افغان باقی کہسار باقی، الحکم للہ والملک للہ

افغان باقی کہسار باقی، الحکم للہ والملک للہ
افغان باقی کہسار باقی، الحکم للہ والملک للہ

  



طالبان امریکہ مذاکرات کی بحالی کے لئے امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کابل پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقصد اب بھی یہی ہے کہ کسی نکتے پر امن معاہدہ یا سیاسی تصفیہ ہو جائے جو آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔ گویا وہ مذاکرات کو وہیں سے دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں جہاں امریکی صدر نے ٹویٹ کے ذریعے یہ سلسلہ توڑا تھا، حالانکہ فریقین حتمی معاہدے کی دستاویز پر متفق بھی ہو چکے تھے اور واشنگٹن جانے کی تیاریاں مکمل تھیں۔ امریکہ نے طالبان کے مطالبے پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنی افواج کی جزوی واپسی کا اعلان بھی کر دیا تھا۔ امریکہ طالبان کی طرف سے جو یقین دھانیاں چاہتا تھا، وہ اسے مل بھی گئی تھیں۔ امریکی فوجی انخلاء کے بعد کے نقشے پر بھی بات ہو گئی تھی۔ امریکہ چاہتا تھا کہ طالبان اشرف غنی کے ساتھ بھی مذاکرات کریں تاکہ مستقبل کی نقشہ گری کی جائے،

لیکن طالبان کے مطابق اشرف غنی افغانستان کے مسئلے کے حل کے لئے فریق نہیں،بلکہ کٹھ پتلی ہیں۔ بہرحال انٹر افغان ڈائیلاگ کے حوالے سے معاملات طے ہو چکے تھے۔ امریکی افغان صدارتی انتخابات کے ذریعے کابل میں اپنی من پسند حکومت قائم کرنے پر تلے ہوئے تھے،جبکہ طالبان ایسے انتخابات کو ڈھونگ قرار دیتے رہے ہیں اور گزرے تین انتخابات کے ذریعے قائم ہونے والی حکومتوں کو کٹھ پتلی حکومتیں قرار دیتے رہے ہیں، لیکن امریکی کسی نہ کسی طور ایسی حکومتوں اور حکمرانوں کے ذریعے اپنے مفادات کو یقینی بناتے رہے ہیں۔ انہوں نے 29 ستمبر 2019ء کو افغانستان میں صدارتی انتخابات منعقد کرائے، جن کے ابھی تک نتائج سامنے نہیں آئے، ایسے حالات سے مایوس ہو کر انہوں نے افغان امن مذاکرات کا ٹوٹا ہوا سلسلہ وہیں سے جوڑنے کی کوشش کی ہے،جہاں سے ٹوٹا تھا۔ یقینا یہ ایک مثبت اقدام ہے اور اس سے افغان مسئلہ حل کرنے میں مدد ملے گی۔

یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان رولینڈ کو بیانے کہا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں تعطل کو جنگ بندی کا ایک موقع تصور کیا جانا چاہئے، کیونکہ ایک عرصے سے جاری مذاکرات میں معاملات طے پا گئے تھے،لیکن جنگ بندی کے حوالے سے معاملات طے نہیں پا رہے تھے۔ امریکی فوری جنگ بندی، جبکہ طالبان امریکی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کرتے رہے، حتیٰ کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک مذاکرات معطل کرنے کا ٹویٹ کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ یورپی یونین کے نمائندہ برائے افغانستان کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں وقفہ دراصل جنگ بندی کو ایک موقع دینے کا وقفہ تصور کیا جانا چاہئے، کیونکہ فریقین ایک معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے، لیکن ناگزیر وجوہات کے باعث مذاکرات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔

رولینڈ کوبیا نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ طالبان کسی نہ کسی شکل میں اقتدار میں واپس آجائیں گے، اس لئے یورپی یونین امن معاہدے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ افغانستان کے مستقبل کی صورت گری کے بعد یورپی بلاک کے ساتھ اس کے بہتر تعلقات قائم ہو سکیں۔ یہ بات بڑی حیران کن ہے کہ یورپی یونین نے نہ صرف افغانستان کے لئے اپنا نمائندہ خصوصی مقرر کیا ہے، بلکہ امن مذاکرات میں کردار ادا کرنے کی کاوشیں بھی جاری رکھی گئی ہیں، کیونکہ ایک بات تو طے ہو چکی ہے کہ افغانستان سے قابض افواج رخصت ہو کر رہیں گی۔ افغانستان سے حملہ آور افواج کی اکثریت یہاں سے رسوا ہو کر نکل چکی ہے۔ 2001ء میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد امریکی اتحادی یہ سمجھنے لگے تھے کہ بس طالبان بھاگ گئے اور امریکی اتحادی یہاں من مانیاں کر سکیں گے، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ انہیں تھوڑے ہی عرصے میں یہاں کی مشکلات کا پتہ چلنے لگا۔ طالبان نے حملہ آوروں کے خلاف صف بندی کی اور پھر ایک گوریلا جنگ شروع ہو گئی۔ 18 سالوں سے جاری اس جنگ نے امریکی اتحادی افواج کو نڈھال کر دیا۔ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔ طویل مذاکرات میں بہت سے معاملات طے ہو گئے تھے کہ اچانک مذاکرات کا سلسہ ٹوٹ گیا۔

