پابندی کے بعد ہزروں کھٹارہ آئل ٹینکر ز’’گراؤنڈ ‘‘ ہڑتال بھی فلاپ

پابندی کے بعد ہزروں کھٹارہ آئل ٹینکر ز’’گراؤنڈ ‘‘ ہڑتال بھی فلاپ

ملتان ( سٹاف رپورٹر)کھٹارہ آئل ٹینکرز ’’چلتے پھرتے بم‘‘ بن گئے ۔حادثات کے خدشات کے پیش نظر اوگرا پرانے وکھٹارہ آئل ٹینکرزکی بندش پر ڈٹ گئی جس پر آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کی گزشتہ روز بھی جزوی ہڑتال رہی ۔ بتایا گیا ہے کہ اوگرا نے حادثا ت خدشات کے پیش نظر 2010سے پرانے اور کھٹارہ آئل ٹینکرز پر پابندی عائد کر دی ہے ۔ یہ پابندی کچھ عرصہ پہلے بھی لگائی گئی تھی مگر آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے احتجاج و ہڑتال کے باعث اس پابندی(بقیہ نمبر17صفحہ12پر )

پر عملدرآمد نہ کرایا جا سکا اور اس پر نظرثانی کی یقین دہانی کرائی گئی مگر پرانے آئل ٹینکرز کے حادثات کے باعث اب پھر پابندی لگا دی گئی جس پر آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے رہنما شمس شاہوانی نے اوگرا سے مذاکرات کئے اور مطالبات تسلیم نہ ہونے پر ہڑتال کی کال دے دی جو کامیاب نہیں ہو سکی ہے کیونکہ آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین اسلم نیازی‘ سیکرٹری اطلاعات عبداللہ ہمدرد اور دیگر عہدیداروں نے شمس شاہوانی کے اوگراکے ساتھ مذاکرات اور ہڑتال سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ اوگرا کی طرف سے اس بارے میں سختی کے باعث پی ایس او‘ شیل ‘ٹوٹل اور دیگر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے 2010سے پرانے آئل ٹینکرز میں تیل لوڈ نہیں کر رہی ہیں کیونکہ اوگرا نے متنبہ کیا ہے کہ پرانے آئل ٹینکرز میں سپلائی جاری کرنے والی کمپنیوں کو لاکھوں روپے جرمانہ کیاجائے گا ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جن ٹھیکیداروں کے پاس اگر50آئل ٹینکر ز ہیں تو ان میں 2010سے پرانے آئل ٹینکرز پابندی کے باعث کھڑے کر دئیے گئے ہیں جبکہ نئے10آئل ٹینکرز چل رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق آئل ٹینکرز کی ہڑتال کی کال کامیاب نہیں رہی ہے کیونکہ نئے آئل ٹینکرز گزشتہ روز بھی کام میں لائے گئے جبکہ کھٹارہ آئل ٹینکرز بند کئے گئے ہیں جسے ہڑتال کا نام دیا گیا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر