لاہور میں اُستاد کی خود کشی،کیا نظام بچ گیا؟

لاہور میں اُستاد کی خود کشی،کیا نظام بچ گیا؟
لاہور میں اُستاد کی خود کشی،کیا نظام بچ گیا؟

  



وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بالآخر گورنمنٹ ایم او کالج کے لیکچرار محمد افضل کی خود کشی کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے چار رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی بنا کہ اُسے سات روز میں اپنی انکوائری مکمل کرنے کا ٹاسک دیا ہے۔اِس ضمن میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے جو نوٹیفکیشن جاری کیا ہے،اُس کے مطابق اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اس کمیٹی کے کنوینر ہیں اور بحران میں لاہور کالج ویمن یونیورسٹی کی رجسٹرار، گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ٹاؤن شپ کے پرنسپل اور ڈپٹی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ مردانہ ہائر ایجوکیشن شامل ہیں۔یہ کمیٹی مکمل اختیارات کے ساتھ قائم کی گئی ہے اور اسے ہر قسم کے ریکارڈ تک رسائی کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔یاد رہے کہ چند روز پہلے گورنمنٹ ایم او کالج لاہور کے لیکچرار انگریزی محمد افضل نے خود کشی کر لی تھی اور اپنے آخری خط میں اس کی وجہ یہ بیان کی تھی کہ اُس پر ایک طالبہ کی طرف سے ہراسمنٹ کا جھوٹا الزام لگایا گیا،جسے انکوائری کمیٹی نے جھوٹ قرار دے کر رپورٹ پرنسپل کو بھیجی،مگر انہوں نے میرے بار بار اصرار پر مجھے اس کی سرکاری طور پر کاپی جاری نہیں کی،جس کی وجہ سے میری بیوی مجھے چھوڑ گئی،اور مَیں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا،اِس لئے مجھے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔محمد افضل کی خود کشی کے بعد جب اُس کی یہ تحریر سامنے آئی کہ رپورٹ میں اُسے بے گناہ قرار دے دیا گیا تھا تو پھر اُسے بریت کا سرٹیفکیٹ جاری کیوں نہیں کیا گیا،کیوں ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ جن کی وجہ سے اُسے سوائے موت کے اور کوئی راستہ نظر نہیں آیا۔

لیکچرار محمد افضل کے خلاف بی ایس انگریزی کی ایک طالبہ کی شکایت پر 8جولائی2019ء کو ایک انکوائری شروع کی گئی تھی،اس کی انکوائری افسر شعبہ فزکس کی چیئرپرسن ڈاکٹر عالیہ رحمن خان کو بنایا گیا تھا، ڈاکٹر عالیہ رحمن خان نے انکوائری رپورٹ مکمل کر کے تمام متعلقہ دستاویزات کے ساتھ 13جولائی2019ء کو پرنسپل کے پاس جمع کرا دی تھی،مگر اس رپورٹ کی کاپی مرحوم محمد افضل کو فراہم نہیں کی گئی، اپنی موت سے ایک دن پہلے لیکچرار محمد افضل نے انکوائری آفیسر ڈاکٹر عالیہ رحمن خان کو ایک خط لکھا۔8اکتوبر2019ء کو لکھے جانے والے اس خط میں اُس نے کہا کہ مجھے رپورٹ کی کاپی نہیں ملی،نہ ہی یہ معلوم ہے کہ مَیں قصور وار ہوں یا بے قصور؟ ڈاکٹر عالیہ رحمن خان نے 21اکتوبر 2019ء کو سیکرٹری ہائر ایجوکیشن پنجاب کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ وہ محمد افضل کا یہ خط لے کر پرنسپل صاحب کے پاس گئی، اُس وقت اُن کے ساتھ وائس پرنسپل اور لاہور پی پی ایل اے صدر توصیف صادق بھی موجود تھے۔

