غداری کیس ، وقت آگیا کسی شہری کی پاکستانیت کی توہین کو بھی قابل سزا جرم قرار دیا جائے ، نواز شریف

غداری کیس ، وقت آگیا کسی شہری کی پاکستانیت کی توہین کو بھی قابل سزا جرم قرار ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس عاطر محموداور جسٹس محمد مسعود جہانگیر پر مشتمل فل بنچ کے روبرو ’’غداری کیس ‘‘میں سابق وزرائے اعظم میاں نواز شریف ، شاہد خاقان عباسی اور صحافی سرل المیڈا نے تحریری جواب داخل کردیئے ہیں۔تینوں نے اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کومسترد کیا ہے ۔فاضل بنچ نے کیس کی مزید سماعت 12نومبر پر ملتوی کرتے ہوئے قراردیا کہ میاں نواز شریف اگر حاضری سے استثنیٰ چاہتے ہیں تو وہ اس سلسلے میں درخواست دائر کریں۔عدالت نے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل پاکستان کو اس معاملہ پر حکومت کا موقف پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔میاں نواز شریف نے اپنے جواب میں کئی سوالات بھی اٹھائے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ کیا مجھے3مرتبہ وزیراعظم منتخب کرنے والے عوام بھی غدار ہیں،جو ان حالات میں بھی میرے ساتھ کھڑے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ کسی شہری کی پاکستانیت کی توہین کو بھی قابل سزا جرم قراردیا جائے۔کیا مجھ پر غداری کا الزام لگانیوالے کو معلوم ہے کہ عدالت کی طر ف سے غدار قراردیا گیا ڈکٹیٹر کہاں ہے ،کیا دنیا بھر کی دھمکیوں کو نظر انداز کرکے مادروطن کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے والا غدار ہوتا ہے ،کیا پاکستان کے تمام ادارے ، ایجنسیاں اور مشینری ناکام ہوچکی ہے جنہیں میری غداری کا علم نہیں۔مادروطن سے غداری کو میں اپنے دین ،اپنے ایمان ،اپنے ضمیر،اپنے خون اور اپنے وجود سے غداری سمجھتا ہوں ،ایسے الزام کا جواب دینا بھی میں اپنی عزت نفس پر حملہ خیال کرتاہوں۔کیا بے بنیاد مقدموں میں سزا پا کر باہر کے ملک سے لمبی قید بھگتنے کیلئے وطن لوٹ آنے والا غدار ہوتا ہے ،ہر کسی کو غدار قراردینے ،ہر کسی کی حب الوطنی پر حملہ کرنے اور ہر کسی کی پاکستانیت پر داغ لگانے کا یہ کھیل بند ہونا چاہیے، گزشتہ روز سابق وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی اور صحافی سرل المیڈا عدالت میں پیش ہوئے ۔عدالت نے کہا کہ میاں نواز شریف کا انٹرویو حساس معاملہ ہے،پارلیمنٹ نے اس پر کیا ایکشن لیاہے؟حکومت نے کیا کیا ہے؟سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طرف داخل کیے گئے 9صفحات پر مشتمل جواب میں کہا گیا ہے کہ غداری جیسا سنگین اور بے بنیاد الزام میرے لئے ناقابل تصور ہے ،اس کا جواب دینا میں اپنی حب الوطنی پر حرف خیال کرتاہوں ،میرے ذہن میں کئی سوالات اٹھ رہے ہیں ،ان کا جواب تلاش کرنا بھی ضروری ہے ۔کیا میری جماعت مسلم لیگ (ن) پر تین مرتبہ بھرپور اعتماد کا اظہار کرنے والے غیور عوام بھی غدار ہیں ،کیا کروڑوں پاکستانیوں کی حب الوطنی بھی مشکوک ہے ،جو ان حالات میں بھی میرے ساتھ کھڑے ہیں اور جنہوں نے تازہ ترین ضمنی انتخابات میں میری جماعت کو سب سے زیادہ ووٹ دیئے ہیں،کیا مجھ پر غداری کا الزام کروڑوں پاکستانیوں پر الزام نہیں،جس بات کا علم درخواست گزار کو ہوگیا ،وہ کروڑوں پاکستانیوں میں سے کسی کے علم میں نہیں۔جواب میں کہا گیا ہے کہ اس درخواست کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اسے خارج کیا جائے ۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ میں نے کوئی قومی راز افشاء نہیں کیاقومی سلامی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میں نے میاں نواز شریف سے اس بابت کوئی بات نہیں کی ،میاں نواز شریف پارٹی لیڈر ہیں اور میں نے پارٹی لیڈر سے ملاقات کی تھی ۔صحافی سرل المیڈا کی طرف سے جواب میں کہا ہے کہ میاں نواز شریف نے جو انٹرویو دیا میں نے وہ ہی شائع کیا،میں نے اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھا۔درخواست گزار آمنہ ملک نے میاں نواز شریف کے سرل المیڈاکودیئے گئے ایک انٹرویو کو بنیاد بنا کر موقف اختیار کررکھا ہے کہ انہوں نے اداروں پر بے بنیاد الزامات لگائے ،اس انٹرویو کی بابت قومی سلامتی کمیٹی کی کارروائی شاہد خاقان عباسی نے سابق وزیر اعظم کو بتا کر حلف کے منافی اقدام کیا۔درخواست میں ان تینوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے ۔اس کیس کی مزید سماعت12نومبر کو ہوگی۔عدالت نے درخواست گزار سے جواب الجواب بھی طلب کرلیاہے ۔فل بنچ میں میاں نواز شریف کی متوقع آمد کے پیش نظر لاہور ہائی کورٹ میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔

مزید : صفحہ اول /رائے