پرانی ٹیکنالوجی کے آلودگی پھیلانے والے بھٹوں کو 27اکتوبر سے بند کرنے کا فیصلہ

پرانی ٹیکنالوجی کے آلودگی پھیلانے والے بھٹوں کو 27اکتوبر سے بند کرنے کا فیصلہ

لاہور(سٹی رپورٹر) سموگ کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں آلودگی پھیلانے والے بھٹوں کو 27اکتوبر سے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔چیئرمین سموگ کمیشن ڈاکٹر پرویز حسن کی سربراہی میں ایک اجلاس منعقد ہوا ۔جس میں بھٹہ خشت ایسوسی ایشن ، ڈاکٹر ظفر نصراللہ سیکرٹری محکمہ تحفظ ماحول پنجاب ،اور علی حسن حبیب سابق ڈائریکٹر جنرل ڈبلیو ڈبلیو ایف اور نسیم الرحمن شاہ ڈائریکٹر محکمہ تحفظ ماحول پنجاب نے شرکت کی ۔بھٹہ ایسوسی ایشن کی درخواست پر سموگ کمیشن نے امین اسلم خان مشیر وزیراعظم پاکستان اور محکمہ موسمیات کی مشاورت سے سموگ کے تدارک اور اس کی روک تھام کیلئے اقدامات کی منظوری دی گئی اور بھٹہ مالکان کو اس بندش کے دوران اپنے بھٹے زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کیلئے ہدایات جاری کیں تاکہ بھٹوں میں کام کرنے والے لیبر بھی بے روزگار نہ ہو اور اسی دوران موجودہ بھٹے زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل ہوجائیں ۔یہ پابندی 31دسمبر تک جاری رہے گی۔اس پابندی پر عملدرآمد بھی کرایا جائے گا۔

تاہم زگ زیگ ٹیکنالوجی پر چلنے والے بھٹے اس پابندی سے مستثنیٰ ہونگے۔مزید برآں یہ ہدایات بھی جاری کی گئیں کہ غیر معیاری ایندھن استعمال کرنے والے بھٹوں و فیکٹریوں کو فوری طور پر بند کردیا جائے ۔اور ایسے مالکان کے خلاف دفعہ144کے تحت کارروائی کی جائے۔حکومت پنجاب نے یکم اکتوبر 2018ء سے صوبہ بھر میں دفعہ144کا نفاذ کردیا ہے اس نوٹیفکیشن کے مطابق غیر معیاری ایندھن مثلاً کوڑا کرکٹ،زرعی فصلوں کے باقیات، ربڑ،پلاسٹک، پولی تھین بیگز و دیگر اشیاء جلانے پر سخت پابندی عائد کی گئی ہے ۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کوئی فیکٹری سموگ کے دنوں میں دھواں کنٹرل کرنے والے آلات کے بغیر نہیں چلے گی ۔اس ضمن میں پہلے ہی فیکٹری مالکان کی ایسوسی ایشنز سے متعدد اجلاس منعقد کیے جاچکے ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1