حکومت آزادی مارچ کو آئینی اور جمہوری تسلیم کرے،پھر مذاکرات ہونگے:میاں افتخار حسین

حکومت آزادی مارچ کو آئینی اور جمہوری تسلیم کرے،پھر مذاکرات ہونگے:میاں ...
حکومت آزادی مارچ کو آئینی اور جمہوری تسلیم کرے،پھر مذاکرات ہونگے:میاں افتخار حسین

  



نوشہرہ (صباح نیوز)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ حکومت نیک نیتی سے مذاکرات نہیں کررہی کیونکہ مذاکراتی کمیٹی کے تشکیل کے ساتھ ساتھ گالیاں دینے کا سلسلہ بھی تاحال جاری ہے،ایسے حالات میں کیوں اپوزیشن جماعتیں حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں گی؟حکومت آزادی مارچ کو آئینی اور جمہوری تسلیم کرے،اپوزیشن کو یہ باور کرائے کہ وہ مارچ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالے گی  اور مارچ کو تحفظ فراہم کرے گی،تب جاکر حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے۔

نوشہرہ میں پارٹی کے ضلعی کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے نمائندگی پر رہبر کمیٹی کے ممبر اور پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا کہ مذاکرات اور گالیاں ایک ساتھ نہیں چل سکتے،حکومت پہلے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تب اپوزیشن جماعتیں مذاکرات کے آپشن پر غور کریگی۔انہوں نے کہاکہ حکومت پہلےآزادی مارچ کےحوالے سےپروپیگنڈے بند کریں،آزادی مارچ کو آئینی اور جمہوری تسلیم کریں اورپھرسنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کے میز پر آئیں، تب جا کر اپوزیشن اس موڈ میں ہوگی کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ آزادی مارچ اپوزیشن جماعتوں کا آئینی اور جمہوری حق ہے،اے این پی آزادی مارچ کا مختلف مراحل میں حصہ بنے گی،اگر سیاسی کارکنان اور بلخصوص مولانا صاحب کے کارکنان کے خلاف حکومت پرتشدد رویہ اختیار کرتی ہے،تو اے این پی اس تشدد کی جواب طلبی صوبہ بھر میں اسفندیار ولی خان کی کال پر احتجاج کی صورت میں کریگی،اسی طرح اگر مولانا صاحب گرفتار ہوتے ہیں تو پھر احتجاجی تحریک کی قیادت اسفندیار ولی خان کریں گے اور اس کے کال پر اے این پی کارکنان احتجاج کیلئے نکلیں گے اور آخری مرحلہ یہ ہوگا کہ اگر مولانا صاحب بخیر و عافیت اسلام آباد پہنچتے ہیں تو اے این پی کارکنان اسفندیار ولی خان کی قیادت میں آزادی مارچ کا حصہ بنیں گے۔

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /نوشہرہ