عام انتخابات کے دھاندلی زدہ ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں : حیدر ہوتی

عام انتخابات کے دھاندلی زدہ ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں : حیدر ہوتی

پشاور ( سٹی رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ مخصوص قوتوں کی جانب سے الیکشن میں مداخلت کے باعث نتائج تبدیل ہوئے ،شفاف انتخابات ہوتے تو اے این پی صوبے کی حکمران جماعت کے طور پر سامنے آتی، ضمنی الیکشن میں اے این پی کی کامیابی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں پر عدم اعتماد کا ثبوت ہے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں پارٹی کی صوبائی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، مرکزی صدر اسفندیار ولی خان ، سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور ، میاں افتخار حسین ،صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک سمیت منتخب ارکان اسمبلی اور کونسل کے ممبران نے اجلاس میں بھرپور شرکت کی، اس موقع پر تنظیمی امور کے حوالے سے اہم امور زیر بحث آئے اور مختلف تجاویز بھی سامنے آئیں، امیر حیدر خان ہوتی نے ضمنی ا لیکشن میں بھرپور محنت کرنے پر تمام پارٹی کارکنوں اور متحدہ اپوزیشن میں شامل جماعتوں کے قائدین کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے انٹرا پارٹی الیکشن کے حوالے سے کہا کہ موجودہ تمام تنظیمیں نئے تنظیمی ڈھانچے تک فعال رہیں گی اور تمام معاملات مئی2019تک نمٹا دیئے جائیں گے،انہوں نے کہا کہ 25جولائی کے الیکشن میں ہمارا مینڈیٹ چوری کر کے ہماری فتح کو ہار میں تبدیل کر دیا گیا،انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ عام انتخابات دھاندلی زدہ ہیں اور سازش کے تحت پختون لیڈر شپ کو پارلیمنٹ سے باہر رکھا گیا،انہوں نے کہا کہ ہمیں سیاست سے کوئی دور نہیں کر سکتا اور اے این پی عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ میدان میں موجود رہے گی، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ کہ کرپشن کی روک تھام اور احتساب کے عمل کو شفاف بنانے کیلئے ملک کے تمام طبقات کا احتساب ناگزیر ہو چکا ہے جبکہ ملک میں طویل عرصہ سے صرف سیاسی لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جا رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ ملک کی سیاسی تاریخ میں انتقامی سیاست نے ملک کو ہر لحاظ سے کمزور کر دیا ہے جس کا براہ راست اثر غریب عوام پر پڑتا ہے، انہوں نے کہا کہ حقیقی عوامی نمائندگی کا احترام ضروری ہے اور اے این پی اس کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر