کمرشل اور گھریلو سیکٹرز مین بڑے پیمانے پر بجلی چوری،لیسکو کو ماہانہ کروڑوں کا جھٹکا

کمرشل اور گھریلو سیکٹرز مین بڑے پیمانے پر بجلی چوری،لیسکو کو ماہانہ کروڑوں ...

  

لاہور(رپورٹ:لیاقت کھرل)صوبائی دارلحکومت میں اعلیٰ افسران کی مبینہ چشم پوشی اور ناقص حکمت عملی کے باعث بڑے پیمانے پر بجلی چوری ، کمرشل اور گھریلو سیکٹر میں کنڈے ڈال کر بجلی چوری سے لیسکو کو ماہانہ کروڑوں کا جھٹکا لگنے لگا ہے۔ساؤتھ سرکل نے دیگر سرکلز کو مات دے دی ’’روزنامہ پاکستان‘‘ کو لیسکو چیف کو پیش کی جانے والی رپورٹ سے ملنے والی معلومات کے مطابق لیسکوحکام نے بھی چوری کی روک تھام اور لائن لاسز کو کنٹرول کرنے میں مبینہ طور پر چشم پوشی سے کام لے رکھا ہے اور اس میں لیسکو کے اعلیٰ افسران کی مبینہ ناقص حکمت عملی کے باعث دیگر ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نسبت لیسکو میں سب سے زیادہ بجلی چوری ہونے لگی ہے جس میں لیسکو کی جانب سے سرکلز ڈویژنوں اور سب ڈویژن کی سطح پر سپلائی کی جانے والی بجلی کی ترسیل میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں اور بے قاعدگیاں پائی جارہی ہیں اور اس کی وجہ سے سب ڈویژن اور ڈویژن کی سطح پر رواں سال کے دوران بجلی چوری کی شرح میں 70فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے لائن لاسز کی شرح میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔اور اس میں بجلی چوروں نے لائن سپرنٹنڈنٹس اور میٹر انسپکٹروں کے ساتھ مبینہ طور پر ساز باز کررکھی ہے۔ جس میں جدید طریقہ کے ساتھ ساتھ پرانا طریقہ کنڈے ڈال کر بڑے پیمانے پر بجلی چوری کی جارہی ہے۔ جس میں لیسکو کے ساؤتھ سرکل نے ٹاپ کررکھا ہے۔ اور اس میں کوٹ لکھپت ڈویژن ، گلبرگ ڈویژن اور کینٹ ڈویژن کی20سب ڈویژنوں میں ماہانہ کروڑوں کی بجلی چوری کی جارہی ہے۔ جس سے سب ڈویژنوں اور ڈویژنوں میں لائن لاسز 11فی صدسے 12فیصد کی بجائے 16سے 18 اور 20 فیصد تک بڑھ گئے ہیں۔ جس میں متعلقہ سب ڈویژنوں کے ایس ڈی اوز، ایکسین کو شوکاز نوٹس دینے کے باوجود بجلی چوری کے واقعات پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے اور ڈویژنوں کی سطح پر ردوبدل کرکے لائن لاسز کو پورا اور برابر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس حوالے سے ایس ای رمضان بٹ کا کہنا ہے کہ بجلی چوری کی روک تھام کے لیے لاہور کی سطح پر سپیشل ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور اس میں لیسکوپولیس اور ایف آئی اے سمیت اور ڈی سی اوز کی ٹیمیں مشترکہ طور پر چھاپے ماریں گیں۔جس میں بجلی چوروں کو موقع پر پکڑ کر پولیس اور ایف آئی اے کے حوالے کیا جائے گا اور اس میں لیسکو کے افسران اور اہلکاروں کا ملوث ہونے پر اُن کے خلاف بھی محکمانہ کاروائی اور بجلی چوروں جیسا سلوک کیا جائے گا۔

بجلی چوری

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -