دھر۔نا vs دھرنا، حل مذاکرات

دھر۔نا vs دھرنا، حل مذاکرات
دھر۔نا vs دھرنا، حل مذاکرات

  



جوں جوں آزادی مارچ کی تاریخ قریب آتی جارہی ہے پاکستانی عوام کے اضطراب اور اشتیاق میں اضافہ ہوتا جارہا ہے کہ کیا ہوگا؟ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان پہلے ہی مختلف بحرانوں کا شکار ہے، مولانا فضل الرحمن کا دھرنا حکومت کے لئے ایک نیا اضافہ ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں طرف سے ایک دوسرے پر سخت زبانی حملے کئے جا رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ ملک انارکی کی طرف جارہا ہے۔ وزیر اعظم فوری عہدہ چھوڑ دیں، سینٹ میں قائد ایوان شبلی فراز کہتے ہیں کہ فضل الرحمن گرفتار ہوکر ہیرو بننا چاہتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگ زیب کہتی ہیں کہ حکومت مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے ڈرامے کررہی ہے اور نااہل حکومت ڈائیورٹ اینڈ رول پر چل رہی ہے۔

فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں کہ حکومت سیاسی ہتھکنڈوں سے غافل نہیں، فضل الرحمن کی ڈوریاں جیل میں بیٹھے مجرم چلا رہے ہیں۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ جمہوری معاشروں میں عام انتخابات کے بعد حکومت اور اپوزیشن کو ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ بھی کہنا، سننا اور کرنا ہوتا ہے، وہ پارلیمنٹ میں ہی کرتے ہیں اور فیصلہ بھی وہیں ہوتا ہے، مگر ہمارے ملک کا سیاسی کلچر ہی شتر بے مہار ہے اور ہمارے سیاستدان، وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، پارلیمانی آداب سے کماحقہ آگاہ دکھائی نہیں دیتے۔ جب یہ اپوزیشن میں ہوں تو دل کھول کر پارلیمانی اصولوں سے ہٹ کر حکومت پر دشنام طرازی کریں گے اور جب برسر اقتدار ہوں تو اپوزیشن کو راندۂ درگاہ سمجھنا ان کی اولین ترجیح ہوتی ہے، جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ طویل دھرنے کا آغازخود تحریک انصاف نے ہی کیا تھا اور سب کو اچھی طرح یاد ہے کہ اس وقت کی حکومت کے ذمہ داروں نے واضح طور پر یہ کہا تھاکہ تحریک انصاف وہ کرے جو خود بھی برداشت کرسکے اور آج وہی صورت حال پیدا ہوگئی ہے جس پر ساحر لدھیانوی کا یہ شعر پوری طرح منطبق ہوتا ہے:

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں

جو کچھ مجھے دیا ہے لوٹا رہا ہوں میں

بڑے دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں میں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی عادت ہی نہیں جس کے باعث متعدد بار ہمیں مارشل لاء کا سامنا کرنا پڑا جس سے ملک کوناقابل تلافی نقصان ہوا، مگر اس کے باوجود بھی ہم اب تک اس سے کوئی سبق نہیں سیکھ پائے۔ اس وقت جب ہمارا ازلی دشمن ملک بھارت آئے دن لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیز کارروائیاں کرکے معصوم شہریوں کوشہید کررہا ہے اور ملک کی عمومی صورت حال بھی کوئی تسلی بخش نہیں، ایسے وقت میں جب کشمیریوں پر بھارت ظلم وتشدد کی انتہا کررہا ہے اور ابھی تک ہم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF)کی گرے لسٹ میں ہیں جو فروری 2020ء تک قائم رہے گی اورایف اے ٹی ایف کے چینی صدر ژیانگ من لیو نے پیرس میں کی گئی اپنی پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہا ہے کہ اگر پاکستان نے خاطر خواہ اقدامات نہ کئے تواسے بلیک لسٹ میں بھی ڈالا جا سکتا ہے، جبکہ بھارت پوری کوشش کررہا ہے کہ ہم بلیک لسٹ ہوجائیں، ایسے وقت میں حکومت اپوزیشن میں محاذ آرائی ملک اور قوم کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ادھر بعض اپوزیشن رہنماؤں نے عام انتخابات کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔ عام انتخابات کوئی معمولی بات نہیں، ان پر اربوں روپے کے خرچے کے علاوہ ملک کی معیشت پر بھی بڑا بوجھ پڑتا ہے، جبکہ ہماری اقتصادی حالت بھی اطمینان بخش نہیں۔

اس پر طرہ یہ کہ بلیک لسٹ ہونے کے خدشے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت اوراپوزیشن کے مابین محاذ آرائی کی زیادہ ذمہ داری حکومت پرعائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اقدامات سے اپوزیشن کو مطمئن کرے، اور ”کچھ لو اور کچھ دو“ کی پالیسی پر عمل پیرا ہو، مگر اس کے برعکس حکومت نے مولانا فضل الرحمن کی جماعت کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کو کالعدم قرار دے دیا اور اسلام آباد میں جے یو آئی کے دو کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے، مزید برآں بعض معلومات کے مطابق مولانا سے مذاکرات میں ناکامی پر حکومت نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمن کو نظر بند کردے گی، ادھر جے یو آئی کے رہنما سینیٹر حمداللہ کا کہنا ہے کہ اگر مولانا کو نظر بند کیا گیا تو دما دم مست قلندر ہوگا اور سیاسی مبصرین اور مدبرین نے اس سے ملکی حالات مزید خراب ہونے کے خدشات کا اظہار کیا ہے اور قرین قیاس یہی ہے کہ ان کا خدشہ درست ثابت ہوسکتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر یہ ملک کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔

اسلام آبادسے ایک مصدقہ اطلاع کے مطابق وفاقی پولیس نے آزادی مارچ کے حوالے سے صرف تین دن کے سیکیورٹی انتظامات کے لئے پندرہ کروڑ روپے طلب کئے ہیں جو چارسو کنٹینروں اور ہزاروں کی تعداد میں دیگر صوبوں اور آزاد کشمیر سے پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے جوانوں کی رہائش و خوراک پر صرف ہوں گے، اگر دھرنے کے دنوں نے طوالت اختیار کی تو مذکورہ رقم میں بھی اضافہ ناگریز ہوگا، یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ سیاستدان حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، کیا معاشی بحران کے شکار ملک کے لئے یہ غیر ضروری اخراجات صرف سیاستدانوں کی انا پرخرچ ہوں:

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

یہ ایک حقیقت ہے کہ سیاستدانوں کی باہمی چپقلش کسی بھی طور ملک و قوم کے مفاد میں نہیں، اس سے وطن عزیز کے دشمن خوش ہوتے ہیں، بلکہ اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دونوں طرف کے سیاستدانوں سے ہماری گزارش ہے کہ آپس کی سیاسی چپقلش کو اپنی انا اور عزت کا مسئلہ نہ بنائیں، بلکہ ملک کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور اپوزیشن کے جو جائز مطالبات ہوں حکومت نہ صرف انہیں تسلیم کرے، بلکہ انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کرائے اور یہی بات ہم اپوزیشن سے بھی کریں گے کہ وہ بھی اپنے موقف میں لچک پیدا کرے اور حکومت سے مذاکرات کرکے سیاسی اختلافات میں شدت آمیز مطالبات سے گریز کرے اور مذاکرات کو کامیاب بنانے میں موثر کردار ادا کرے، بصورت دیگر عوام کے ذہن و قلب میں منفی جذبات پیدا ہوسکتے ہیں جو بہر صورت کسی کے مفاد میں نہیں ہوں گے۔

مزید : کالم /رائے