عظمیٰ بخاری۔۔۔مسلم لیگ (ن) کی پُرعزم خاتون ہمارا مقدمہ عوام کی عدالت میں ہے اور عوام کا فیصلہ کبھی غلط نہیں ہوتا

عظمیٰ بخاری۔۔۔مسلم لیگ (ن) کی پُرعزم خاتون ہمارا مقدمہ عوام کی عدالت میں ہے ...

عظمیٰ بخاری اپنے جذبات کوزبانی ادا کرنے پر قادر ہیں۔ وکالت کے پیشے سے تعلق رکھتی ہیں اس لئے بولنے سے پہلے تولتی ہیں۔ والد چونکہ پیپلز پارٹی کے بنیادی ارکان میں سے تھے اس لئے اوائل ایام میں پیپلز پارٹی سے سیاست کا آغاز کیا اور محترمہ بینظیر بھٹو کو اپنا رہبر و رہنما تسلیم کرلیا۔ میرے والد صاحب جج تھے۔ان کے بھٹو صاحب سے بہت مراسم تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو ہمارے گھر آیا کرتی تھیں۔انہی سے متاثر ہو کر مَیں نے سیاست میں دلچسپی لینا شروع کر دی، محترمہ کی شہادت ہوئی تو پارٹی میں پیدا ہونے والی سیاسی ابتری نے ان لوگوں کو سب سے پہلے متاثر کیا جو شعور اور وژن رکھتے تھے۔ عظمیٰ بخاری اُن متاثرین میں شامل تھیں تاہم حقائق پر گہری نگاہ رکھنے اور مضبوط وجدان کی مالکہ ہونے کے باعث وہ کان کا نمک بننے سے بچ گئیں۔ عظمیٰ نے حالات کا جائزہ لیا، اپنی صلاحیتوں کو پرکھا، وقت کی آواز کو سُنا اور مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرلی۔ آج عظمیٰ بخاری عتاب زدہ مسلم لیگ (ن) کی ایک سرکردہ رہنما ہیں۔ رکن صو بائی اسمبلی ہونے کے علاوہ وہ مقبول عوامی شخصیت ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا پر برپا ہونے والے سیاسی ٹاک شوز میں عظمیٰ کی شمولیت کو سراہا جاتا ہے۔ قومی مسائل پر ان کے تبصرے اور صائب آرا وزن رکھتی ہیں اور اُن کی شخصیت کا جادو ہر پروگرام میں سر چڑھ کر بولتا ہے۔

عظمیٰ بخاری کی جماعت اقتدار میں تھی تو عظمیٰ حزبِ اختلاف اور دھرنا سیاست کے بخیئے خوب اُدھیڑتی تھیں۔ آج ان کی جماعت حزب اختلاف کی صف کی صورت میں ہے اور عظمیٰ آج بھی اُسی گھن گرج سے اپنی جماعت کا دفاع کررہی ہیں۔

’’بڑے معاملات سے متعلق چھوٹے اقدامات نہیں کرنے چاہئیں‘‘۔ عظمیٰ نے ایک ملاقات میں مسکراتے ہوئے کہا۔ناصرہ! ’’حقوق کے تحفظ اور سچائی کی پاسداری کے لئے جرأت و بے باکی کی ضرورت ہوتی ہے۔ خوفزدہ ہو کر بات کرنے سے آپ کا درست موقف بھی بودا دکھائی دیتا ہے۔ میں نے غلط بات کو ہمیشہ غلط کہا ہے اور اُس بات کا اظہار بے لاگ کیا ہے جسے میں نے صحیح اور درست جانا ہے‘‘۔ عظمیٰ بخاری کی شخصیت میں جو وکیل چھپا ہے وہ میزان کے استعمال سے بخوبی آگاہ ہے اور سچ بولنے سے دریغ نہیں کرتا۔ عظمیٰ بخاری اپنے والد سے بے حد متاثر ہیں۔ اِس لبنانی کہاوت کے برعکس کہ سیاست کا مذہب نہیں ہوتا، عظمیٰ سیاست مذہبی جذبے سے کرتی ہیں۔ عوام کی بہتری و بہبود اور خواتین کی عزت و توقیر کے لئے انہوں نے خود کو کھپا دیا ہے۔ پاکستان میں خواتین کے ساتھ ہونے والی سیاسی و سماجی زیادتیوں پر وہ کڑھتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ ایسے قوانین کو ترتیب دیا جائے کہ جن کے سائے تلے خواتین سُکھ کا سانس لے سکیں۔

عظمیٰ بخاری مسلم لیگ (ن) کے ہر اول دستے میں ایک فعال رکن ہیں۔’’مسلم لیگ (ن) نے اپنے دور حکومت میں ہمیشہ عوام کی بہتری و ترقی اور فلاح و بہبود کو مدنظر رکھا‘‘۔ عظمیٰ بخاری کہتی ہیں۔ ’’ملک میں تعمیر و ترقی کے سبھی کام روانی سے چل رہے تھے۔ سماجی ابتری نہیں تھی۔ یہ فکر نہیں تھی کہ آج روٹی مل گئی ہے تو کیا کل بھی ملے گی؟ لوڈ شیڈنگ کو قِصّہ پارینہ بنانے کا کام اختتامی مرحلے میں تھا۔ گیس، تیل اور بجلی کے بل لوگوں کے لئے موت کے پروانے نہیں تھے۔ تب صاحبانِ اقتدار کو خوفِ خدا اور خلقتِ خدا کا احساس تھا۔ ایسی نالائقی اور نااہلی جو اب دیکھنے میں نظر آرہی ہے تب نہیں تھی‘‘۔ عظمیٰ بخاری کے چہرے پر تفکرات کے آثار نمایاں تھے۔ وہ کہنے لگیں۔ ناصرہ ! ’’اب یوں دکھائی دیتا ہے جیسے کرکٹ کے میدان میں پِٹّھو گرم کھیلا جارہا ہے۔ مجھے اپنی عوام پر ترس آتا ہے۔ ہر چمکتی چیز کے پیچھے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں خواہ وہ چیز اُنہیں کوڑے کے ڈرم میں گرا دے‘‘۔

عظمیٰ نے کہا کہ یہ بات سچ ہے کہ چین میں پنجاب کی ترقی کی تعریف کی جاتی اور مثال دی جاتی ہے۔ خادم اعلیٰ نے جنوبی پنجاب کے کونوں کُھدروں تک پکی سڑکیں بچھا دی ہیں۔ وہاں نقل و حرکت آسان ہو چکی ہے۔ سڑکیں ہوں تو ترقی کے پہیے کا دوڑنا سہل ہو جاتا ہے۔ شہباز شریف نے جو بنک نامی کمائی ہے، اس نیک نامی کو مخالفین اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود چھین نہیں سکتے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف کی گرفتاری پر عظمیٰ بخاری ہمیشہ غم و غصے کا اظہار کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں شریف خاندان کی دونوں ہر دل عزیز شخصیات گہری سازش کا شکار ہوئی ہیں۔ مقصد صرف اُنہیں زِک پہنچانا نہیں بلکہ پاکستان کے استحکام کو ضعف پہنچانا اور اس کی ترقی کی رفتار کو نکیل ڈالنی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے دونوں رہنما چونکہ زیرِ عتاب ہیں اس لئے ہر برائی ان کے گلے منڈھی جارہی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی فعال خاتون رہنما عظمیٰ بخاری بہرحال پُر امید ہیں۔ ’’موجودہ حکومت کا مطمع بہت جلد اُتر جائے گا اور لوگ حقیقت کو کُھلی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ تب نواز شریف ہی قوم کی کشتی کو طوفان سے باہر ساحل پر صحیح و سلامت لے کر آئے گا۔ ہمارا مقدمہ عوام کی عدالت میں ہے اور عوام کا فیصلہ کبھی غلط نہیں ہوتا۔

عظمیٰ بخاری کے شوہر کا بھی قومی سیاست سے تعلق ہے۔ دونوں میاں بیوی گھر میں بھی سیاست کے اسرار و رموز پر غور کرتے اور حکمت عملی وضع کرتے ہیں۔ تاہم بچوں کے ساتھ سیرو تفریح پر جائیں تو خود کو ہر قسم کے بیرونی اُلجھاؤ سے آزاد کرلیتے ہیں۔ تب موبائیل فون بھی نہیں سُنتے۔’’ بچوں کی ذمہ داریاں ترجیحی اہمیت رکھتی ہیں‘‘۔ عظمیٰ کہتی ہیں۔’’ بچوں کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دیتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ وہ اچھے انسان بنیں اور قوم کی عزت وہ وقار میں اضافہ کریں۔

عظمیٰ بخاری سیاست میں مسلم لیگ (ن) کی خواتین کی ہمت و جرات کی تعریف کرتی ہیں جو مالی مغفعت اور صلہ و ستائش سے بے نیاز اپنے قائدین کی آواز پر لبیک کہتی ہیں اور تحریک کا محور بنتی ہیں۔ عظمیٰ کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) دوبارہ اقتدار پانے کے بعد ملک کو جنت ارضی بنائے گی اور عوام کی زندگیوں میں امن و سکون اور خوشحالی لائے گی۔

مزید : ایڈیشن 1