سسٹم کمپیوٹر ائزڈ ، کرپشن کا 75فیصد خاتمہ ، وی سی کا دعوی

سسٹم کمپیوٹر ائزڈ ، کرپشن کا 75فیصد خاتمہ ، وی سی کا دعوی

ملتان (خصوصی رپورٹر)زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے دعویٰ کیا ہے کہ سسٹم کو کمپیوٹرائزڈ کرکے کرپشن کا 75فیصد خاتمہ کردیا گیا ہے ، لاہور کیمپس کو دوبارہ نہ کھولنے بارے گورنر کو درخواست ، فاصلاتی نظام تعلیم کی بندش سے کرپشن کا باب بند ہوگیا گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر طاہر امین نے کہا کہ یونیورسٹی کے تشخص کو بحال کرنے کی کوشش رنگ لائیں ہیں ،کرپشن میں کمی ہوئی ہے ، فاصلاتی نظام تعلیم کو بند کرکے کرپشن کا ایک باب بند کردیا گیا ، لاہور کیمپس کے بارے میں گورنر سے با ت کی ہے اور ان (بقیہ نمبر9صفحہ12پر )

کو مکمل بریفنگ دی گئی ہے ان سے درخواست کی گئی ہے کہ اس کیمپس کو دوبارہ نہ کھولا جائے ورنہ ایک اور پنڈوراباکس کھل جائے گا، اب اس کیمپس کے طلبا کو مین کیمپس میں زیر تعلیم رکھ کر ڈگریاں مکمل کرائی جارہی ہیں اس پر یونیورسٹی کا 15 کروڑ روپے خرچ ہوچکا ہے جب کہ اس مد میں ایچ ای سی اور ایچ ای ڈی کے طرف سے ابھی تک کوئی امداد نہیں ملی ہے ، وائس چانسلر کا کہناتھا کہ یونیورسٹی کو کرپشن فری کرنے کیلئے جو اقدامات کئے گئے اس سے 75 فیصد کرپشن ختم ہوگئی، اس وقت یونیورسٹی میں داخلے مکمل طورپر کمپیوٹرائزڈ کردیا گیا ہے ، جس کی وجہ سے میرٹ سوفیصد یقینی ہوگیا ہے ، جبکہ ایڈمنسٹریشن کو کمپیوٹرائرڈ کیا جارہا ہے اکاونٹس میں ایک کمپیوٹرائزڈ پروگرام ’’سیپ‘‘ لانچ کردیاگیا ہے اس وقت ٹرائلز چل رہا ہے اس سے اس شعبے میں کرپشن مکمل طور پرختم ہوجائے گی، اس عمل سے عوام میں یونیورسٹی کا تشخص بحال ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ رواں برس داخلے کے لئے درخواستیوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب تھی ، اور میرٹ بہت ہائی رہا ہے اس سے یونیورسٹی کو ایک کروڑ 56لاکھ روپے تک آمد ن ہوئی ڈاکٹر طاہرا مین نے کہا کہ ایچ ای سی کی منظوری کے بعد بائیو ٹیکنالوجی پراجیکٹ کا سول ورک آئندہ ماہ سے شروع کردیا جائیگا، بوائز اینڈ گرلز ہاسٹلوں کو رواں برس مکمل کرنا چاہتے ہیں ، جبکہ اوورک کے توسط سے رواں برس 46سے زائد ریسرچ پراجیکٹ حاصل ہوئے ہیں ان کی تعداد کو مزید بڑھایاجائیگا، ایچ ای سی کی رینکنگ میں یونیورسٹی کی8ویں پوزیشن کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی ،یہ ایک پیچیدہ طریقہ کار ہے تاہم ایچ ای سی کے معیار کے مطابق ریسرچ ورک کو یقینی بنایا جائیگا۔

ڈاکٹر طاہر امین

مزید : ملتان صفحہ آخر