پرنسپل نے محمد افضل کا وہ خط وصول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اس خط کو اپنے پاس رکھیں، جب تک مَیں نہ کہوں اس پر کوئی کارروائی نہ کریں،اِس لئے سارا قصور پرنسپل ایم او کالج کا ہے،جنہوں نے میری انکوائری رپورٹ کو دبائے رکھا اور باوجود لیکچرار محمد افضل کی موت سے ایک روز پہلے لکھی گئی درخواست کے، اُس کی کاپی اُسے نہیں دی۔یہاں سے معاملہ خاصا اُلجھ جاتا ہے۔ اس سے یہ شبہ بھی اُبھرتا ہے کہ افضل کے خلاف باقاعدہ ایک جال بُنا گیا،پہلے ایک فرضی شکایت کروائی گئی اور بعدازاں جب انکوائری میں وہ شکایت جھوٹی اور من گھڑت ثابت ہوئی تو اُس رپورٹ کو منظر عام پر لانے کی بجائے دبا دیا گیا، اِس دوران محمد افضل کو کالج میں بدنام کرنے اور اذیت پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھا گیا، بالآخر تین ماہ بعد اُس کے اعصاب جواب دے گئے اور وہ خود کشی کرنے پر مجبور ہو گیا۔یہاں یہ امر بھی قابل ِ ذکر ہے کہ اِس دوران مرحوم محمد افضل کی بیوی اس کے کردار پر لگنے والے الزام کی وجہ سے اُسے چھوڑ کر میکے چلی گئی اور واپس آنے سے انکار کر دیا،ایک طرف کالج کا الزام زدہ متعفن ماحول اور دوسری طرف گھر میں ناچاقی بالآخر اُسے انتہائی قدم اٹھانے کی طرف لے گئی۔

اس واقعہ نے بہت سے سوالوں کو جنم دیا ہے اور بہت سے مسائل کی نشاندہی کی ہے،چونکہ مَیں براہِ راست اس نظام تعلیم کا حصہ رہا ہوں،اِس لئے بخوبی سمجھ سکتا ہوں کہ اس کے پس ِ پردہ کیا عوامل کار فرما ہوں گے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہائر ایجوکیشن کے پاس کوئی ایسا مربوط نظام نہیں، جس کی بنیاد پر وہ کالجوں میں پرنسپل کا تقرر کر سکے، سیاسی دباؤ یا پھر کوئی نہ کوئی بند، تو لگانا ہے کہ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے پرنسپل تعینات کر دیئے جاتے ہیں۔یہ اس ایم اے او کالج حال ہے،جس کا کسی زمانے میں عطاء الحق قاسمی،امجد اسلام امجد،حسن رضوی اور دیگر نامور لوگوں کی وجہ سے ڈنکا بجا کرتا تھا،آج اس کا تذکرہ ایک ایسے کالج کی حیثیت سے ہو رہا ہے،جہاں ایک اُستاد نے جھوٹے الزام میں صفائی دینے کے لئے خود کشی کر لی ہے۔پرنسپل تو ادارے کا مائی باپ ہوتا ہے،حیرت ہے کہ ایم اے او کالج کے پرنسپل فرحان عبادت یار نے اس معاملے کو بروقت حل نہیں کیا،انکوائری افسر نے صرف پانچ دن میں انکوائری مکمل کرکے پرنسپل کو جمع کرا دی تھی،پھر اسے کئی ماہ تک طول کیوں دیا گیا۔

