استحکام کا ماحول پیدا کریں

استحکام کا ماحول پیدا کریں

  



وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے،بھارت کی طرف سے سیز فائر کی خلاف ورزی کے پیچھے بدامنی کی نیت ہے،حالانکہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اس کا بیانیہ پٹ گیا ہے،وزیر خارجہ نے کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ ہر میدان میں شکست کے بعد بھارت کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لئے بعض قوتوں کو آگے بڑھانا چاہتا ہے، بھارت سرحدوں پر شکست کے بعد پاکستان کو اندرونی مسائل میں اُلجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یوں بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر خطے کا امن تباہ کرنا چاہتا ہے،مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی جدوجہد رنگ لائے گی،پاکستان اورکشمیر لازم و ملزوم ہیں۔

وزیر خارجہ کا یہ بیان اس روز سامنے آیا ہے،جب آئی ایس پی آر کی طرف سے پاکستان میں غیر ملکی سفیروں کو لائن آف کنٹرول کا معائنہ کرایا گیا، وزارتِ خارجہ کی طرف سے بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو بھی مدعو کیا گیا تھا،مگر وہ نہیں آئے۔آئی ایس پی آرکی طرف سے غیر ملکی سفارت کاروں کو یہ معائنہ کرانے کی ضرورت اِس لئے پیش آئی کہ بھارت نے ایک مرتبہ پھر بھونڈی حرکت کرتے ہوئے کنٹرول لائن پر فائر بندی کی خلاف ورزی کی اور ایک فوجی جوان کے علاوہ پانچ شہری بھی شہید کر دیئے۔حسب ِ عادت بھارتی فوجیوں نے شہری آبادی پر حملہ کیا تھا تاہم بھارتی افواج کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں جاری تربیتی کیمپ تباہ کئے گئے ہیں،پاکستان کی طرف سے حملے کے جواب میں بھارت کے قریباً نو فوجی مارے گئے اور دو چوکیاں تباہ ہوئی تھیں،بھارتی فوجی سفید پرچم لہرا کر لاشیں اٹھانے پر مجبور ہو گئے تھے،پاکستان کی طرف سے سفیروں کو تمام متاثرہ مقامات کا دورہ کرا کے ثابت کر دیا گیا کہ بھارت فروری میں ہوائی حملے کے حوالے سے جھوٹا ثابت ہوا تھا تو اب پھر وہ سچ نہیں بول رہا۔غلط بیانی اس کی عادت بن چکی ہے۔اس حوالے سے تو کانگرس کے رہنما نے بھی آئینہ دکھا دیا ہے کہ نریندر مودی ایسی باتیں (نام نہاد سرجیکل سٹرائیک) تب کرتے ہیں،جب بھارت میں کوئی انتخابات ہونے والے ہوتے ہیں۔اب بھی ہریانہ اور مہاراشٹر میں صوبائی انتخابات ہو رہے ہیں۔

یہ درست کہ آئی ایس پی آر نے اپنا فرض ادا کیا اور دُنیا کے سامنے بھارتی پروپیگنڈے کا پول کھول دیا ہے،تاہم ہمارے ملک کے اندر اس وقت جو ماحول بن رہا ہے اور جو کشمکش جاری ہے،اس کے حوالے سے فاضل وزیر خارجہ کا بیان بے احتیاطی کا مظہر ہے،اندرونی استحکام برقرار رکھنے کے لئے زیادہ ذمہ داری برسر اقتدار حضرات پر عائد ہوتی ہے،جبکہ وزیر خارجہ نے ڈھکے چھپے الفاظ میں مخالفین پر بھارتی منصوبے کے مطابق عمل کرنے کا الزام عائد کر دیا ہے، وہ وزیرخارجہ ہیں اور اس سے کہیں بہتر انداز میں بات کر سکتے تھے،ایسے وقت میں جب حکومت کی طرف سے مذاکراتی کمیٹی بنا دی گئی اور حزبِ اختلاف نے بھی بات چیت پر کچھ نہ کچھ آمادگی ظاہرکر دی ہے تو ماحول کو زیادہ بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

حزبِ اختلاف کی طرف سے بھی الزام لگایا گیا ہے کہ حکومت ایک طرف مذاکرات کرنا چاہتی ہے، تو دوسری طرف مارچ کو روکنے کے لئے ریاستی طاقت کو استعمال کر رہی ہے۔اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے یہ شرط عائد کی ہے کہ مذاکرات کے لئے پہلے یہ ضمانت دی جائے کہ مارچ میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ماضی شاہد ہے کہ سنگین حالات اور شدید محاذ آرائی کے دوران بھی مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں ہوئے،اس کا ثبوت 1977ء کی تحریک بھی ہے کہ بالآخر فریقین مذاکرات کی میز پر آ گئے تھے، انجام جو ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔بہرحال گزارش یہ کرنا ہے کہ اگر ملک کو انتشار سے بچانا مقصود ہے تو پھر اس کے لئے مناسب ماحول پیدا کرنا ضروری ہے، اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ لفظی گولہ باری ختم کی جائے،جو جنگ کا تاثر دے رہی ہے،فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور مل کر بیٹھیں تاکہ کوئی راہ نکل آئے۔

جہاں تک ماضی قریب کا تعلق ہے تو تحریک انصاف کے126 روزہ دھرنے کی بھی بات کی جاتی ہے،اس حوالے سے مثبت اور منفی باتیں ہوتی ہیں،تاہم اگر غور کریں تو یہ سبق مل جاتا ہے کہ سابقہ حکومت اور اس وقت کی حزبِ اختلاف نے بھی پارلیمینٹ کو اہمیت دی اور تمام تر مزاحمت کے باوجود ماحول کو درست کرنے کے لئے مسلسل اجلاس کئے۔یوں 126 روزہ دھرنا حکومت سے استعفے لئے بغیر ختم ہوا،اب بھی برسر اقتدار جماعت کو الزامات میں اُلجھنے کی بجائے ماحول کو سازگار بنانا چاہئے۔اس کے لئے پارلیمینٹ کو فعال بنائیں۔یوں بھی منتخب اداروں کی موجودگی میں انتظامی اقدامات حالات خراب کرنے کا موجب ہی ہوتے ہیں۔فریقین سے ہم یہی کہیں گے کہ تحمل سے کام لیں پاکستان ہم سب کا وطن ہے،اس کی حفاظت سب پر لازم ہے، اس میں امن و امان کو برقرار رکھنا، اور آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف دونوں کے مفاد کا تقاضا ہے،اِس لئے نہ اشتعال دلایئے،اور نہ اشتعال میں آیئے۔آگ بھڑکے گی،جو بہت کچھ جلا ڈالے گی۔

مزید : رائے /اداریہ