ٹیم ورک

ٹیم ورک
ٹیم ورک

  

اردو زبان کا ایک محاورہ ہے کہ ایک اکیلا دو گیارہ۔ یہ محاورہ اس بات کا بڑا خوبصورت بیان ہے کہ مل کر کام کرنا تنہا کام کرنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے۔ تاہم مل کر کام کرنے کی ایک بہت بڑی قیمت ادا کرنی ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ لوگ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے بجائے ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔ اپنی ذات کو نمایاں کرنے اور ذاتی مفاد کو اہمیت دینے کے بجائے مشترکہ مقاصد کو اہمیت دیں۔ جب اختلاف ہوجائے تو اسے انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے اس حقیقت کو مان لیں کہ لوگ مختلف انداز سے سوچ سکتے ہیں۔

ایک کاروباری ادارے میں اتحاد عمل اس لیے وجود میں آ جاتا ہے کہ وہاں اختلاف کی شکل میں کوئی بھی شخص خود علیحدہ ہو سکتا ہے یا مالک اسے الگ کر کے اسی صلاحیت کا دوسرا آدمی تنخواہ پر ملازم رکھ سکتا ہے۔ تاہم ایک غیر کاروباری ادارے میں صورتحال بہت مختلف ہوتی ہے۔ وہاں لوگ کسی مفاد کے گرد نہیں بلکہ کسی مشترکہ مقصد کے گرد جمع ہوتے ہیں۔ ایسے بامقصد لوگ بہت اعلیٰ انسان ہوا کرتے ہیں۔ تاہم ان اعلیٰ انسانوں کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ یہ قیمت ان کی رائے کا احترام، ان کی خودداری کا لحاظ اور ان کی صلاحیت کے لحاظ سے ان کو کام دینا ہوتا ہے۔

تاہم ایک دوسری چیز اس کے ساتھ بہت اہم ہے۔ وہ ان لوگوں کی مستقل تربیت ہے۔ اس بات کی تربیت کہ لوگ خودداری کو خود پسندی اور انا میں تبدیل نہ کر دیں۔ لوگ اپنی صلاحیت کے اظہار میں ادارے کے ڈسپلن اور بنیادی اصول کی خلاف ورزی نہ کریں۔ وہ اپنی رائے کے عشق میں دوسروں کی آراء اور خیالات کو نظر انداز نہ کرنے لگیں۔

اجتماعی کامیابی اسی دو طرفہ قیمت کا نام ہے۔ یعنی اعلیٰ انسانوں کا لحاظ رکھنا اور ان لوگوں کا اپنی اصلاح و تربیت کے لیے تیار رہنا۔ یہی دو طرفہ رویہ ٹیم ورک کو مؤثر بناتا ہے۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -