کرتارپور راہداری،معاہدہ پر آج دستخط ہوں گے

کرتارپور راہداری،معاہدہ پر آج دستخط ہوں گے

  



بھارتی حکومت نے سکھ قوم کو اپنا احسان جتانے کی ناکام کوشش کے بعد کرتار پور راہداری کے معاہدے پر دستخط کرنے کا عندیہ دے دیا اور یہ آج ہوں گے۔یوں راہداری کے مشترکہ افتتاح کا راستہ بھی صاف ہو گیا۔یہ تقریب پاکستان کی طرف سے 9نومبر کو رکھی گئی ہے۔ بھارتی ردوکد کی وجہ سے پاکستان نے اعلان کر دیا تھا کہ مقررہ تاریخ کو راہداری کی تقریب لازم ہو گی۔بھارت کی طرف سے تمام امور پر اتفاق کے بعد یاتریوں کے لئے20ڈالر فیس پر اعتراض کر دیا گیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ یہ ختم کر دی جائے،دوسرے معنوں میں یاتریوں سے فیس نہ لی جائے۔ یہ مطالبہ یا درخواست سکھ یاتریوں کی طرف سے تو آئی نہیں تھی،بھارتی حکومتی وفد نے اپنے طور پرختم کرنے کے لئے کہا تھا اور معاہدے پر دستخط سے گریز کیا تھا،اس کے باوجود سکھ حضرات کی طرف سے نہ تو بھارتی موقف کی تائید ہوئی اور نہ ہی کسی نے تعریف کی اور یوں بھارت کی طرف سے یہ کہہ کر معاہدے پر دستخط کرنے کا اعلان کیا کہ فیس کی معافی کا مطالبہ جاری رہے گا۔آج(23 اکتوبر) معاہدے پر دستخط ہوں گے جو دونوں طرف سے فوکل پرسن کریں گے تو بھارت کی تمام رکاوٹیں بھی دم توڑ دیں گی، چنانچہ یہ امکان بھی ہے کہ اب یہ افتتاحی تقریب زیرو پوائنٹ پر مشترکہ ہو، بھارت کی طرف سے کرتار پور آنے کے خواہش مند سکھوں کی رجسٹریشن کا عمل روک دیا گیا تھا۔ وہ بھی کل(24 اکتوبر) سے شروع ہو جائے گا۔یوں افتتاح کے بعد بھارت سے روزانہ پانچ ہزار تک کی تعداد میں سکھ یاتری بلا ویزا یاترا کے لئے آ سکیں گے،پاکستان کو پہلے ہی دُنیا بھر سے سکھوں کی آمد کی اطلاعات موصول ہو چکی ہوئی ہیں۔پاکستان کی طرف سے وزیراعظم عمران خان افتتاح کریں گے۔ بھارتی میڈیا کی اطلاع ہے کہ وزیراعظم مودی بھی شرکت کے خواہش مند ہیں اور کوئی طریقہ ڈھونڈ رہے ہیں،ابھی تک پاکستان کو درخواست موصول نہیں ہوئی،پاکستان نے مودی سے ملنے سے انکار کر رکھا ہے۔مبصرین نے اِس راہداری کے افتتاح کو پاکستان کی کامیابی قرار دیا ہے۔اس سے سیاحت میں اضافہ ہو گا تو سکھ قوم بھی شکرگزار ہو گی۔

مزید : رائے /اداریہ