اگر محمد افضل قصور وار تھا تو اُسے چارج شیٹ کر کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو بھیج دینا چاہئے تھا اور اگر بے قصور تھا تو فوراً سامنے لا کر معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تھی۔پھر یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب 8اکتوبر کو لکھے گئے محمد افضل کے خط کو انکوائری افسر ڈاکٹر عالیہ رحمن خان پرنسپل کے پاس لے گئیں تو انہوں نے اُس وقت بھی کوئی مثبت ایکشن لینے کی بجائے معاملے کو زیر التوا رکھنے کو کہا، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ محمد افضل سے ذاتی طور پرانتقام لے رہے تھے، کیونکہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ محمد افضل کی حالت سے بے خبر ہوں،جب پورے کالج کو معلوم تھا کہ محمد افضل اس الزام کی وجہ سے بہت پریشان ہے اور انتہائی مایوسی کی حالت میں کوئی انتہائی قدم اُٹھا سکتا ہے تو سربراہ ادارہ کیسے اُس سے بے خبر رہ سکتا ہے؟ اس مجرمانہ عمل یا غفلت کی کیا توجیح پیش کی جا سکتی ہے۔

اب دیکھتے ہیں اس واقعہ سے جڑے ایک اور پہلو کی طرف۔شہباز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں پنجاب بھر کے منتخب کالجوں میں بی ایس چار سالہ پروگرام کا آغاز ہوا۔یہ امریکی فنڈنگ سے چلنے والا پروگرام تھا،اِس لئے اسے بغیر انتظامات اور ضروریات کو پورا کئے شروع کر دیا گیا۔اس میں جو سب سے بڑی غفلت روا رکھی گئی،اُس کا ذمہ دار محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب ہے۔شاید یہ امریکی ڈونرز ایجنسی کی شرط تھی کہ اس پروگرام میں داخلہ مخلوط ایجوکیشن کی بنیاد پر دیا جائے،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بوائز کالجوں میں لڑکیوں کو بھی داخلہ دیا جانے لگا، تاہم یہ احتیاط ضرور برتی گئی کہ گرلز کالجوں کے بی ایس پروگرام میں لڑکوں کو داخلہ دینے کی ممانعت ہے۔جب لڑکیاں بوائز کالجوں میں داخل ہوئیں تو خواتین اساتذہ کو وہاں بھیجا گیا۔جب مَیں گورنمنٹ کالج آف سائنس ملتان کا پرنسپل تھا تو کم از کم دس خواتین اساتذہ کو وہاں بھیجا گیا،جس سے مرد اساتذہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی کہ اُن کی آسامیاں تو ختم ہو جائیں گی۔یہاں یہ امر بھی قابل ِ ذکر ہے کہ پنجاب میں پہلے ہی بوائز کالجوں کی تعداد گرلز کالجوں کی نسبت کم ہے۔

بی ایس پروگرام میں داخلہ انٹرمیڈیٹ کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔گویا کم عمر کی طالبات ان بوائز کالجوں میں مرد اساتذہ اور لڑکوں کی موجودگی میں پڑھتی ہیں۔انہی کالجوں میں انٹرمیڈیٹ کی کلاسز بھی ہوتی ہیں،جن میں صرف لڑکے داخل کئے جاتے ہیں۔کسی نے اُس وقت یہ پروگرام ترتیب دیتے ہوئے یہ نہیں سوچا کہ اس کے اخلاقی و سماجی اثرات کیا مرتب ہوں گے؟پھر سونے پر سہاگہ اس کے لئے سمیسٹر سسٹم کا طریقہ رائج کیا گیا،جس میں فیورٹ ازم کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ مَیں ہمیشہ اساتذۃ کو یہ کہتا رہا ہوں کہ ایسے ماحول میں آپ اپنا دامن ہر صورت میں بچاتے رہیں،کیونکہ کسی وقت بھی کوئی جھوٹا الزام آپ کی ساری نیک نامی کو داغدار کر دے گا،جو کچھ محمد افضل کے ساتھ ہوا،ایسا کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے،کیونکہ ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے۔بہرحال ایم اے او کالج کے واقعہ کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لے کر اس کی وجوہات اور ایسے واقعات کی مستقبل میں روک تھام کے اقدامات کا تعین کرنا اشد ضروری ہے، وگرنہ یہ سونامی ہمارے تعلیمی اداروں کو بہا لے جا سکتا ہے۔

مزید : کالم /رائے