حالات کا ماتم

حالات کا ماتم
حالات کا ماتم

  

ادبی تنظیم قلم قافلہ تنگی نے پچھلے ہفتے نشتر ہال (پشاور) میں پشتو کی مایہ ناز ادبی شخصیت پروفیسر ڈاکٹر یار محمد مغموم خٹک کے شعری مجموعے ”بل اواز“ (منفرد آواز) اور اُردو اور پشتو کے نامور ادیب اور شاعر پروفیسر ڈاکٹر اظہار اللہ اظہار کی شعری تصنیف ”زخم دَ گلاب دَ چم سندرہ شوہ“ (گلاب کے زخمی ہونے کی خبر گیت بن گئی ہے) کی تقریب رونمائی منعقد کی۔ تقریب میں فیض الوہاب فیض، حسین احمد صادق، اسیر منگل، امان اللہ نصر ت اور راقم الحر وف نے مقا لے پڑھے۔ لائق زادہ لائق، اعجاز یوسف زئی اور زبیر حسرت نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اورکئی شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔ بخت زادہ دانش نے اپنے استاد اظہار اللہ اظہار کو خراج عقیدت پیش کیا اور اپنا کلام سنایا۔ بزرگ ادیب،شاعر اور دانشور سلیم راز نے تقریب کی صدارت کی۔

ڈاکٹریار محمد مغموم نے اپنی عمر عزیز کا بیشتر حصہ ادبی تحقیق اور تنقیدکے لئے وقف کیا اور نثر لکھتے رہے۔ انہوں نے کلیات خوشحال خان خٹک مرتب کی اور اُس میں فرھنگ کا اضافہ کیا، خوشحال خان خٹک کی معروف تصنیف دستار نامہ کو حواشی کے ساتھ اور اس کا فرھنگ کتاب کی شکل میں چھاپا۔اُن کی دوسری تصانیف میں روخانیان اور پشتو اَدب، تحریک آزادی اور پشتو شاعری اور باچا خان اور معاشرے کی اصلاح شامل ہیں۔ فلسفی شاعر غنی خان اور پشتو شاعری کی مقبول صنف چاربیتہ پر ان کی تصانیف چھپائی کے مراحل میں ہیں۔وہ شعر بھی کہتے رہے جو پہلی دفعہ ’بل اواز‘ کے نام سے شائع ہوئے ہیں۔ یہ نصف صدی پر محیط اُن کی شاعری کا مجموعہ ہے۔ اس میں تصوف بھی ہے اورفلسفہ بھی، انسان دوستی بھی ہے،وطن پرستی اور حالات کا رونا بھی ہے اور اپنی قوم کے لئے ایک سہانے مستقبل کا خواب بھی دیکھا گیا ہے۔گزشتہ چالیس سالوں میں پشتونوں پر کونسی قیامت تھی جو نہیں ٹوٹی۔بقول مغموم:

چہ سحر ماخام بارود ورباندے ووری

پہ دے خاورہ کے بہ سہ گلونہ اوشی

ترجمہ:(جس مٹی پر صبح و شام بارود برستا ہو،وہاں پھول کیسے اُگیں گے؟)

ان حالات نے مغموم کے دل پر نہ صرف گہرا اثر چھوڑا،بلکہ ایک گہرا زخم لگایا ہے۔ اُن کی شاعری کا پیغام یہ ہے کہ پشتونوں نے بے شمار جنگیں لڑی ہیں اور اَب اِنہیں اَمن کی ضرورت ہے۔ اَب نئی نسل کوجنگ نہیں،بلکہ ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی ضرورت ہے۔

اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے تعلق رکھنے والے پروفیسر اظہار اللہ اظہار نے اردو اور پشتو میں نثر اور نظم دونوں لکھی ہیں۔ان کی مختلف موضوعات پراب تک اکیس کتابیں چھپ چکی ہیں ”زخم دَ گلاب دَ چم سندرہ شوہ“ ان کی پشتو میں گیارہویں کتاب ہے۔اس میں انہوں نے پشتونوں کی حالت کا رونا رویا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ یہاں ہر گھر اُجڑچکا ہے۔ ہر گلی سے رونے کی آوازیں آ رہی ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ پشتون اپنے ساتھ لڑنے والوں کے لئے بھی اَمن کی خواہش رکھتے ہیں۔

