نیا ہاؤسنگ پروگرام انتہائی اہم منصوبہ ، مقصد بے گھر افراد کی فلاح و بہود ہے : محمود خان

نیا ہاؤسنگ پروگرام انتہائی اہم منصوبہ ، مقصد بے گھر افراد کی فلاح و بہود ہے : ...

پشاور( سٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام انتہائی اہم منصوبہ ہے جس کا مقصد نہ صرف بے گھر لوگوں کی فلاح و بہبود ہے بلکہ یہ ہزاروں بیروزگار افراد کے روزگار کا وسیلہ اور معیشت میں تیزی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا یہ اپنی نوعیت کا منفرد منصوبہ ہے جس سے کم آمدنی والے افراد مستفید ہوسکیں گے وزیراعظم عمران خان نے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے اس میگا رہائشی منصوبے کا اعلان کرتے وقت قوم کو یہ بھی یقین دلایا ہے کہ وہ ملک کو موجودہ مشکل صورتحال سے سرخرو ہوکر نکالیں گے قوم کی خوشحالی کا اچھا وقت بھی ضرور آئے گا جب قوم طویل عرصہ باریاں لینے والے بد عنوان اور کرپٹ حکمرانوں کو منتخب اور برداشت کرتی ہے تو اس کی بھاری قیمت بھی چکانی پڑتی ہے ان ظالم حکمرانوں نے عوام کو سبز باغ دکھا کر خوب لوٹ مار کی اور یہ لوٹی دولت مختلف گمنام ذرائع سے بیرون ملک منتقل کی اب کوئی بھی فورم اسے ظاہر کرنے سے قاصر ہے وہ گراسی گراؤنڈ سیدو شریف سوات میں نیاپاکستان ہاؤسنگ سکیم کے رجسٹریشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے تھے تقریب میں صوبائی وزراء، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی،ڈی جی نادرا، کمشنر ملاکنڈڈویژن اور ڈپٹی کمشنر سوات کے علاوہ بلدیاتی نمائندگان اور عمائدین علاقہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس عظیم قومی پروگرام کے پہلے مرحلے میں ہمارے صوبے سے صرف سوات کے انتخاب کی وجہ یہ ہے کہ یہ ضلع کافی عرصہ دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا آج حکومت کے 100 دنوں کے ترقیاتی منصوبوں میں یہ اہم سکیم شامل ہے اس بڑے اعزاز پر وہ اہل سوات کو مبارکباد دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ شروع ہونے سے غریبوں کو چھت میسر آنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو روزگار بھی ملے گا ان ہاؤسنگ سکیموں کے ساتھ چھوٹے، درمیانے اور بڑے پیمانے پر صنعتکاری ہو گی جس سے معاشی سرگرمیوں اور شرح نمو میں اضافہ ہو گا اس میگا رہائشی سکیم کی رجسٹریشن کے آغاز سے ایک بڑا عملی قدم اٹھا لیا گیا ہے جس کا آج سوات میں بھی باضابطہ افتتا ح ہوگیا ہے اب اگلے مرحلے میں ون ونڈو آپریشن کے تحت نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کا قیام عمل لایا جا رہا ہے جس کی نگرانی وزیراعظم خود کریں گے ابتدائی طور پر سات اضلاع سوات، اسلام آباد‘ فیصل آباد‘ سکھر‘ کوئٹہ‘ گلگت اور مظفر آبادمیں پائلٹ پراجیکٹ کا آغاز ہوا ہے اگلے 60 دنوں میں رجسٹریشن کا عمل مکمل ہو گا کچی آبادیوں کے رہائشیوں کو مالکانہ حقوق دینے کی سکیم بھی شروع کی جارہی ہے فنانسنگ سے متعلق رکاوٹیں دور کرنے کیلئے نیشنل فنانشل ریگولیٹری ادارہ بھی قائم کیا جا رہا ہے گھروں کیلئے اراضی حکومت فراہم کرے گی جبکہ باقی کام نجی شعبہ انجام دے گا ہمیں وسائل کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے مگر ہم عوام کو اپنے وعدے پورے کرکے دکھائیں گے انہیں سبز باغ نہیں دکھائیں گے ملک کو 8 ارب ڈالر کی درآمدات اور برآمدات کے عدم توازن کا مسئلہ بھی درپیش ہے جو گذشتہ حکومتوں کی جانب سے ہمیں تحفہ میں ملا ہے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 18 ارب ڈالر ہے یہ 10 سے 12 ارب ڈالر خسارے کا معاملہ ہے اس مالیاتی عدم توازن سے خیبر پختونخوا سمیت تمام صوبے بھی براہ راست متاثر ہیں مگر عمران خان جیسے سچے لیڈرکی موجودگی میں اب زیادہ فکر کی بات نہیں کیونکہ وہ قوم کو بحرانوں سے نکالنے کا گُر جانتے ہیں گزشتہ اور پیوستہ حکمرانوں نے غیور پاکستانی قوم کو مغرب کا معاشی غلام بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی البتہ اب ہمیں ڈرنے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں قوم حوصلہ رکھے عمران خان ملک کوان مشکل حالات سے نکالنے میں ضرور کامیاب ہوں گے موجودہ بحران سے نکلنے اور قرضے کی قسطیں ادا کرنے کیلئے ہمیں تمام آپشنز کو دیکھ کر عوام کے مفاد میں بہتر فیصلہ کرنا ہو گا اگر منی لانڈرنگ روک لی جاتی تو آج ہمیں روپے کی بے قدری کا سامنا نہ ہوتاالبتہ یہ عارضی پریشانی ہے قوموں کی زندگی میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے ہم نے جو اصلاحات متعارف کرائی ہیں انکے اثرات جلد نظرآئیں گے۔

سوات (بیورورپورٹ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ سوات میں پائیدار امن کے قیام اور عوام میں مسکراہٹیں بکھیرنے پر اہل سوات پاک فوج کے شکر گزار ہیں آرمی کے تعاون سے یہاں کی سول انتظامیہ اور پولیس بھی مکمل طور پر تیار ہو چکی ہے اور صوبائی حکومت بھی سوات کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے ترقیاتی سکیموں کا آغاز کر چکی ہے یہاں سکیورٹی اداروں اور سول انتظامیہ کو مزید مضبوط بنانے کیلئے ہر طرح کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی وہ کانجو ائیرپورٹ پر سوات میں سول انتظامیہ کو اختیارات منتقلی کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے تقریب میں کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ(ہلال امتیاز ملٹری)، آئی جی پولیس صلاح الدین محسود، کمشنر ملاکنڈ سید ظہیرالاسلام شاہ(تمغہ شجاعت)، ڈپٹی کمشنر سوات ثاقب رضا اسلم، سوات کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور بلدیاتی نمائندگان نے کثیر تعداد میں شرکت کی وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک دہائی قبل اس خوبصورت وادی پر ملک دشمن عناصر نے قبضہ کر لیا تھا دہشت گردوں نے ہمارے معصوم عوام پر جو مظالم ڈھائے وہ اسکے بذات خود عینی شاہد ہیں یہ سوات کے عوام کیلئے سیاہ ترین دور تھا مگر ان کا حوصلہ اور سوات کو پر امن بنانے کا عزم مثالی رہا انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے سوات کے سماجی اور معاشی نظام کو جس بے دردی سے نقصان پہنچایا اس کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے ہمارے تدریسی ادارے تباہ کئے گئے خواتین پر ناجائز پابندیاں لگائی گئیں اور بے گناہ لوگوں کو مارا گیا ایسے مشکل وقت میں پاک فوج، پولیس اور سوات کی عوام نے مل کر دشمن کا پامردی سے مقابلہ کیا اور بیش بہا قربانیاں دیں پاک فوج نے عوام کی حمایت سے شجاعت کی جو لازوال داستانیں رقم کیں انکی مثال نہیں ملتی دہشتگردی کو شکست دینا کتنا مشکل کام ہے یہ پڑوسی ملک کے حالات سے پتہ چلتا ہے لیکن ہماری بہادر فوج اور جذبہ قربانی سے سرشار قوم نے اس نا ممکن کو ممکن بنایا محمود خان نے اعتراف کیا کہ پاک فوج نے نہ صرف شدت پسندوں کو مار بھگایا بلکہ سوات کے عوام کی فلاح و بہبود میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا دہشت گردی میں ہونے والی تباہی کے بعد پاک فوج نے اپنی مدد آپ کے تحت یہاں تعمیر نو کا کام شروع کیااور مختلف ترقیاتی کاموں کا آغاز کر کے یہاں کے عوام کوترقی کی راہ پر گامزن کیا پاک فوج نے اپنے عوام دوست روئیے کی بدولت عوام کے دل جیتے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب حالات کافی بہتر ہیں پولیس کی نفری بڑھ چکی ہے اور اسکی بہترین تربیت بھی ہوچکی ہے اسی طرح سوات کی سول انتظا میہ نے گزشتہ چند برسوں میں یہاں کا نظام احسن طریقے سے چلایا ہے اور اب وہ پورے اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ سوات ان کے ہاتھوں میں نہ صرف محفوظ ہے بلکہ دن دگنی رات چگنی ترقی کرے گا محمود خان نے کہا کہ آج سول انتظامیہ کو اختیارات کی منتقلی کا دن سوات کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ دہشت گردوں کیلئے عظیم شکست کی نوید ہے سکیورٹی کی ذمہ داری واپس سول انتظامیہ کو سونپ دی گئی ہے اب سوات کے عوام کی حفاظت ، ترقی و خوشحالی اور تمام امور دوبارہ مقامی انتظامیہ کے سر آچکے آج ایک بار پھر سول انتظامیہ کو انتظامی امور کی انجام دہی سونپی جار ہی ہے اسلئے اب اس کی قابلیت کا امتحان شروع ہو چکا ہے اگر اس نے احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے فرائض بطریق احسن سر انجام دئیے تو یقینی ہے کہ سوات ملک کے بہترین اضلاع میں شامل ہو گا۔

مزید : کراچی صفحہ اول