سیٹ کے خلاف مزاحمت کا زندہ استعارہ بن کر میدان عمل میں برسرپیکار ہیں۔

مزید : رائے /کالم