انہوں نے قوم کو حوصلہ دیا ہے کہ ہمت کرے اور جو آگ لگ چکی ہے اسے بجھادے۔ کونج کی ڈار سے سبق سیکھے، قطار در قطار گرتی رہتی ہیں، لیکن اُڑنا ترک نہیں کرتیں۔اِن حالات پر اپنے احساسات کو الفاظ کا جامہ پہناتے ہوئے اظہار نے لکھا ہے کہ اَب گلاب کے زخمی ہونے کی خبرزبان زدِ عام ہوچکی ہے اور نغمہ بن گئی ہے۔ عرصہ پہلے رحمت شاہ سائل نے اپنی خوبصورت شاعری کو ’دَ ویر پہ چم کے وار دَ نغمو‘ (ماتم کی گھڑی میں نغمے الاپنے)کا نام دیا تھا۔ بعد کا دور تو اور بھی پرآشوب رہا۔ اَب تو بخت زادہ دانش نے ”زہ بہ نہ لیونے کیگم“ (میں کیوں دیوانہ نہ بنوں گا) کے عنوان سے اپنی شاعری کا مجموعہ چھاپا ہے جو بے حد مقبول ہوا ہے۔ اجمل خٹک نے ’دَ غیرت چغہ‘ (غیرت کی للکار)، غنی خان نے ’دَ پنجرے چغار‘ (پنجرے کی فریاد) اور غلام قادر داوڑ نے بزبان انگریزی ’چیغہ‘ (للکار) لکھی ہیں۔ ہر ایک نے اپنی قوم کی حالات کے ہاتھوں بے بسی اور مشکلات کا ذکر کیا ہے اور اُن کو ہمت نہ ہارنے کی تلقین کی ہے اس اُمید کے ساتھ کہ اُن کا آنے والا کل آج سے بہتر ہوگا۔ خوشحال خان خٹک نے صدیوں پہلے کہا ہے:

کہ آسمان دِ دَ زمری پہ خلہ کے ورکڑہ

دَ زمری پہ خلہ کے مہ پریگدہ ہمت

ترجمہ:(اگر آسمان تمہیں شیر کے منہ میں دیدے تب بھی ہمت نہ چھوڑنا)

پہ ہر شام پسے سحر شتہ نظر اُو کہ

عاقبت بہ سوک غمژن شی بیا بہ خاد شی

ترجمہ:(ہر شام کے بعد صبح طلوع ہوگی۔ نہ ہمیشہ کوئی خوش رہے گا اور نہ غمزدہ ہو گا)

اور فیض نے کہا ہے:

صبا نے پھر درِ زنداں پہ آ کے دستک دی

سحر قریب ہے دل سے کہو نہ گھبرائیں

تقریب کے آخر میں صدرمجلس بزرگ ترقی پسند دانشور شاعر و ادیب سلیم راز نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اُن کو شکایت تھی کہ پشتونوں نے کمر ہمت کَسنا چھوڑ دیا ہے اوراپنے اسلاف کی تاریخ سے بھی غافل ہوگئے ہیں۔ان کے رہنماؤں کے بارے میں ہرزہ سرائی کی جارہی ہے اورکوئی جواب نہیں دیتا۔ان کی تقریر حالات کا نوحہ تھی۔

میں نے سلیم راز کوبہت عرصے کے بعد دیکھا۔ بھٹو دور کے آخری آیام تھے۔ جمہوریت پسند، ترقی پسند اور مذہبی جماعتیں ملک میں جمہوریت کے لئے جدوجہد میں مصروف تھیں۔ سلیم راز روزنامہ جہاد سے منسلک تھے۔میں کبھی کبھار کسی خبر یا مضمون کی اشاعت کے سلسلے میں اُن کی خدمت میں حاضر ہوتا تو وہ بہت محبت سے پیش آتے اور مجھ جیسے نو آموز قلم کار کی حوصلہ افزائی کرتے۔ پاکستان قومی اتحاد کی تحریک نے مارشل لاء کی د ہلیز پردم توڑا تو داغ داغ اُجالا شب گزیدہ سحر کی مایوس کن تصویر بن کررہ گئی۔ جمہوریت کا خواب چکنا چورہوا۔ بعد میں افغانستان میں سرخ انقلاب آیا۔ مزاحمت ہوئی جو کمیونزم کا جنازہ نہ صرف افغانستان سے،بلکہ روس اور مشرقی یورپ سے بھی نکالنے پر منتج ہوئی۔ اِس کے بعد دہشت گردی نے اس علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیااوروطن عزیز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ اِن حالات میں سلیم راز جیسے ترقی پسند دانشوروں کی باتوں میں تلخی کا آجانا ایک قدرتی اَمر ہے۔ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!

مزید :

رائے -کالم -