پلاسٹک کے انڈے؟

پلاسٹک کے انڈے؟

  



کراچی میں فوڈ اتھارٹی نے چھاپہ مار کر دو افراد کو گرفتار کیا ان کے قبضہ سے ہزاروں انڈے برآمد کر لئے جو پلاسٹک کے ہیں اور یہ بازار میں باقاعدہ فروخت کئے جاتے ہیں۔ جعلسازی کا ارتکاب کرتے ہوئے مصالحوں اور اشیاء خوردنی میں ملاوٹ توپہلے بھی ہوتی تھی۔ ہلدی میں چنے کی دال،سرخ مرچ میں برادہ اور چائے کی پتی میں درختوں کی چھال ملائی جاتی تھی، ازاں بعد دودھ میں ملاوٹ شروع ہوئی جو پانی کی حد تک تھی۔ دور جدید میں ملاوٹ کے طریقے بھی تبدیل ہو گئےّ مصالحوں اور اشیاء خوردنی میں کیمکلز کی ملاوٹ کی جاتی ہے۔ ادویات بھی جعلی بنتی، حتیٰ کہ سگریٹ بھی دونمبرتیار کئے جاتے ہیں، جبکہ صابن اور کریمیں وغیرہ تو اس حوالے سے بہت مشہور ہیں۔ ایک جدت تب آئی جب پلاسٹک کے چاول فروخت ہونا شروع ہو گئے اور اب انڈوں کی کھیپ پکڑی گئی جو پلاسٹک کے انڈوں کی ہے۔ ایک تاجر نے بتایا کہ یہ انڈے چین والوں کی تکنیک ہیں اور ان میں سرنج سے کیمیکل پلاسٹک زردی کی شکل میں داخل کیا جاتا ہے۔ یہ کس قدر مضر صحت ہے اس کا اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے درست اور صحیح علم تو لیبارٹری ٹیسٹ ہی سے ممکن ہے۔ کراچی فوڈ اتھارٹی کو یہ بھی کام کر لینا چاہیے کہ اسی کھیپ میں سے لیبارٹری سے انڈے ٹیسٹ کروا لینا چاہئیں، انسانی جانوں سے کھیلنے والے یہ لوگ قابل معانی ہرگز نہیں ہیں، ان کو قرار واقعی سزا ملنا چاہیے۔

مزید : رائے /اداریہ