ولدیت کی تبدیلی کیس، والدکانام حذف کرنا بچی کیلئے ٹھیک نہیں ہوگا،نادرا قوانین کو بدلنے تک ایسا ممکن نہیں،چیف جسٹس

ولدیت کی تبدیلی کیس، والدکانام حذف کرنا بچی کیلئے ٹھیک نہیں ہوگا،نادرا ...
ولدیت کی تبدیلی کیس، والدکانام حذف کرنا بچی کیلئے ٹھیک نہیں ہوگا،نادرا قوانین کو بدلنے تک ایسا ممکن نہیں،چیف جسٹس

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان میں شناختی کارڈ میں ولدیت کی تبدیلی کیلئے درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ والدکانام حذف کرنا بچی کیلئے ٹھیک نہیں ہوگا،نادراقوانین کوبدلنے تک ایساممکن نہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے شناختی کارڈمیں ولدیت کی تبدیلی کیلئے درخواست کی سماعت کی، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عدالتی معاون بتائیں کیابچی کے والدکانام ریکارڈ سے تبدیل کیاجاسکتاہے؟،چیف جسٹس نے عدالت معاون سے سوال کیا کہ کیاوالد کی جگہ والدہ کانام لکھاجاسکتا ہے؟،بچی کی والدہ کہتی ہے ولدیت میں اس کانام لکھیں۔

عدالت معاون نے بتایا کہ بچی کے والد کے نام کی ضرورت ریاست کو ہے،دوسراسوال یہ ہے کہ کیاولدیت کوریکارڈمیں رکھاجاسکتا ہے؟ بین الاقوامی طورپرولدیت لکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی؟عدالتی معاون نے کہا کہ والد کے نام کی کئی جگہ پرضرورت پڑتی ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ والدکانام حذف کرنا بچی کیلئے ٹھیک نہیں ہوگا،نادراقوانین کوبدلنے تک ایساممکن نہیں۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد