بُک شیلف:ظفر نامہ رنجیت سنگھ (2)

بُک شیلف:ظفر نامہ رنجیت سنگھ (2)
بُک شیلف:ظفر نامہ رنجیت سنگھ (2)

  

بعض قارئین اس بک شیلف پر اعتراض بھی کر سکتے ہیں کہ ایک صدی پہلے لکھی جانے والی اس کتاب پر تبصرے کی آج کیا ضرورت تھی؟۔۔۔ پھر جس کتاب کا متن فارسی میں ہو اس پر قلم گھسیٹنے سے پہلے سوچ لینا چاہیے تھا کہ پاپولر میڈیا کی اکثریت تو اس زبان کی تفہیم سے محض نابلد اور بے خبر ہے۔۔۔ اور تیسرے یہ کہ کیا رنجیت سنگھ ہمارا ہیرو تھا جس کو اس کالم میں ایک VIP بنا کر پیش کیا گیا ہے؟ اس ظالم نے تو بادشاہی مسجد لاہور میں گدھوں گھوڑوں کا اصطبل بنا دیا تھا اور اس کے دور میں پنجاب کی تمام نادرِ روزگار مسلم دور کی عمارات سے سنگِ مرمر اکھاڑ کر اس کو گورودواروں میں نصب کر دیا گیا تھا۔ اس کریکٹر کے حکمران کی تعریف و توصیف کرنے والی تصنیف کو زیر بحث لانا آج کیوں ضروری سمجھا گیا ہے؟۔۔۔

قارئین کے یہ تمام اعتراضات بجا ہوں گے اور میں ذاتی طور پر سکھاشاہی دور کا ان سے بھی زیادہ سخت معترض اورناقد ہوں گا لیکن اس کتاب کو قارئین کے سامنے رکھنے کی چند وجوہ اور بھی ہیں جو میرے لئے سکھاشاہی دور کے واقعات کے تناظر میں چند دوسرے مثبت مضمرات کی حامل ہیں۔ میں ان کی آگہی قارئین کو دینا چاہتا تھا۔ اس ضمن میں ایک ’’مختصر تفصیل‘‘ ذیل میں درج کر رہا ہوں:

1۔ پہلی بات یہ عرض کرنی چاہتا ہوں کہ سکھوں اور ہندوؤں میں زبانِ فارسی کو جس طرح تحریکِ آزادی ء ہند کے دوران مسلمانوں کی زبان سمجھا گیا اور جس طرح اردو / فارسی رسم الخط کی جگہ انڈیا میں ہندی رسم الخط رائج کیا گیا، اس کے مقابلے میں 19ویں صدی میں غیر مسلم ہندوستانی اقوام کا اس رسم الخط سے کیا ربط و ارتباط تھا کہ جس میں قرآن کریمِ اتارا گیا۔ عربی، فارسی اور اردو جس رسم الخط میں لکھے جاتے ہیں، وہ بالخصوص مسلمان قوم سے وابستہ سمجھا جاتا ہے لیکن یہ نکتہ غور طلب ہے کہ رنجیت سنگھ کے عہد میں ایک ہندو پنڈت (امرناتھ) کے قلم سے خالص فارسی اور عربی کا اسلوبِ نگارش اس دور کا ایک قابلِ تحسین ورثہ ہے جس پر اس دو قومی نظریئے کی پرچھائیاں نہیں پڑی تھیں جو بعد میں تخلیقِ پاکستان کا محرک بنا اور جس نے آج شدید ترین اسلام مخالف ہندوتا کو مسلمانانِ ہندوستان کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

2۔ امرناتھ کشمیری پنڈت تھا لیکن اس کے باوجود اس کی کشادگی ء ظرف ملاحظہ کیجئے کہ اس کو سارا قرآن یاد تھا اور سارے مجموعہ ہائے احادیث سے واقفیت تھی۔ وہ اپنی اس تصنیف (ظفر نامہ) میں جگہ جگہ قرآن کریم کی آیات اور احادیث کوٹ کرتا ہے۔ اور نہ صرف یہ بلکہ اردو اور فارسی شاعری کے اکابر شعراء کے اشعار اور اسلامی روایات کے حوالے بھی جابجا دیتا چلا جاتا ہے۔

3۔وہ ایک بلند پایہ شاعر بھی تھا اور برصغیر میں جو فارسی شعراء آج تک (امیر خسرو سے لے کر اقبال تک) پیدا ہوئے ان میں اس کا شمار کیا جا سکتا ہے۔

4۔ اس کی نثر کی وقعت کا عالم وہی ہے جو فیضی اور ابوالفضل کی تصنیفات کا ہے۔ اگر کسی قاری نے آئینِ اکبری کا مطالعہ کیا ہے تو ان کو معلوم ہو گا کہ اس کا اسلوبِ نگارش کتنا مقفیٰ اور مسجّع ہے۔ وہ بات سے بات پیدا کرتا ہے۔ جگہ جگہ فارسی اور اردو کے اشعار درج کرتا جاتا ہے اور اس طرح وقائع نویسی کا ایک نیا دبستان بھی مرتب کرتا جاتا ہے۔ مرزا غالب سے پہلے اردو میں خط و کتابت کا جو انداز تھا وہ اگر آپ کی نظروں سے گزرا ہو تو آپ کو معلوم ہو گا کہ غالب نے خطوط نویسی میں جو نئی، انتہائی سادہ اور برجستہ طرزِ تحریر ایجاد کی وہ اردو کے نثری ادب میں ایک انقلابی سنگِ میل تصور ہوتی ہے۔

5۔رنجیت سنگھ، امر ناتھ کا ممدوح تھا۔ دورِ قدیم و متوسط کے فارسی اور اردو قصائد میں ممدوح کی تعریف و توصیف کا جو انداز ہے اور جو آج ہم کو نہایت مبالغہ آمیز اور خوشامدانہ لگتا ہے، وہ 19ویں صدی میں سکہ ء راج الوقت سمجھا جاتا تھا۔ مولانا شبلی کی شعرالعجم کی چاروں جلدوں کا مطالعہ کیجئے اور اس میں فارسی قصیدہ نگاری کے نمونے دیکھئے تو بعض اوقات آپ کو ابکائیاں آنے لگیں گی کہ یہ شعراء حضرات مبالغہ آرائی کے پردے میں کتنی دوں ہمتی اور پست خیالی کا مظاہرہ کیا کرتے تھے۔ اور تو اور مرزا غالب جیسا خوددار شاعر جب بادشاہِ دہلی اور دیگر امراء و رؤساء کے قصاید لکھتا ہے تو اس کی اَنا کی شکستگی بھی آخری حدوں تک چلی جاتی ہے۔ اس لئے اگر امرناتھ کے ظفر نامہ میں رنجیت سندھ کی ’’جی بھر کر‘‘ مدح سرائی کی گئی ہے تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔

فارسی زبان کے نثری ادب میں نظامی عروضی سمرقندی کا ’’چہار مقار‘‘ ایک نہائت بلند مقام و مرتبے کا حامل ہے۔ اس کی لفّاظی اور ادق تراکیب و محاورات کی ساخت و پرداخت اس پایہ کی ہے کہ فارسی ادب میں ایم اے کرنے والوں سے پوچھئے تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ فارسی نثر کے پرچے کی تیاری میں ان کو چہار مقالہ کے ہمالہ پر سے ’’گزرنے‘‘ میں کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے امرناتھ کی اس کتابِ تاریخ (History Book) میں اگر اس نے فارسی ء معلیٰ کی فصاحت و بلاغت کے دریا بہا دیئے ہیں تو اس کو کسی طرح سے بھی قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

اور جہاں تک فارسی شاعری کا تعلق ہے تو میں اوپر لکھ آیا ہوں کہ اس میں اظہار کی قدرت اور تشبیہات و مترادفات کی خوشنما کثرت اس قدر ہے کہ پڑھنے والا عش عش کر اٹھتا ہے۔۔۔ آج کی ایرانی فارسی، ایک جدید فارسی ہے لیکن اس کی اساس تو شیخ سعدی کی گلستاں کے شکم ہی سے پیدا ہوئی ہے۔۔۔ اور یہی حال باقی زبانوں کا بھی ہے۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ میں یہاں قارئین کی دلچسپی کے لئے ظفر نامہ کے چند ٹکڑوں کا اردو ترجمہ بھی ان کے سامنے رکھوں اور واضح کروں کہ امرناتھ اکبری نے تاریخ نویسی کے جھومر میں شعر و سخن اور نثر پاروں کے اعلیٰ ترین نگینوں کو کس طرح ٹانکا ہے:

1۔ 1801ء میں، لاہور ٹکسال والوں کو دارالسلطنت سے ایک حکم صادر ہوا کہ ایک روپیہ کے سکے میں 11ماشہ اور 2رتی سونا ہوگا۔ اس کی اوپر والی طرف پر ’’بابا گورونانک‘ اور پیچھے کی طرف گورو گوبند سنگھ کا نام کندہ کیا جائے گا اور یہ شعر بھی تحریر ہو گا:

دیگ و تیغ و فتح و نصرت بے درنگ

یافت از نانک گورو گوبند سنگھ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔[صفحہ نمبر17)

2۔ 1812ء میں، حضور والا نے گلاب سنگھ بھنگی کے بیٹے سے وہ توپ منگوائی جس کا ثانی پورے پنجاب میں نہیں تھا۔ اس نے لیت و لعل سے کام لیا تو مزاجِ اقدس پر ناگوار گزرا۔ فوراً جنگی سواروں کا ایک دستہ روانہ کیا کہ اس کے سارے خاندان کو حاضرِ دربار کیا جائے۔ شدید بارش ہو رہی تھی لیکن اس کے باوجود اس کی ماں کو بھی گھر سے نکال کر حضور عالی میں پیش کیا گیا(یہ وہی توپ ہے جس کو زمزمہ کہا جاتا ہے اور جو مال روڈ لاہور پر دھری ہوئی ہے)۔[صفحہ 27]

3۔ 1803ء میں، علیٰ حضرت کو خبر ملی کہ جھنگ کے حاکم نے عَلم بغاوت بلند کیا ہے۔ ایک نئی کھڑی کی گئی پلٹن اور توپخانے کی دو پلٹنیں فوری طورپر جھنگ روانہ کی گئیں۔ گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ بہت سا خون بہایا گیا۔ حاکمِ جھنگ مقابلے کی تاب نہ لاتے ہوئے بھاگ گیا۔ بہت سا مالِ غنیمت ہاتھ آیا۔ باغیوں کے دماغوں سے بھیجے نکال کر ان کو سزائیں دی گئیں۔ آخر حاکمِ جھنگ بے دست و پا ہو گیا۔ دربار میں حاضر ہوا اور معافی کا طلبگار ہوا۔ حضور نے اس کو معاف کیا اور ایک جاگیر اس کو بخش دی۔[صفحہ 29]

4۔1807ء میں، کانگڑہ فتح کرنے کے بعد سامبا کا رخ کیا گیا اور اس پر قبضہ کیا گیا۔ اور اسے کنور (پرنس) کھڑک سنگھ کی عنایت کیا گیا اور وہاں سے حضور نے سیالکوٹ کا سفر اختیار کیا۔ اس طرح سات دنوں میں سیالکوٹ فتح کر لیا گیا۔[صفحہ 45]

5۔1817ء میں، سرکارِ والا، دارالسلطنت لاہور سے امرتسر شریف تشریف لے گئے۔ دربار کو غسل دیا اور گرنتھ صاحب کا پاٹ کیا اور وہاں سے آدینہ نگر کی طرف جا نکلے اور سیر کرتے ہوئے اور کوہستانی باغیوں کے سینوں میں زلزلہ بپا کرتے ہوئے واپس لاہور آ گئے۔[صفحہ 103]

6۔ 1818ء میں، نادر شاہ نے خوارزم اور بخارا کو فتح کیا اور سلطانِ روم سے صلح کر لی۔ اس کے بعد وہ مالیخولیا مرض کا شکار ہوا اور اپنے ولی عہد کی آنکھیں نکال دیں۔ اس کے تیسرے روز رات کی تاریکی میں ایک غلام کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔[صفحہ 107]

7۔1818ء ہی میں، جب محمد شاہ، بادشاہ دہلی نے جہان فانی سے رختِ سفر باندھا تو شاعروں نے ’’ہائے رفت از جہان محمد شاہ‘‘ کہہ کر تاریخِ وفات نکالی۔ اس کے بعد احمد شاہ تخت دہلی پر جلوہ افروز ہوا۔ اس کی کمزور فوج پر احمد شاہ درانی نے حملہ کیا اور اس کے نائب میر معین الملک کو گرفتار کر لیا۔ جب اسے احمد شاہ ابدالی کے سامنے لایا گیا تو اس سے احمد شاہ نے سوال کیا: ’’اب بول تمہاری سزا کیا ہونی چاہیے؟‘‘۔۔۔ معین الملک نے جواب دیا: ’’اگر آپ تاجر ہیں تو مجھے فروخت کر دیں، اگر قصاب ہیں تو ذبح کر دیں اور اگر بادشاہ ہیں تو نوازش فرمائیں‘‘۔۔۔۔ یہ سن کر احمد شاہ ابدالی نے کہا کہ اگر میں تمہارے ہاتھ آ جاتا تو تم میرے ساتھ کیا سلوک کرتے؟ اس نے کہا: ’’میں بااختیار نہیں تھا۔ محمد شاہ بادشاہِ دہلی تھا۔ میں نے چونکہ بادشاہ کا نمک کھایا تھا اس لئے نمک حرامی نہ کرتا اور آپ کو گرفتار کرکے پنجرے میں بند کر دیتا اور شاہجہان آباد (دہلی) بھیج دیتا‘‘۔۔۔ احمد شاہ ابدالی یہ سن کر تقریباً غش کھا گیا۔ اس پر نوازش کی اور ایک کروڑ روپیہ اس کو عطیہ کرکے واپس شاہجہان آباد بھیج دیا۔[صفحہ 113]

8۔ 1819ء میں، ظفر جنگ بہادر، سلسلہ ء کوہِ پیر پنجال کو سر کرتا ہوا آگے بڑھا۔ یہاں 10ہزار سوار بطور کمک اس کے ساتھ آ ملے۔ اور انہوں نے راجوڑی میں خیمے ڈال دیئے۔ لوگ انصاف کے طالب ہو کر حاضر ہوئے اور انصاف پایا۔۔۔ دوسری طرف جبار خان ناظم کشمیر بارہ ہزار سواروں اور پیادہ فوج کے ساتھ لڑائی کے لئے تیار ہو گیا۔۔۔ گھمسان کارن پڑا۔ جوانانِ شیر افگن اور سالارانِ شمشیرزن ایک بازو سے نمودار ہوئے اور دشمن کا قلب چیر کر رکھ دیا۔ صف شکن پہلوانوں نے زور کا ہلا بولا اور رستم و تہمتن کی یاد تازہ کر دی۔ ایسا نعرۂ ہاوہو بلند ہوا کہ گنبدِ چرخ کانپنے لگا۔ افغان جان توڑ کر لڑے۔ شور و غل سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ اتنے میں دشمن کی دیوارِ دفاع ٹوٹ گئی اور غینم بحرِ فنا میں غرق ہو گئے۔ تیغوں کی جھنکار بلند ہوئی، ناقوس اور نقارے پھونکے گئے اور کشتوں کے پشتے لگ گئے۔ معلوم ہوتا تھا کہ دشمن بہرا اور گونگا ہو گیا ہے۔ افغان اس حملے کی تاب نہ لا سکے اور راہِ فرار اختیار کی۔

ان کا پیچھا کیا گیا اور سینکڑوں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا۔ظفر جنگ بہادر کا ہر اول دستہ قلعہ ء مظفر آباد کو بازوکش کرتا آگے بڑھا۔ اساڑھ کی 22تاریخ تھی کہ کشمیر فتح ہو گیا۔ کوسِ شادمانی بجنے لگا۔ شہروں میں منادی کرا دی گئی اور رعایا کو امان دی گئی۔ وہ لوگ جو افغانوں کے ظلم و ستم سے تنگ آ گئے تھے انہوں نے سکھ کا سانس لیا۔ دیوان موتی لال کو کشمیر کا ناظم مقرر کیا اور ظفر جنگ واپس لاہور تشریف لے گئے۔[صفحہ 132]

کشمیر 1819ء میں فتح ہوا۔۔۔ اس کے بعد 1839ء تک کے کئی دلچسپ اور معلومات افزاء واقعات و حالات اور بھی ہیں جن کو کالم کی تنگ دامانی کا سامنا ہے۔(ختم شد)

مزید : رائے /کالم