’’ میں خواتین کو قتل کرنے کے بعد ان سے جنسی زیادتی کرتا ہوں اور ان کے اعضا کتوں کو ڈال دیتا ہوں تاکہ وہ ۔۔۔‘‘ 20 خواتین کے قاتل نے انتہائی خوفناک انکشاف کر دیا

’’ میں خواتین کو قتل کرنے کے بعد ان سے جنسی زیادتی کرتا ہوں اور ان کے اعضا ...
’’ میں خواتین کو قتل کرنے کے بعد ان سے جنسی زیادتی کرتا ہوں اور ان کے اعضا کتوں کو ڈال دیتا ہوں تاکہ وہ ۔۔۔‘‘ 20 خواتین کے قاتل نے انتہائی خوفناک انکشاف کر دیا

  

میکسیکو سٹی (نیوز ڈیسک)خالق کائنات نے انسان کو اشرف المخلوقات تخلیق کیا ہے مگر جب یہی انسان شیطان کا پیروکار بن جاتا ہے تو درندگی کی ایسی مثالیں قائم کر دیتا ہے کہ جن کا تصور کر کے ہی دل کانپ اٹھے۔ میکسیکو سے تعلق رکھنے والا درندہ ہوان کارلوس اور اس کی بیوی پیٹریشیا بھی سفاکیت کی ایک ایسی ہی مثال ہیں۔ ان ظالموں نے گزشتہ چند سال کے دوران ڈیڑھ درجن سے زائد خواتین کو قتل کیا، اور پھر ان کے جسم کے ٹکڑے کرنے کے بعد ان کا گوشت بھون کر کھا گئے۔

حال ہی میں گرفتار ہونے والے اس شیطان صفت جوڑنے نے اپنے جرائم کی تفصیلات بیان کیں تو سننے والے خوف سے لرز اٹھے۔ پیٹریشیا نے بتایا کہ ’’میرا خاوند ایک جنسی درندہ ہے۔ وہ ضرورتمند لڑکیوں کو کام کے بہانے گھر بلاتا تھا لیکن اصل مقصد ان لڑکیوں کو جنسی ہوس کا نشانہ ہونا ہوتا تھا۔ وہ میرے سامنے ان لڑکیوں کی عصمت دری کرتا تھا۔ جب اس نے لڑکیوں کو قتل کرکے ان کا گوشت کھانا شروع کیا تو مجھے بھی اپنے ساتھ ملا لیا۔ پھر ہم دونوں مل کر یہ کام کرتے رہے۔ ہم نے اب تک 20لڑکیوں کو قتل کر کے ان کا گوشت کھایا ہے۔‘‘

پیٹریشیا نے یہ بھی بتایا کہ یہ سلسلہ شروع کس طرح ہوا۔ اس کا کہنا تھا کہ ’’پہلی لڑکی جو ہمارا نشانہ بنی وہ 22 سالہ لکوئن رائس تھی۔ہوان نے اخبار میں گھریلو ملازمہ کے لئے اشتہار دیا تھا اور وہ ہمارے پاس کام ڈھونڈنے آئی تھی۔ وہ خوبصورت تھی اور ہوان نے فوری طور پر اسے رکھنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اسے کہا کہ وہ باتھ روم سے کپڑے اٹھاکر لائے اور جب وہ باتھ روم میں گئی تو ہوان نے اسے پیچھے سے دبوچ لیا۔ اس نے مجھے کہا کہ میں باہر چلی جاؤں۔ جب نصف گھنٹے بعد میں واپس آئی تو لڑکی خون میں لت پت پڑی تھی۔ ہوان نے اس کی ٹانگ سے گوشت کا ایک ٹکڑا کاٹا اور مجھے کہا کہ اس کی بوٹیاں سیخ پر لگا کر بھون دو۔ میں خوفزدہ تھی مگر اس نے کہا کہ وہ مجھے بھی مار ڈالے گا۔ میں نے اس کی بات مان لی اور ہم دونوں نے اس لڑکی کا گوشت بھون کر کھایا۔ اس کے بعد باقی گوشت ہمارے پالتو کتوں کو ڈال دیا۔ ہوان نے اس کے بعد بھی مختلف اوقات پر اسی طرح لڑکیوں کو قتل کیا اور ہم نے اُن کا گوشت کھایا۔ وہ مردہ لڑکیوں کے ساتھ بدفعلی بھی کرتا تھا۔ ہم اُن کا گوشت کھاتے تھے اور باقی بچنے والا گوشت کتوں کو ڈال دیتے تھے کیونکہ ہوان عورتوں سے نفرت کرتا تھا اور کہتاتھا کہ وہ زمین پر سانس لیں اس سے بہتر ہے کہ اُس کے کتے اُن کا گوشت کھا لیں۔‘‘

اخبار ’ڈیلی سٹار‘ کے مطابق دونوں ملزمان کا دماغی و نفسیاتی معائنہ کروایا گیا ہے۔ سائیکاٹرسٹ کی رپورٹ کے مطابق دونوں ذہنی امراض میں مبتلاء ہیں لیکن اس بات کا شعور رکھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کر رہے تھے وہ غلط اور قانونی طور پر جرم تھا۔ میسکیکو کی تاریخ کے اس ہولناک ترین مقدمے کی کاروائی جاری ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -جرم و انصاف -