پنجاب میں گڈ گورننس کیلئے یوسف نسیم کھوکھر کیا کرنے والے ہیں؟

پنجاب میں گڈ گورننس کیلئے یوسف نسیم کھوکھر کیا کرنے والے ہیں؟
پنجاب میں گڈ گورننس کیلئے یوسف نسیم کھوکھر کیا کرنے والے ہیں؟

  

موجودہ حکومت کو اگرچہ سابق حکمرانوں کی تیار کردہ بیوروکریسی سے مشکلات کا سامنا ہے ، وزیر اعظم سے لے کر وزرا تک اس کا برملا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ دو ماہ گزرنے کے بعد بھی اہم محکموں میں بیوروکریٹس کی تعیناتی میں مشکل پیش آرہی ہے مگر حکومت بہت سوچ بچار اور برق رفتاری سے افسروں کو منتخب کررہی ہے ، یہی وجہ ہے کہ آئی جی پنجاب کو بار بار تبدیل کیا گیا، چیف سیکرٹری پنجاب کے عہدے پر تعیناتی کیلئے سر جوڑے گئے ، جس کے بعد پنجاب بیوروکریسی کیلئے تجربہ کار ،معاملات کو سمجھنے والے اور فیصلہ سازی کے ماہر یوسف نسیم کھوکھر کو اس عہدہ کیلئے منتخب کیا گیا۔

یوسف نسیم کھوکھر گریڈ 22کے سینئر ، تجربہ کار ، باصلاحیت افسر ہیں، ان کی تعیناتی کیلئے حکومت کو 50روز تک سوچ بچار کرنا پڑی، انہوں نے 1986میں بطور اسسٹنٹ کمشنر فرائض کی انجام دہی کی، وہ سکھر، خوشاب، سرگودھا میں ڈپٹی کمشنر اور سول سیکرٹریٹ میں بطو رڈپٹی سیکرٹری بھی فرائض انجام دیتے رہے، مشکل ترین دور میں سیکرٹری پاور بھی رہے، چیف سیکرٹری پنجاب تعیناتی سے قبل وہ وفاقی سیکرٹری داخلہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ بھی کلیدی عہدے پر کام کیا۔ یوسف نسیم کھوکھر کا شمار قانون پسند، عوام دوست افسروں میں ہوتا ہے ۔ میرٹ پر کام کرتے ہیں اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتے، مرکز اور پنجاب کو ایسے ہی دیانتدار ، اہل ، باصلاحیت افسروں کی ضرورت ہے تاکہ ریاستی امور کو عمران خان کے وڑن کے مطابق چلایا جاسکے، ایسے افسروں کی حکومت کو قطعی ضرورت نہیں جو قواعد و ضوابط پر ذاتی پسند نا پسند یا عوام مخالف منفی فیصلوں کو ترجیح دیں۔

بیوروکریسی کسی بھی حکومت میں ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتی ہے ، حکومت کا کام پالیسی سازی اور اہم نوعیت کے فیصلے کرنا ، عدالتوں کا کام انصاف کی فراہمی جبکہ پارلیمنٹ کا اصل فریضہ قانون سازی ہے، ان تمام اداروں کے فیصلوں ، قوانین ، پالیسیوں پر عملدرآمد کرانا دراصل بیوروکریسی کی ذمہ داری ہے۔ مگر سیاسی حکومتوں نے بیوروکریسی کو افسرشاہی میں تبدیل کردیا، سیاسی حکمرانوں نے سرکاری افسروں کو اپنا معاون خصوصی اور مشیر بنالیا، جس کے باعث امور مملکت چلانے میں نہ صرف دشواری ہوئی بلکہ افسرشاہی نوکر شاہی میں تبدیل ہوگئی۔

قیام پاکستان کے فوری بعد بیورکریسی میں یوپی، سی پی کے مہاجرین کا غلبہ تھا، لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد عملاً حکمرانی بیوروکریسی کے ہاتھ میں آگئی، ایوب خان کے مارشل لاء تک یہ سلسلہ جاری رہا، ایوب خان کے دور میں چند بیوروکریٹس اہمیت اختیار کرگئے ، باقی تمام بیوروکریٹ عملی طور پر کھڈے لائن لگے رہے، بھٹو دور میں سیاسی حکومت نے بیوروکریسی کو اصلاحات کے نام پر ذاتی ملازم بنالیا، افسر ،وزراء اور پارٹی عہدیداروں کے گھروں میں حاضری دینے پر مجبور ہوگئے۔

ضیاء الحق اور مشرف دور میں چند بیوروکریٹس فعال اور متحرک رہے ، نوازشریف نے بیوروکریسی پر گرفت سخت رکھی اور انہیں باقاعدہ طورپر مملکت کا وفادار بنانے کی بجائے اپنی وفاداری پر مجبور کیا، رہی سہی کسر شہباز شریف نے ذاتی پسند ناپسند کو ترجیح دے کر پوری کردی، قابلیت اور صلاحیت کو قطعی اہمیت نہ دی، بیوروکریٹس کی توہین و تضحیک کو شعار بنایا، جس کے باعث بیوروکریسی قوانین پر عملدرآمد کرنے کی بجائے شہباز شریف کے احکامات کو اہم سمجھنے لگے، جو بیوروکریٹ شہبازشریف کو بھاگیا اسے بے تحاشا نوازا گیا، جس سے بیوروکریسی میں احساس محرومی پیدا ہوا اور ان کی کارکردگی شدید متاثر ہوئی، اس طرز عمل نے قابل ، با صلاحیت ، اعلیٰ تعلیم یافتہ بیوروکریٹس کو بد دل کردیا جو قومی المیہ تھا۔

بیوروکریٹ دراصل مملکت اور ریاست کے ملازم ہوتے ہیں، ان کی ذمہ داری قواعد و ضوابط کے مطابق حکومتی امور چلانا ہے، جو قانون پارلیمنٹ بنائے اس پر عملدرآمد ، حکومت جو پالیسی بنائے اسے کامیاب کرانا، عدالتی فیصلوں پر عمل کو یقینی بنانا بیوروکریسی کا اصل کام ہے، حکمرانوں کی کاسہ رسی ، سیاستدانوں کی درگاہ پر حاضری یا انکے احکامات پر عملدرآمد کرانا بیوروکریسی کا کام نہیں ہے، ملک آج جس بحران سے دو چار ہے اس سے نکلنے کیلئے ایک مضبوط ، مربوط ، منظم ، محب وطن ، قانون پسند، قابل ، با صلاحیت اور فرائض کی تن دہی سے ادائیگی کرنیوالے بیوروکریٹس کی ضرورت ہے، جو ہر قسم کے حکومتی غلبہ اور سیاسی تسلط سے آزاد ہو، کسی دباو کو خاطر میں لائے بغیر اپنے فرائض منصبی قانون اور آئین کے مطابق سر انجام دے۔اسی طریقے سے ملک اور پنجاب میں گڈ گورننس کا عمل بہتر ہو سکتا ہے۔

امید کی جارہی ہے کہ یوسف نسیم کھوکھر اپنی محنت ،تجربے اور لگن سے پنجاب میں بگڑے ہوئے انتظامی معاملات کو درست کر کے گڈ گورننس کو فروغ دیں گے۔مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومت بھی انہیں سیاسی دباو سے آزاد ہو کر عمران خان کیویزن کے مطابق مقامی حکومتوں،صحت،تعلیم،جنگلات ،ماحولیات،ہاوسنگ اور پینے کے صاف پانی کے سیکٹر میں کام کرنے کیلئے اچھی ،قابل اعتماد اور نتائج دینے والی ٹیم بنانے کا موقع دے تاکہ وہ آئیندہ سالوں کے دوران عملی رزلٹ دے سکیں۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -