جہانگیر ترین کو کاروبار میں سب سے بڑا بریک تھرو کب اور کس طرح ملا ؟ پی ٹی آئی رہنما نے اپنے اربوں روپے کے کاروبار کے پیچھے چھپا اصل راز پہلی مرتبہ عوام کے سامنے رکھ دیا، بڑا انکشاف کر دیا

جہانگیر ترین کو کاروبار میں سب سے بڑا بریک تھرو کب اور کس طرح ملا ؟ پی ٹی آئی ...
جہانگیر ترین کو کاروبار میں سب سے بڑا بریک تھرو کب اور کس طرح ملا ؟ پی ٹی آئی رہنما نے اپنے اربوں روپے کے کاروبار کے پیچھے چھپا اصل راز پہلی مرتبہ عوام کے سامنے رکھ دیا، بڑا انکشاف کر دیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے کہاہے کہ جب میں پروفیسر تھا اور پڑھاتا تھا تو لوگو ںکا خیال غلط ہے کہ میں اس وقت پروفیسر ہی تھا ، میری فیملی بزنس میں تھی اور انہوں نے ملتان میں پیپسی کی ایک چھوٹی سی فرنچائز بھی لی تھی جبکہ میرے والد کی زمینیں بھی تھیں ۔

نجی ٹی وی سماءنیوز کے پروگرام میں اینکر ’ مبشر لقمان ‘ کو دیئے گئے خصوصی انٹریو میں جہانگیر ترین کا کہناتھا کہ میں نے لیکچر شپ اور بینک کی نوکری چھوڑی تو زمینوں پر کام کیا ، زمینوں سے مجھے بہت حوصلہ ملا ، سب سے پہلے مرچیںکاشت کیں۔ ان کا کہناتھا کہ میرے فارم کے تین کلومیٹر کے علاقے میں 12 سو ایکڑ سے زائد زمین تھی ، جو کہ فوجیوں کو ساڑھے 12 ایکڑ کے حساب سے الاٹ ہوئی ، وہ زمین بنجر تھی اوراس کے نیچے کھارا پانی تھا ، جب فوجی آئے اور انہوں نے زمین دیکھی تو وہاں کاشتکاری نہیں کر سکتے تھے ، وہ میں نے 20 سال کے عرصہ میں تھوڑی تھوڑی کر کے خریدی اور فارم بنایا جہاں اب میں نے باغ لگا دیاہے ۔جہانگیر ترین کاکہناتھا کہ والد نے مجھے فیکٹری کی ذمہ داری اور اسے بھی میں نے خوب بڑھایا ،سب کچھ خود بہ خود ہو گیا ، پھر میں نے بڑی مشکل سے تھوڑے تھوڑے پیسے جوڑ کر شوگر مل لگائی ۔

جہانگیر ترین نے بتایا کہ مجھے سب سے بڑا بریک تھرو اس وقت ملا جب پرویز مشرف نے ایمرجنسی لگائی تو میں ایڈوائزر تھا لیکن منتخب نہیں تھا اور سیاست میں بھی نہیں تھا ،حکومت ختم ہو گئی تو میں ڈیڑھ ماہ کیلئے بچوں کو لے کر بیرون ملک چلا گیا اور اس دوران بیٹھ کر میں نے اپنے دس سال کیلئے بزنس کا ویژن بنایا اور اسے لکھا، اس وقت میں شوگر مل روایتی انداز میں چلا رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ اگر کاشتکاروں کی بات سنیں گے اور ان کا خیال کریں گے تو وہ آپ کی بات مانیں گے اور اچھی فصل لگائیں گے ، اس حساب سے میں چلا اور اللہ کے فضل سے جب اس پر عملدرآمد کیا تو میں نے 8 سال میں کر لیا ،میں خوش قسمت تھا کہ میں اس پر عملدرآمد کر سکا اور اس پر میں اللہ کا شکر ادا کرتاہوں ۔

مزید :

قومی -