افغانستان کی آبادی 36/37 ملین نفوس پر مشتمل ہے، جن میں سے 9.6 ملین مردوزن رجسٹرڈ ووٹر ہیں۔2001ء میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد امریکی قابض افواج کے زیر سایہ 29 اکتوبر 2019ء میں چوتھے صدارتی انتخابات منعقد ہوئے، تاکہ نئے افغان صدر کا فیصلہ کیا جا سکے۔ اس سے پہلے 2014ء کے انتخابات کے نتیجے میں مخلوط حکومت قائم ہوئی جس میں اشرف غنی صدر اور عبداللہ عبداللہ افغانستان کے چیف ایگزیکٹو بنائے گئے۔ ان انتخابات کو افغان عوام کے ساتھ بہت بڑا فراڈ قرار دیا گیا، یہی وجہ ہے کہ ان انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت 5 سال تک فراڈ ہی کرتی رہی، اس حکومت کے زیر سایہ کچھ بھی مثبت کام نہ ہو سکا، طالبان کی قوت بڑھتی رہی، ان کے حملوں نے، ان کے جذبہء مقاومت نے قابض افواج کو ناکوں چنے چبوائے اور وہ طالبان کے ساتھ بات چیت پر مجبور ہوئے اور بالآخر مجبور ہو کر یہاں سے بھاگنے کے منصوبے بنانے لگے۔

حالیہ افغان صدارتی الیکشن بھی اسی سٹریٹجی کاحصہ ہیں جس کے تحت امریکی اپنی واپسی کو ایک باوقار شکل دینا چاہتے ہیں، لیکن انہیں ابھی تک اس میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ گزشتہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں 13 امیدواروں نے حصہ لیا تھا۔ 9.6 ملین رجسٹرڈ ووٹر تھے جن میں 35 فیصد خواتین شامل ہیں۔ افغان معاشرہ قدیم قبائلی روایات میں گندھا اور بندھا ہوا معاشرہ ہے۔ جہاں عورت کا اپنا ایک طے شدہ مقام متعین ہے۔ اس بارے میں ہمارے لبرل اور سیکولر دوست بھی بہت زیادہ پشیمانی اور پریشانی کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور مغربی اقوام بھی عورت کے اس مقام سے مطمئن نظر نہیں آتیں، بلکہ اسے ”آزاد“ اور ”بلند“ کرنے کی فکر میں مبتلا رہتی ہیں، لیکن افغان معاشرے میں عورت کے صدیوں سے طے شدہ مقام اور مرتبے میں کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہو سکی۔

یہ عورت جری، بہادر، غیرت مند نسل پیدا کرتی رہی ہے، پھر اسی عورت کے ہاتھوں پل بڑھ کر تیار ہونے والی نسل ہر دور میں اپنی آزادی اور روایات کا تحفظ کرتی رہی ہے۔ برطانوی و اشتراکی اور اب امریکی استعمار کی انہی جوانوں کے ہاتھوں عبرتناک شکست اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان معاشرہ درست مقام پر کھڑا ہے۔ درست اور موثر بنیادوں پر قائم ہے، اس معاشرے میں طاقت کا قانون چلتا ہے، بندوق کی گولی کے ذریعے فیصلے کئے جاتے ہیں۔ افغانوں نے صدیوں سے یہی طریقہ آزمایا ہے، یہی کارگر رہا ہے اور یہی کارگر نظر آرہا ہے۔ امریکی افغانوں کی طاقت کے ذریعے ہی یہاں سے نکلنے پر مجبور ہوئے ہیں، وگرنہ انہوں نے تو افغانوں کو پتھر کے زمانے تک پہنچانے کا اعلان کر دیا تھا۔ امریکی یہاں 3 انتخابات کرا چکے ہیں، گزشتہ ماہ چوتھے انتخابات کے ذریعے انہوں نے ایک بار پھر کابل میں کٹھ پتلی حکومت قائم کرنے کی کاوش کی ہے، لیکن ابھی تک نتائج کا اعلان نہیں ہو سکا، کیونکہ انتخابات میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ انتہائی مایوس کن رہا ہے اور شنید ہے کہ کوئی بھی امیدوار شرائط کے مطابق ووٹ حاصل نہیں کر سکا، اس لئے نتائج کا اعلان کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔

نتیجہ کچھ بھی نکلے 2004ء،2009ء اور 2014ء کے انتخابات بھی نہ افغانستان میں امن لا سکے اور نہ ہی غاصب امریکی اپنے قدم یہاں جما سکے۔ 2019ء کے انتخابات کا بھی یہی انجام ہونے جا رہا ہے۔ یورپی یونین کے نمائندہ برائے افغانستان نے درست کہا ہے کہ طالبان کسی نہ کسی شکل میں افغانستان کے اقتدار میں لوٹ آئیں گے، اس لئے ان کے ساتھ راہ ورسم بڑھانا ضروری ہے۔ افغانستان، افغانوں کا ہے، وہی اس کے باسی ہیں، وہی اس کے مالک و مختار ہیں، امریکی غاصب ہیں، حملہ آور ہیں، انہیں لوٹ کر واپس جانا ہی ہے، آج یا کل وہ یہاں سے ایسے ہی رخصت ہوں گے، جیسے اشتراکی اور برطانوی افواج رخصت ہوئی تھیں اور ہاں جیسے ان کے گماشتوں، حمائتیوں اور کٹھ پتلیوں کا انجام ہوا تھا، ایسے ہی امریکی حواریوں اور کٹھ پتلیوں کا انجام ہو گا:

افغان باقی کہسار باقی

الحکم للہ والملک للہ

مزید : کالم /رائے