حالات بہت سخت ہیں

حالات بہت سخت ہیں
حالات بہت سخت ہیں

  

گزشتہ کئی عشروں سے پاکستان میں عام لوگوں کے لئے زندگی گزارنا بہت ہی مشکل رہا ہے، حالانکہ حکمران ملک کے نام پر قرضے ہی قرضے لئے چلے جارہے تھے ۔ عام لوگ دو یا تین گروہوں میں تقسیم کئے جاسکتے ہیں۔ ایک طبقہ وہ ہے جو روزانہ محنت مزدوری کرکے اپنے لئے روزی کماتاہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو کہیں نہ کہیں بہت کم اجرت کے عوض اپنی روزی کا انتظام کرتا ہے اور تیسرا طبقہ وہ ہے جو آج کل ایک لاکھ روپے ماہانہ کماتا ہے۔ وہ ملازمت پیشہ شخص ہو یا دوکاندار یا تاجر۔ ان تینوں طبقات کے لئے زندگی انگریز کے دور میں اطمینان بخش تھی۔ قیام پاکستان کے بعد کئی سالوں تک معمولات اس لحاظ سے بہتر تھے کہ زندگی گزر رہی تھی۔

آج ہی نہیں، بلکہ گزشتہ کئی سالوں سے یہ زندگی گزارنا ایک مشکل عمل ہو گیا ہے اور آج تو پاکستان میں اگر کسی کے پاس پیسے نہیں ہیں تومعمول کی زندگی گزارنا ممکن ہی نہیں ہے،کیونکہ کرایہ کے گھر کا کرایہ ادا کرنے کی پوزیشن ہی میں نہیں ہوتے۔ علاج معالجہ کی سرکاری سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں، حالانکہ حکومتیں سہولتوں کی فراہمی کے لئے پیسے فراہم کرتی ہیں لیکن حکومتوں کے کارندے (وزراء سمیت) کسی نہ کسی عنوان سے غبن کے مرتکب ہوتے ہیں۔ بچوں کی تعلیم کا سرکاری اسکولوں میں معیار ایسا نہیں کہ بڑے سرکاری عہدیدار یا اراکین اسمبلی اپنے بچوں کو تعلیم دلانے سے اجتناب برتتے ہیں۔ شہروں کے اندر اور ایک شہر سے دوسرے شہر جانا عام لوگوں کے بس کی بات نہیں رہی ہے۔ حکومتوں نے پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کے بارے میں کبھی سنجیدگی سے غور ہی نہیں کیا۔ اونچی سطح پر موجود ماہرین معیشت کو نیچی سطح پر پیدا ہونے والی غربت کا احساس ہی نہیں ہوتا۔

سوائے اس کے غربت ختم کرنے کے منصوبے بنائے گئے، لیکن ان سے مطلوبہ نتائج بر آمد ہی نہیں ہوئے۔ اربوں کھربوں روپے غریبوں میں مختلف عنوان سے تقسیم کردینے سے غربت کا خاتمہ کیوں ممکن ہے۔ ان بھاری رقموں سے ذرائع پیدا وار بڑھانا ضروری تھا، جس پر کسی نہ کسی وجہ سے توجہ ہی نہیں دی گئی۔ ذرائع پیدا وار بڑھائے جاتے تو لوگوں کے لئے آمدنی کا سلسلہ جاری رہ سکتا تھا۔ اس مسلسل عدم توجہ سے یہ ہی صورت حال پیدا ہونا تھی، جن معاشروں میں عدم توازن ہو، جہاں ملکی وسائل پر کسی مخصوص طبقہ کی گرفت ہو وہاں جلد یا بدیر معاشی مشکلات پیدا ہونا لازمی ہوتا ہے۔

ایسی صورت میں پاکستانی آج کل جس صورت حال سے دوچار ہیں وہ اذیت ناک ہے۔ بے روزگاری کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ اکثر بڑے اور چھوٹے ادارے ملازمین کو جواب دے رہے ہیں یا ملازمین کی تن خواہیں کم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ مہنگائی کا طوفان برپا ہے۔ آمدنی قلیل سے قلیل ہوتی جا رہی ہے۔ اخراجات میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ ایسے میں حکومت عام لوگوں کو یہ باور کرانے میں مصروف ہے کہ سخت حالات آئندہ تین سال تو رہیں گے،جن کے پاس پونجی ہے ان کے لئے تو امتحان نہیں ہے لیکن جو وسائل سے محروم ہیں ان کے لئے تو یہ کسی عذاب سے کم نہیں ہے۔

گزشتہ سالوں میں ملک کی معیشت جہاں پہنچ گئی ہے اس کے پیش نظر تو یہ ہی سب کچھ ہونا ہے جس کا سامنا ہے۔ کیا یہ حیران کن بات نہیں ہے کہ معیشت کا پہیہ رک سا گیا ہے۔ شہروں اور دیہاتوں میں دوکانداری یا کاروبار یا تجارت تھم گئی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ آٹا فروخت کرنے والا رو رہا ہے کہ خریدار نہیں ہیں، بالوں کی تراش خراش کرنے والا رو رہا ہے کہ گاہک ہی نہیں ہے۔ پیٹرول پمپ والے شکایت کر رہے ہیں کہ آمدنی کم ہو گئی ہے۔ ٹرانسپورٹ والے سفر کرنے والوں کی کمی کو ذکر کرتے ہیں۔

غرض پیسے کی ریل پیل ختم ہو گئی ہے۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ نے کم آمدنی والے لوگوں کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایسا صرف اس لئے نہیں ہوا ہے کہ حکومت نے طے کر لیا ہے کہ قرضے نہیں لئے جائیں گے، بلکہ جن لوگوں کے پاس پیسہ موجود ہے انہوں نے غیر یقینی حالات کے پیش نظر ہاتھ کھینچ لیا ہے، جن کے پاس وافر پیسہ موجود ہے انہوں نے پیسے کی روانی کو محدود کر دیا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان میں کرپشن کی روک تھام کے لئے کئے جانے والے اقدامات بھی ہیں۔ اس کے ذریعہ کمائے جانے والے پیسہ کی وصولی کا بندوبست جاری ہے۔

اس تماش گاہ میں عام لوگ سخت حالات سے دوچار ہیں۔ ان کے پاس زندگی کے پہیہ کو دھکا دینے کے سوا گزارہ کرنے کا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ عام لو گ پوچھتے ہیں کہ کیا کبھی اس ملک میں ہمارے لئے بھی اچھے حالا ت پیدا ہوں گے؟ اس کا جواب تو وزیر آعظم عمران خان ، وزیر خزانہ اسد عمر یا ان کی ٹیم میں شامل حضرات ہی دے سکتے ہیں۔ کسی نے مجھ سے یہ ہی سوال کیا تو میں نے ان سے نظریں ملائے بغیر جواب دیا کہ مجھے تو وزیر آعظم کی باتوں پر یقین ہے کہ دو یا تین سالوں میں حالات بہتر ہونے کی طرف جائیں گے اور میں سمجھتا ہوں اگر اس مرتبہ بھی کرپشن کی روک تھام کے لئے کئے جانے والے اقدامات کا نتیجہ نہیں نکلا ، لوٹ مار کرنے والوں کے رقمیں وصول نہیں کی گئیں، ملکی معیشت کی گاڑی پٹڑی پر چڑھ نہیں سکی تو پھر کبھی نہیں چڑھے گی،جس کا نتیجہ ہماری سوچ سے کہیں زیادہ خطر ناک اور تباہ کن نکلے گا۔

مزید : رائے /کالم