آصف زرداری متحرک ، مولانا فضل الرحمن سے ملاقات ،آئندہفتے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ ، نواز شریف بھی شریک ہونگے سربراہ جے یو آئی کنوینر مقرر

آصف زرداری متحرک ، مولانا فضل الرحمن سے ملاقات ،آئندہفتے آل پارٹیز کانفرنس ...

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کو اکھٹا کرنے کیلئے متحرک ہوگئے اسلام آباد میں رات گئے ایم ایم اے پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے اہم ملاقات دونوں رہنماؤں کے مابین حکومت کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر اتفاق رائے ہوگیا ہے ۔سوموار کی شب سابق صدر آصف علی زرداری متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے گھر پہنچے اور ان سے ملاقات کی اس موقع پر سابق صدر کے ہمراہ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اور سابق چیرمین سینیٹ سید نیر حسین بخاری بھی موجود تھے ملاقات میں دونوں رہنماوں نے حکومتی پالیسیوں پر اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری نے کہاکہ اس وقت ملک میں جمہوری قوتیں کمزور نظر آتی ہیں انہوں نے کہاکہ اپوزیشن جماعتیں حکومت گرانا نہیں بلکہ جمہوریت پر چلانا چاہتی ہیں انہوں نے کہاکہ ملک میں جمہوریت کی بقاء کیلئے اپنا فرض نبھا رہے ہیں انہوں نے کہاکہ اپوزیشن الائنس کیلئے سب سے بہترین وقت مشرف کا تھا موجودہ حکومت سے کوئی بات نہیں کرونگا انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا ا بھی وقت نہیں ہے جب وقت آئے گا تو بتا دیا جائے گاانہوں نے کہاکہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی باتیں اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کے سامنے رکھیں گے انہوں نے کہاکہ میں اور مولانا نے 10سال تک جمہوریت کیلئے مل کر کام کیا ہے مولانا صاحب میرے دوست بھائی اور خیر خواہ ہیں انہوں نے کہاکہ ہم نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ غیر جمہوری قوتوں کو آگے آنے کا موقع نہ ملے ملک کی بہتری کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کریں گے انہوں نے کہاکہ حکومتی اتحاد میں شامل بی این پی اور ایم کیو ایم کے ساتھ بھی بات کی جائے گی،ملاقات کے بعد مالانا فضل الرحمٰن نیمتحدہ حزب اختلاف کے تحت آئندہ ہفتے آل پارٹیز کانفرنس طلب کرنے کا اعلان کر دیا گیا سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف بھی شریک ہوں گے مولانا فضل الرحمان حکومت مخالف اے پی سی کے کنوینئر ہوں گے اپوزیشن کے مشترکہ لائحہ عمل پر مشاورت کی جائے گی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹرینز کے چیئرمین آصف علی زرداری نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر تمام دوستوں پر بات کی جاسکتی ہے مولانا فضل الرحمان نے موجودہ حکومت کو پرویز مشرف حکومت کا چربہ قرار دے دیا ہے، آگے بڑھنے کے لیے اپوزیشن پرانی باتوں کو نظر انداز کر دے اس امر کا اظہار دونوں رہنماؤں نے پیر کو اسلام آباد میں انتہائی اہم ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن کے چیئرمین اور سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان بھی اہم ملاقات ہوئی آصف علی زرداری نے راجہ پرویز اشرف کے ہمراہ مولانا فضل الرحمان سے انکی اقامت گاہ پر ملاقات کی جو کافی دیر جاری رہی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آصف علی زرداری اور نواز شریف سے حکومت کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس طلب کرنے پر مشاورت مکمل ہو گئی ہے اے پی سی آئندہ ہفتے اسلام آؓباد میں ہو گی اپوزیشن مشترکہ لائحہ عمل طے کرے گی انہوں نے کہا کہ بات تحریک عدم اعتماد کی نہیں ہے بلکہ یہ حکومت ہی جعلی ہے حکومت کو عوامی مینڈیٹ حاصل نہیں ہے انہوں نے کہا کہ جسطرح شوکت عزیز حکومت کے پیچھے فوجی آمر پرویز مشرف تھا اسی طرح کی حکومت اب قائم کی گئی ہے ہم نے اس لیے تو قربانیاں نہیں دی تھیں مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ اسطرح کا سسٹم ناقابل قبول ہے جعلی اکثریت ہے شوکت عزیز ، پرویز مشرف حکومت کا نقشہ ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے اسطرح کے سسٹم کے لیے تو پاکستان نہیں بنایا تھا اسکے لیے تو قربانیاں نہیں دی تھیں اسطرح کے سسٹم کے لیے تو مارشل لاؤں سے پنگے نہیں لیے تھے ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں جانی پہچانی حکومت ہونی چاہیے جمہوری ماحول ہونا چاہیے جہاں تمام جماعتوں کو اپنے نظریات کے مطابق کام کرنے کی آزادی ہو۔

زرداری متحرک

مزید : صفحہ اول /رائے