سائنسدانوں نے 8 انسانوں کے معدے کا معائنہ کیا، کھانے کے ساتھ ہم اور کیا چیز اندر لے جاتے ہیں؟ ایسا انکشاف سامنے آگیا جو آپ نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہوگا

سائنسدانوں نے 8 انسانوں کے معدے کا معائنہ کیا، کھانے کے ساتھ ہم اور کیا چیز ...
سائنسدانوں نے 8 انسانوں کے معدے کا معائنہ کیا، کھانے کے ساتھ ہم اور کیا چیز اندر لے جاتے ہیں؟ ایسا انکشاف سامنے آگیا جو آپ نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہوگا

  

ویانا(مانیٹرنگ ڈیسک) آسٹریا کے سائنسدانوں نے اپنی ایک تحقیق میں 8انسانوں کے معدے کا معائنہ کیا، جس میں ان لوگوں کے جسم کے اندر ایسی چیز کا انکشاف سامنے آ گیا کہ کوئی تصور بھی نہ کر سکتا تھا۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے تحقیقاتی نتائج میں بتایا ہے کہ ان تمام لوگوں کے جسم میں پلاسٹک کے انتہائی چھوٹے ذرات موجود تھے، جو خون میں تحلیل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان سے انسان مہلک بیماریوں میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ ویانا کی میڈیکل یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے جتنے لوگوں کے جسم سے نمونے لیے ان تمام میں 9قسم کے مائیکروپلاسٹک کے ذرات پائے گئے۔ جس کا مطلب ہے کہ ہم سب کے جسم میں کھانے کے ساتھ پلاسٹک کے ذرات جا رہے ہیں۔‘‘

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر فلپ سکویبل کا کہنا تھا کہ ’’انسانی جسم میں یہ ذرات پلاسٹک کی بوتلوں، برتنوں اور دیگر ہر اس پلاسٹک کی چیز کے ذریعے پہنچ رہے ہیں جن میں ہم کھانا کھاتے یا پانی پیتے ہیں۔چنانچہ میرے خیال میں آج کے دور میں اس مہلک چیز کو جسم میں جانے سے روکنا ناممکن ہو چکا ہے۔ تحقیق میں جو سب سے زیادہ خطرناک بات سامنے آئی وہ یہ تھی کہ یہ پلاسٹک کے ذرات اتنے چھوٹے ہیں کہ خون اور بافتی نظام میں جذب ہو سکتے ہیں اور حتیٰ کہ جگر تک پہنچ سکتے ہیں۔یہ ذرات ہماری صحت کے لیے مہلک ثابت ہو سکتے ہیں تاہم ان کے حتمی نقصانات کو جاننے کے لیے ہمیں مزید تحقیق کرنی ہو گی۔‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس