لاہور کی بے بے ٹریفک، چند اصلاحات

لاہور کی بے بے ٹریفک، چند اصلاحات
لاہور کی بے بے ٹریفک، چند اصلاحات

  


پاکستان یا پنجاب کی بات کرنے سے پہلے میں لاہور شہر کی بات کرنا چاہوں گا جہاں کی شاہرات پر بے ہنگم ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لئے نہ تو پولیس کا کوئی دستہ ہے اور نہ ہی کوئی شہری ٹریفک سگنل کا احترام کرتا ہے ۔موٹر سائیکل سواروں میں ایسے بچے بھی دیکھنے میں آئے ہیں جن کے پاؤں موٹر سائیکل سے نیچے زمین تک نہیں پہنچتے لیکن وہ بائیک پر کرتب کرتے نظر آتے ہیں ، اُن بچوں کو نہ تو والدین روکتے ہیں کہ بائیک مت چلائیں اور نہ ہی پولیس والے اُن بچوں کو سمجھانے کے لئے کوئی قانون متعارف کروا رہے ہیں ، میں نے ایسے بچوں کے ایکسیڈنٹ ہوتے بھی دیکھے ہیں اور پھر اُن بچوں کے والدین کو روتے اور ہاتھ ملتے بھی دیکھا ہے جو لاہور کی شاہرات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں ۔

پولیس کو چاہیئے تو یہ کہ ایسا کوئی بچہ دیکھیں جس کی عمر ابھی موٹر بائیک چلانے کی نہیں ہے تو اُسے روک کر اُس کے والدین کو اُسی جگہ بلائیں جہاں وہ بچہ اپنی بائیک کے ساتھ موجود ہو، وہاں والدین کو جرمانہ کیا جائے یا جیل کی سزا سنائی جائے جنہوں نے قانون توڑنے میں اپنے بچے کی مدد کی ہو اِس سے وہ بچہ کبھی بھی قانون نہیں توڑے گا جس کے سامنے اُس کے جرم کی سزا والدین کو ملے گی ۔

ہیلمٹ کی پابندی سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ڈرائیور کا لائسنس چیک کیا جائے اور جس کے پاس لائسنس نہ ہو اُس کی گاڑی کو اُس وقت تک بندرکھا جائے کہ جب تک وہ شخص اپنا لائسنس نہ لا کر دکھا دے ، گاڑیاں بند کرنے کے لئے حکومت کو کسی خالی جگہ پر ایک بہت بڑی پارکنگ بنانی ہو گی جہاں ہزاروں گاڑیاں بند کی جا سکیں ، کیونکہ آج کل پولیس کے پاس ایک بہانہ پہلے سے ہی موجود ہے کہ ہمارے پاس گاڑی بند کرنے کے بعد اُسے پارک کرنے کی جگہ نہیں ہے ۔

بغیر لائسنس گاڑی چلانے کا کسی سرکاری محکمے ، نجی ادارے ، میڈیا ، پولیس ، سیکیورٹی اداروں یعنی کسی کو بھی استثناء حاصل نہیں ہونا چاہیئے اور نہ کسی قسم کی سیاسی مداخلت گاڑی چھڑوانے میں مدد گار ثابت ہو ، اس کے ساتھ ساتھ سڑک کے درمیان موجود ’’گرین بیلٹس ‘‘ کو توڑ کر سہولت کے لئے عوام کی طرف سے از خود بنائے گئے ’’ یو ٹرن ‘‘ ختم کئے جائیں جہاں سے ایک گاڑی موڑتے ہوئے باقی ٹریفک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کبھی کبھار ٹریفک بند بھی ہو جاتی ہے۔

صرف چالان سے ٹریفک کے معاملات حل نہیں ہو سکتے اس کے لئے پولیس آفیسر کو چاہیئے کہ وہ نہ تو کسی سے رعائت کرے اور نہ ہی سیاسی دباؤ میں آئے ساتھ ساتھ اُسے چاہیئے کہ وہ اپنی دیہاڑی لگاتے ہوئے قانون توڑنے والے کو ریلیف نہ دے ۔

لاہور کی شاہرات پر پولیس ٹریفک پولیس کی زیادہ نفری ہونی چاہیئے ان کے ساتھ ڈولفن اور کمانڈو پولیس کے جوان بھی ڈیوٹی دیں تاکہ ٹریفک پولیس کو ڈیوٹی کرتے ہوئے کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ٹریفک وارڈن اور ڈیوٹی پر کھڑے دوسرے افسران کو چاہیئے کہ وہ جس کا چالان کریں یا گاڑی بند کریں تو اُس شخص کو شعور دینے کی کوشش بھی کریں کہ ہم نے آپ کا چالان کیوں کیا یا گاڑی بند کیوں کی تاکہ وہ شخص اپنی غلطی مانتے ہوئے آئندہ ایسی قانون شکن حرکت نہ کرے ۔ٹریفک پولیس کے سی ٹی اوز ،ایس ایس پی ٹریفک پنجاب اور ڈی آئی جی ٹریفک کو چاہیئے کہ وہ اپنے آفس سے زیادہ وقت شاہرات پر تعینات پولیس ملازمین کو دیں جس سے ڈیوٹی چور ملازمین میں ڈر پیدا ہوگا اوربہترین ڈیوٹی کرنے والے ملازم کی حوصلہ افزائی بھی ہوگی جس سے انہیں فکر ہوگی کہ ہمارے آفیسرز ہمارا کام چیک کرنے آسکتے ہیں۔

دھواں مارنے والی گاڑیاں اور ایسی ہر قسم کی گاڑی کو سڑک پر چلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے جو ٹیکنیکل مسائل کا شکار ہو ، ٹریفک پولیس کو چاہیئے کہ وہ ہر سال ہر گاڑی کو ایک ’’ فٹنس ‘‘ سرٹیفکیٹ جاری کرے جس پر تحریر ہو کہ ہم نے گاڑی چیک کرکے دیکھی ہے یہ گاڑی چلنے کے قابل ہے ، اور اگر متعلقہ گاڑی فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل نہ کر سکے تو اُس گاڑی کو ’’ کباڑ ‘‘ خانے میں پھینکنا چاہیئے نہ کہ کسی کی سفارش پر اُس گاڑی کو چلنے کی اجازت دی جائے ، کیونکہ ایسی ’’ان فٹ گاڑیاں‘‘ بھی بڑے حادثات کا شکار بنتی ہیں جہاں کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے ۔ٹریفک پولیس کو چاہیئے کہ وہ ہر سواری کو اُس کے ٹریک میں چلنے کا شعور دے ، موٹر بائیک ، چنگ چی ، ٹرک ، بس ، کار اور دوسری گاڑیوں کو اپنی اپنی لین میں چلنے کی معلومات دینے پر زور دینے کی اشد ضرورت ہے ، رات دس بجے لاہور شہر میں آنے کے لئے ٹرکوں کو داخل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے ٹرک ڈرائیورز لاہور کی ہر سڑک پر دو لائنیں بنا کرآہستہ رفتار سے چلتے ہیں جس سے ٹریفک ’’ بند ‘‘ ہو جاتی ہے ، ٹریفک پولیس کو چاہیئے کہ وہ ٹرک ڈرائیورز کو سمجھائے کہ وہ ایک بائیں جانب ایک لائن بنا کر چلیں تاکہ تیز ٹریفک کو ٹرکوں کی وجہ سے رکنا نہ پڑے اور رش نہ ہو ، لاہور میں داخل ہونے والے ٹرکوں کی رفتار تقریباً ایک جتنی ہوتی ہے اور وہ اُسی رفتار میں جب ایک دوسرے کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دو لائنیں بن جاتی ہیں جس سے ٹریفک سست روی کا شکار ہو جاتی ہے ، ٹریفک پولیس کو چاہیئے کہ وہ لاہور شہر میں داخل ہونے والے ٹرک ڈرائیورز کو تلقین کریں کہ کسی بھی ایک طرف ایک لائن بنا کر چلیں اور دوسرے ٹریفک کے لئے وبال جان نہ بنیں ۔اس سے ٹریفک کے رش کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔

لاہور شہر کی سڑکوں پر رواں دواں ہر قسم کی گاڑیوں کے ڈرائیورز کے پاس دس سے پندرہ فیصد لائسنس ہیں جبکہ باقی پچاسی فیصد ڈرائیورز بغیر لائسنس کے گاڑی چلاتے ہیں ، ٹریفک کے قوانین کا پہلا احترام ہی ڈرائیونگ لائسنس ہوتا ہے اور جب کوئی شخص قانون کی پہلی شق ہی پوری نہیں کرے گا تو کیسے ممکن ہے کہ وہ قانون کی باقی شقوں کا احترام کرے ، وہ شخص سگنل بھی توڑے گا ، پولیس ملازم سے بد تمیزی بھی ہو گی اور’’ زیبرا کراسنگ‘‘ سمیت ڈرائیورز کو پابند کرنے کے تمام اشارے بھی اُس کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے ، لہٰذا ٹریفک پولیس کو لائسنس کے حوالے سے سخت سے سخت قانون بنانا ہوگا ۔

پاکستان یا پنجاب نہیں تو کم از کم کچھ بڑے شہروں میں ڈرائیورز کے لئے لکھی گئی اصلاحات کو نافذ کر دیا جائے تو بڑے حادثات سمیت ، آلودگی اور چھوٹے بچوں کے زخمی ہونے جیسے واقعات پر خاطر خواہ قابو پایا جا سکتا ہے۔ موجودہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ جس تبدیلی کا نعرہ لے کر اقتدار میں آئی ہے اُس کے مطابق غربت کو ختم کرے نہ کہ غریبوں کو ، ہیلمٹ نہ پہننے کا جرمانہ وصول کرے لیکن ساتھ ساتھ پاکستان کے کرپٹ افراد سے بھی لوٹی ہوئی دولت واپس لے ، غریبوں کی ناجائز بستیوں پر بلڈورز ضرور چلائے لیکن گورنرہاؤسز کی دیواروں پر بھی یہی طبع آزمائی ہو ، تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس لے لیکن بڑے تاجروں کو بھی اپنی نظر میں رکھے ،پتنگ بازی پر پابندی لگائے لیکن گولڈ اور ڈالرز کی آسمان سے باتیں کرتی پرواز کو بھی روکے ۔تبھی ممکن ہے کہ حکومت اپنی ناکامیوں کو کامیابیوں میں تبدیل کر سکے اور عوام کہہ سکیں کہ تبدیلی آنہیں رہی بلکہ آ گئی ہے ۔

مزید : رائے /کالم