رائٹ ٹوسروسز کمیشن کے قیام کا مقصد خدمات کی فراہمی ہے : مشتاق جدون

رائٹ ٹوسروسز کمیشن کے قیام کا مقصد خدمات کی فراہمی ہے : مشتاق جدون

پشاور( سٹاف رپورٹر)چیف کمشنر رائٹ ٹو سر وسز کمیشن مشتا ق جد ون نے کہا ہے کہ رائٹ ٹو سروسز کمیشن کے قیا م کا مقصد شہر یو ں کو سر کا ری محکمہ جا ت اور ادروں کی جا نب سے مقر رہ وقت میں خد ما ت کی فراہمی کو یقینی بنا نا اور پیشہ ورانہ خد ما ت میں کوالٹی اور شفا فیت لا نا ہے۔ اُنہو ں نے کہا کہ سر کا ری محکمہ جا ت کی زمہ داری ہے کہ وہ شہر یو ں کو اپنے خدما ت مقررہ وقت ہی میں فرا ہم کر یں اور اگر کو ئی بھی ادارہ کسی بھی قسم کی درکا ر سروس کی فراہمی ممکن نہیں بنا سکتا تو اُن کو اظہار وجوہ پیش کر نا ہو گا۔ اُنہو ں نے کہا کہ رائٹ ٹو سروسز قا نو ن کی افا دیت کو مد نظر رکھتے ہو ئے اب وفا قی حکو مت سمیت، بلو چستا ن اور پنجا ب کی صو با ئی حکو متو ں نے بھی اسطر ح کے کمیشن کے قیا م کا عند یہ دیا ہے۔ ان خیا لا ت کا اظہا ر اُنہو ں نے پیر کے روز ڈپٹی کمشنر ملا کنڈ کے کا نفرنس روم میں رائٹ ٹو سروسز کمیشن کے حوالے سے ضلعی اور لا ئن ڈیپا رٹمنٹس کے افسران کے ایک آگا ہی اجلا س سے اپنے خطا ب میں کیا۔ مذکو رہ اجلا س میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ملا کنڈ منصور ارشد کے علا وہ اسسٹنٹ کمشنرز، ڈی ایف اوز، محکمہ ہا ئی جنگلا ت و جنگلی حیا ت، تعلیم، لو کل گو رنمنٹ، آبپا شی اور دیگر محکمہ جا ت کے افسران، تحصیل نا ظم بٹ خیلہ ودیگر نے شر کت کی۔ اجلا س کے دوران چیف کمشنر مشتا ق جدون نے کہا کہ مذکو رہ کمیشن کے قیا م کے ذریعے اب تک تقریباً 19 صوبا ئی محکمہ جا ت اور ادارے عوام کو بھر پو ر خد ما ت فرا ہم کر نے کے پا بند ہیں اور صحت، لو کل گو رنمنٹ و پو لیس تما م اہم شعبو ں سے عوامی خد ما ت کی فراہمی کا جا ئزہ بھی لیا جا تا ہے۔ اُنہو ں نے کہا کہ اس کمیشن کی وسا طت سے شہر یو ں کیلئے صفا ئی و ستھرائی کا یقینی بنا نا ایک اہم جز ہے لہذا بٹ خیلہ شہر میں کو ڑا کر کٹ نہر میں ڈالنے کی بجا ئے مخصو ص مقا ما ت پر جمع کر نے کیلئے منا سب پو ائنٹس کی نشا ند ہی کی جا ئے ۔اُنہو ں نے ڈسٹرکٹ ما نیٹر نگ افسر رائٹ ٹو سروسز کمیشن کو محکمہ جنگلا ت کے شجر کا ری مہما ت میں اپنے ادارے کے با رے میں آگا ہی فرا ہمی کے لئے اپنی شر کت یقینی بنا نے کی ہدایت کی۔ اجلا س کے دوران ڈسٹرکٹ ما نیٹر نگ افسر رائٹ ٹو سروسز کمیشن ملا کنڈ نے ضلع بھر میں مختلف محکمو ں کی جا نب سے فرا ہم کی گئی خد ما ت کی اعداد و شما ر بھی پیش کئے گئے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر