چاول بناتے وقت ان میں یہ چیز ڈال دی جائے توآپ کو موٹا نہیں کرے گی

چاول بناتے وقت ان میں یہ چیز ڈال دی جائے توآپ کو موٹا نہیں کرے گی
چاول بناتے وقت ان میں یہ چیز ڈال دی جائے توآپ کو موٹا نہیں کرے گی

  


کولمبو(نیوز ڈیسک) کچھ غذائیں اس حوالے سے بہت ہی بدنام ہیں کہ ان کے استعمال سے موٹاپہ پیدا ہوتا ہے، اور بدقسمتی سے چاولوں جیسی لذیذ غذا بھی ان میں شامل ہے۔ ماہرین غذائیات کہتے ہیں کہ ایک کپ پکے ہوئے چاولوں میں اوسطً دو سو حرارے ہوتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر بھی چاولوں کا استعمال ذرا کم ہی رکھنے کی ہدایت کرتے ہیں۔

دوسری جانب سری لنکا کے کالج آف کیمیکل سائنسز کے کچھ سائنسدان ہیں جو یقیناً چاول کھانے میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لئے ان کی کوشش تھی کہ کچھ ایسا کیا جائے کہ چاول بھی جی بھر کے کھائے جائیں اور جسم میں ضرورت سے زیادہ حرارے بھی منتقل نہ ہوں، اور بالآخر انہوں نے ایک ایسا طریقہ ڈھونڈہی لیا ہے۔

ان سائنسدانوں نے معلوم کیا ہے کہ چاول پکانے کے دوران اگر ان میں تھوڑا سا ناریل کا تیل شامل کر دیا جائے تو حراروں کے مقدار میں 60 فیصد تک کی حیران کن کمی ہو جاتی ہے۔ یہ ماہرین بتاتے ہیں کہ جب اُبلتے ہوئے چاولوں میں ناریل کا تیل ڈالا جاتا ہے تو چکنائی کے مالیکیولز چاولوں کے اندر داخل ہوجاتے ہیں۔ پکانے کے بعد اگر ان چاولوں کو 12 گھنٹے کیلئے ٹھنڈا ہونے دیا جائے تو چکنائی کے مالیکیول نشاستے کے ساتھ مل کر سخت قسم کے مالیکیول بنا لیتے ہیں جنہیں ہمارے جسم میں موجود خامرے توڑ نہیں سکتے ۔ اب اگر آپ ان چاولوں کو کھائیں گے تو آپ کے جسم کو ان سے بہت کم حرارے ملیں گے، یعنی زیادہ بھی کھائیں تو یہ آپ کو موٹا نہیں کریں گے۔

ان چاولوں کا ایک مسئلہ ضرور ہے کہ انہیں 12 گھنٹے ٹھنڈا کرنے کے بعد کھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایک تو لمبا انتظار، اور دوسری بات یہ کہ ٹھنڈے چاولوں کو دوبارہ گرم کر کے کھانے سے ان کی کوالٹی تازہ پکے ہوئے چاولوں جیسی نہیں رہتی ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس