باپ کی بیٹی سے زیادتی ، عدالت کی تفتیشی سے رپورٹ طلب

باپ کی بیٹی سے زیادتی ، عدالت کی تفتیشی سے رپورٹ طلب
باپ کی بیٹی سے زیادتی ، عدالت کی تفتیشی سے رپورٹ طلب

  


لاہور (ویب ڈیسک) باپ نے اپنی ہی سگی بیٹی کو جنسی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا , سگی بیٹی کو ہوس کا نشانہ بنانے پر باپ کیخلاف درخواست پر سول کورٹ نے تفتیشی افسر سے 27 اکتوبر کو واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی۔

روزنامہ خبریں کے مطابق سول جج ریاض افضل چنانے درخواست گزار عاصمہ بی بی اور اس کی جواں سالہ بیٹی (الف ) کے درخواست پر سماعت کی ، دوران سماعت متاثرہ خاتون عاصمہ بی بی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم جمشید اختر اس کا سابق شوہر ہے اور ملزم کیخلاف اگست 2018میں زیادتی کا مقدمہ شاہدرہ تھانہ میں درج کروایا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا رہا ، خاتون نے الزام عائد کیا کہ اس کا سابق شوہر ہی اپنی سگی بیٹی سے مسلسل زیادتی کرتا رہا ، درخواست گزار کاتون عاصمہ بی بی نے بتایا کہ ملزم جمشید سے گھریلو لڑائی جھگڑے کے باعث طلاق لے لی تھی لیکن سابق شوہر سے چھ بچے ہیں جو ابھی تک باپ کی زیر کفالت تھے ۔

خاتون نے الزام عائد کیا کہ میرا سابق شوہر اپنی ہی بیٹی (الف) کے ساتھ زبردستی عصمت دری کرتا رہ ااور اس بات کاانکشاف تب ہوا جب میرے بیٹے نے اپنے والد کو بہن کے ساتھ زیادتی کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا، خاتون نے عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ بدبخت سابق شوہر اپنی ہی سگی بیٹی کو بیوی ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے ، متاثرہ خاتون نے انکشاف کیا کہ شاہدرہ میں قائم کلینک میں عمارہ نامی ڈاکٹر نے میری بیٹی کا ابارشن کیا اور سابق شوہر کا حمل ضائع کروایا ، انہوں نے پولیس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شاہدرہ تھانے کا تفتیشی افسر بھی میرے سابق شوہر کے خلاف باضابطہ کارروائی عمل میں نہیں لا رہا، انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کو گرفتار کروا کے سخت سے سخت سزا کا حکم دے۔ متاثرہ خاتون اور اس کی والدہ نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس ثابت نثار اس شرمناک واقعہ کا نوٹس لیا اور ملزم درندہ صفت باپ جو کہ اپنی ہی بیٹی سے زیادتی کرتا رہا کو گرفتار کر کے نشان عبرت بنائے تاکہ پھر ایسا شرمناک کام نہ ہوسکے جس سے انسانیت کا سر شرم سے جھک جائے۔

مزید : جرم و انصاف /علاقائی /پنجاب /لاہور