’’ اُن مردوں کے بچے زیادہ صحت مند ہوتے ہیں جو باپ بننے سے پہلے ۔۔۔‘‘ سائنسدانوں نے مردوں کو بڑا راز بتا دیا

’’ اُن مردوں کے بچے زیادہ صحت مند ہوتے ہیں جو باپ بننے سے پہلے ۔۔۔‘‘ ...
’’ اُن مردوں کے بچے زیادہ صحت مند ہوتے ہیں جو باپ بننے سے پہلے ۔۔۔‘‘ سائنسدانوں نے مردوں کو بڑا راز بتا دیا

  

بوسٹن(نیوز ڈیسک)والدین کی صحت کا اُن کے ہاں جنم لینے والے بچے کی صحت پر براہ راست اثر مرتب ہوتا ہے۔ عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ غیر صحت بخش غذا استعمال کرنے والے اور موٹاپے کے شکاروالدین کے بچوں میں بھی موٹاپے کا رجحان پایا جاتا ہے جبکہ دیگر بیماریوں کا امکان بھی نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ اس ضمن میں سائنسدانوں نے حال ہی میں ایک تحقیق کی مگر اس انکشاف نے تحقیق کاروں کو بھی حیران کر دیا کہ باقاعدگی سے ورزش کرنے والے مرد اگرچہ زیادہ حراروں والی اور مرغن غذائیں استعمال کرتے ہوں مگر اُن کے بچوں پر اس کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

میل آن لائن کے مطابق اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شریک حیات کے حاملہ ہونے سے قبل جو مرد باقاعدگی سے ورزش کر رہے ہوتے ہیں ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچے زیادہ صحت مند بھی ہوتے ہیں، اگرچہ ان مردوں کے اپنے جسم میں چربی کا تناسب قدرے زیادہ ہو اور وہ موٹاپے کے بھی شکا رہوں۔ اگر وہ باقاعدگی سے ورزش کر رہے ہوتے ہیں تو ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کا میٹابولک سسٹم صحت مند ہوتا ہے، ان کے جسم میں فالتو چربی کا تناسب کم ہوتاہے اور خون میں گلوکوز کی پروسیسنگ بہتر طور پر ہوتی ہے۔ اگر باپ زیادہ چکنائی والی خوراک بھی کھاتا ہو تو باقاعدگی سے ورزش کرنے سے اس کے بچے صحت مند پیدا ہوتے ہیں۔

اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی کے ویکسنر میڈیکل سینٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ اگر آپ کی خوراک متوازن نہیں بھی ہے تو ورزش اس کے منفی اثرات کو ختم کر سکتی ہے اور بچے کو صحت مند جینز منتقل ہوتے ہیں۔تجربات سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ ورزش نہ کرنے سے سپرم کی حرکت کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور اس کے سمال آر این اے میں بھی منفی تبدیلیاں واقع ہوجاتی ہیں۔ آر این اے میں ہونے والی تبدیلیاں عمومی صحت کو بھی متاثر کرتی ہیں کیونکہ اسی کے ذریعے ڈی این اے سے جسم کے اُن حصوں کو ہدایات منتقل ہونی ہوتی ہیں جن میں پروٹین بنتی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -تعلیم و صحت -