ترجمہ اور تفہیم:مسائل ومشکلات (1)

ترجمہ اور تفہیم:مسائل ومشکلات (1)
ترجمہ اور تفہیم:مسائل ومشکلات (1)

  



جب سیاسی کالم پڑھ پڑھ کر جی اُکتا یا گھبرا جاتا ہے تو غیر سیاسی کالموں کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہوں۔…… جوئندہ یا بندہ۔…… آخر کامیابی مل ہی جاتی ہے۔یہ کالم جس کا ذکر کر رہا ہوں انگریزی زبان میں تھا جس کا عنوان تھا:”سیارے اب ہماری ایک ایک جنبش پر نظر رکھا کریں گے۔“ ……یہ عنوان ایک تو غیر سیاسی تھا،دوسرے غیر روایتی تھا اور تیسرے مستقبل کی پیشگوئی کر رہا تھا اس لئے پڑھا تو آنکھیں کھل گئیں ……ایک اور وجہ بھی تھی جو آگے چل کر عرض کروں گا……ترقی یافتہ ممالک کے کالم نگار کیا سوچتے ہیں اور ہم کن دھرنوں اور آزادی مارچوں کی دلدلوں میں پھنسے ہوئے ہیں!……مَیں نے دِل ہی دِل میں ان کا موازنہ کیا تو ایک عجیب طرح کا احساسِ محرومی دامن گیر ہو گیا۔…… اس سے پہلے کہ اس کالم کے لب ِ لباب کا ذکر قارئین کے سامنے رکھوں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ انگریزی زبان میں بعض فنی اور سائنسی موضوعات ایسے ہیں جن کا اردو ترجمہ نہ صرف مشکل ہے،بلکہ اس ترجمے کی تفہیم ترجمے سے بھی مشکل ہے اور جب تک قارئین کے سامنے ان کی اپنی سادہ اور سلیس زبان میں ترجمہ و تفہیم دونوں کی تشریح نہ رکھ دی جائے،مطلب غتربود رہتا ہے۔…… اس کالم کا افتتاحی پیرا گراف یہ ہے۔

When President Trump tweeted an image of Iran,s Imam Khomeini Space Center in August, amateur satellite trackers were shocked by the image,s high resolution. After some sleuthing, they concluded it came from USA 224, a highly classified satellite launched in 2011, by the National Reconnaissance office and believed to be part of the multibillion-dollar KH-11 program. Not only did the satellite's size,location and orbit match the vantage point of the satellite could prossibly capture details like the clear Persian writing on the launchpad,s edgs.

اب اس کا اردو ترجمہ دیکھئے:

”جب صدر ٹرمپ نے اگست میں ایران کے ”امام خمینی سپیس سنٹر“ کی تصویر ٹویٹ کی تھی تو شوقین سیٹلائٹ ٹریکرز ششدر رہ گئے تھے کہ اس تصویر کی ریزولیشن کتنی ہائی ہے۔وہ کافی دیر تک سیارے کا سراغ لگاتے رہے اور آخر معلوم کر ہی لیا کہ یہ تصویر اس امریکی سیارے نمبر224 سے لی گئی ہے جو نیشنل ریکانے سینس آفس سے چھوڑا گیا تھا۔یہ ایک انتہائی خفیہ سیارہ ہے، جو2011 میں لانچ کیا گیا تھا اور اغلب خیال ہے کہ امریکہ کے، کے ایچ2- (KH-11) نامی اربوں ڈالر پروگرام کا حصہ ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس سیارے کا سائز، لوکیشن اور مدار اس تصویری ہدف کے ساتھ ملتا جلتا ہے، بلکہ اس سٹیٹ آف دی آرٹ سیٹلائٹ ہی سے یہ ممکن ہوا کہ اس تصویر کے ایک کونے میں جو فارسی زبان کی عبارت لکھی نظر آ رہی ہے، وہ دکھائی دے سکے۔“

جو قارئین خلائی سائنس کے طالب علم ہیں یا خلا نوردی کے موضوع سے دلچسپی رکھتے ہیں ان کے لئے اس پیراگراف کی تفہیم مشکل نہیں ہو گی،لیکن جن احباب کو دن رات سیاسی کالموں کا چورن کھلایا جاتا ہے ان کے لئے یہ پیرا گراف کافی حد تک ”ناقابل ِ ہضم“ ہو گا……اس پیراگراف کی تفہیم میں جن مشکلات کا سامنا ہو گا وہ درجِ ذیل ہوں گی:

1۔ امریکی سیارہ نمبر224 کیا ہے؟

2۔ نیشنل ریکانے سینس آفس کیا چیز ہے؟

3۔KH-11 پروگرام کیا ہے؟

4۔ سٹیٹ آف دی آرٹ سیٹلائٹ کیا ہوتا ہے؟

5۔ اس پیرا گراف میں (1) شوقین……(2) سیٹلائٹ ٹریکرز…… (3) ریزولیشن……(4) مدار وغیرہ کا مفہوم اور مطلب کیا ہے۔؟

آیئے پہلے درجِ بالا سوالات کا مختصر سا جواب آپ کے سامنے رکھتے ہیں:

1۔ یوں تو امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک نے سینکڑوں سیارے فضا میں چھوڑ رکھے ہیں لیکن جاسوسی اور سراغ رسانی کے لئے جو سیارے چھوڑے جاتے ہیں ان کو مخصوص نمبر دیئے جاتے ہیں،خلائی علوم سے دلچسپی رکھنے والا کوئی بھی طالب علم یہ نمبر گوگل کر کے ان سیاروں کے بارے میں اہم معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ایران کے امام خمینی سپیس سنٹر کی جو تصویر (Image) امریک صدر نے امریکی عوام کے سامنے رکھی(ٹویٹ کی) وہ بالکل حقیقی تھی اور اس پر فارسی میں جو عبارت لکھی ہوئی تھی وہ بھی ہر دیکھنے والے کو صاف نظر آ رہی تھی۔

2۔ نیشنل ریکانے سینس آفس (NRO) امریکی خلائی پروگرام کا ایک ادارہ ہے جو جاسوسی سیاروں اور ان کے چھوڑے جانے کی تفصیلات کا سارا ریکارڈ رکھتا ہے۔

3۔ KH-11 پروگرام اربوں ڈالر کا وہ خلائی منصوبہ ہے جو خلائیات سے متعلق تفاصیل کوNASA سے حاصل شدہ تفصیلات سے مربوط رکھتا ہے۔

4۔ سٹیٹ آف دی آرٹ سیٹلائٹ وہ سیارے ہیں جو انتہائی جدید، انتہائی خفیہ اور انتہائی پیچیدہ خلائی معلومات اخذ کر کے ان کا تجزیہ کرتے ہیں اور یہ معلومات کسی دوسرے ملک سے شیئر نہیں کی جاتیں۔

5۔ اس ذیلی پیراگراف میں جو چار الفاظ / اصطلاحات دی گئی ہیں ان کی تشریح یہ ہے……

(1) شوقین: انگریزی لفظ Amateur کا اُردو ترجمہ ہے۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی فن کو اپنے شوق کی تسکین کے لئے سیکھتے ہیں۔امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک میں مختلف علوم و فنون کی تحصیل کرنے والوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ایک کو پروفیشنل کہا جاتا ہے اور دوسرے کو امیچوئر…… پروفیشنل ماہرین وہ سرکاری ملازم ہوتے ہیں جو باقاعدہ ماہانہ/ ہفتہ واری مشاہرہ پاتے ہیں جبکہ شوقین یا غیر پیشہ ور لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنے ذوق کی تسکین کے لئے وہی کام کرتے ہیں جو پروفیشنل کرتے ہیں۔ ان ممالک میں ایسے شوقین حضرات کے سینکڑوں کلب اور انجمنیں بنی ہوئی ہیں جو آپس میں تبادلہ ئ معلومات کرتی رہتی ہیں۔یہ کلب وہاں کی حکومت کے ایسے ریزروز بھی ہوتے ہیں جن پر حکومت اپنی طرف سے کوئی خرچ نہیں کرتی۔ مثال کے طور پر امریکہ میں ہزاروں شوقین لڑاکا اور غیر لڑاکا پائلٹ موجود ہیں۔جب جنگ ہوتی ہے تو پروفیشنل پائلٹوں کو تو جنگی ضروریات کے لئے طلب کر لیا جاتا ہے جبکہ شوقیہ پائلٹ، غیر لڑاکا مشنوں کے لئے اندرون ملک پروازی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ اور اگر ضرورت ہو تو جنگی آپریشنوں کے لئے بھی ان کو طلب کر لیا جاتا ہے۔

(2)سیٹلائٹ ٹریکرز (Trackers) : یہ وہ لوگ ہیں جو ان تمام سیاروں کی خبر رکھتے ہیں جو حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً لانچ کئے جاتے ہیں۔ ان میں فوجی، سویلین، زرعی، سائنسی، ارضی، موسمی اور جاسوسی قسم کے سیارے ہوتے ہیں۔یہ ٹریکرز، ان سیاروں کو جدید دوربینی آلات کی مدد سے ٹریک کرتے رہتے ہیں۔ان کو معلوم ہوتا ہے کہ کون سا سیارہ کب لانچ کیا گیا،اس کا راستہ(کورس) کیا ہے، زمین سے کتنی دور ہے،کتنے عرصے میں زمین کے گرد چکر لگاتا ہے، کس ملک پر فوکس ہے، اس میں لگے کیمروں کی تعداد کتنی ہے اور ان کی ریزولیشن کیا ہے وغیرہ وغیرہ۔

(3)ریزولیشن (Resolution): تصویر کشی اور عکاسی کی ایک عام فہم اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کیمرے سے اتاری گئی تصویر کتنی صاف اور کتنی واضح ہے۔عام کیمرے سے اگر کوئی تصویر (Image) کھینچی جائے تو اس کی شفافیت کا براہِ راست تعلق اس بات سے ہو گا کہ وہ کتنی دور سے کھینچی گئی ہے۔آپ کے موبائل میں جو کیمرے نصب ہیں ان کی دوری/ فاصلہ کی ایک حد ہے۔اگر آپ10،15میٹر کی دوری سے کوئی تصویر کھینچیں گے تو اس کی ریزولیشن وہ نہیں ہو گی،جو ایک میٹر فاصلے سے کھینچی گئی تصویر کی ہو گی۔ڈرونوں میں جو کیمرے نصب ہوتے ہیں ان کی ریزولیشن کافی ہائی ہوتی ہے اور سیٹلائٹ کا زمینی فاصلہ تو سینکڑوں ہزاروں کلو میٹروں کا ہے۔ اندازہ کیجئے کہ اگر سیٹلائٹ سے کسی زمینی چیز/شخص کی تصویر کھینچی جائے تو وہ کیمرہ کتنا پاور فل ہو گا۔ اس کالم کے افتتاحی پیرا گراف میں جس ایرانی سپیس سنٹر کی تصویر کا ذکر کیا گیا ہے اس میں وہ عبارت بھی صاف نظر آ رہی ہے جو فارسی زبان میں ہے اور لانچنگ پیڈ پر لکھی ہوئی ہے۔دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے گا کہ سیٹلائٹ نمبر224 پر نصب کیمرے کی ریزولیشن 0.20 میٹر ہے،یعنی یہ ایک ایسی تصویر ہے جو سینکڑوں میل اوپر خلا سے نہیں، صرف دو میٹر کی دوری سے لی گئی ہے۔

(4) مدار (Orbit): یہ وہ خلائی راستہ ہے جس پر سیارہ نمبر224 سفر کرتا ہوا زمین کے گرد گھوم رہا ہے۔اس سیارے کے کیمرے زمین پر اپنے کسی بھی ٹارگٹ کو فوکس کر سکتے ہیں اور اس کی تصاویر (Images) اتار کر زمینی سٹیشن کو بھیج سکتے ہیں۔امریکہ نے ایران کی ارضی/زمینی جاسوسی کرنے کے لئے جو سیارے خلا میں بھیج رکھے ہیں وہ24گھنٹے ایک مخصوص راستے(Orbit)پر سفر کرتے ہوئے اپنے ٹارگٹ کی تصاویر لیتے اور کنٹرول سٹیشن کو ارسال کرتے رہتے ہیں۔بعض سیاروں کی رفتار اتنی تیز ہے کہ وہ اپنے مدار پر سفر کرتے ہوئے کسی بھی مطلوبہ ٹارگٹ پر ہر آدھ گھنٹے بعد فوکس کرتے اور تصویر اتارتے ہیں۔

…………………………

قارئین گرامی! درجِ بالا ایک پیرا گراف کا ترجمہ مَیں نے آپ کے سامنے رکھا اور اس کے بعد اس کی تفہیم کی کچھ تفصیل بھی آپ کو بتائی…… لیکن یہ سارا کالم ایسی ہی اصطلاحات اور تفاصیل سے بھرا ہوا ہے اور اتنا معلوماتی اور دلچسپ ہے کہ جی نے چاہا کہ آپ کو بتاؤں کہ جدید اور ترقی یافتہ ممالک میں سیاسیات کے علاوہ ان موضوعات پر بھی کالم لکھے جا رہے ہیں اور ہم پاکستان میں کن موضوعات پر وقت ضائع کر رہے ہیں؟…… سیاسی موضوعات پر کالم لکھیں اور ضرور لکھیں کیونکہ اخباری مواد بیشتر سیاسی مواد کا عکاس ہوتا ہے۔ لیکن بین الاقوامی سطح کے حامل اخباروں میں بین الاقوامی سطح کے دوسرے ایسے موضوعات بھی ڈسکس کئے جاتے ہیں جو غیر سیاسی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ اردو زبان کے کالم نگار حضرات کبھی کبھی اس طرف بھی نگاہ ڈال کر قارئین کی غیر سیاسی پیاس بجھا دیا کریں تو کیا ہرج ہے؟

یہ کالم نگار ایک خاتون ہے جو آگے چل کر کالم میں بتاتی ہے کہ اس نے اس فیلڈ میں کیا کیا کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں،کتنی کتابیں لکھی ہیں، بی بی سی اور سی این این سے مل کر کتنی دستاویزی فلمیں بنائی اور آن ائر کی ہیں اور اب وہ اس ٹیکنالوجی کو انڈیا لے جا کر وہاں کیا کرنا چاہتی ہے۔ جیسا کہ مَیں نے پہلے عرض کیا بہت سے قارئین جانتے ہوں گے کہ ترقی یافتہ ممالک ہم جیسے ترقی پذیر ممالک سے کس کس فیلڈ میں کتنا آگے جا چکے ہیں۔اگر اس کالم میں یہ نہ لکھا ہوتا کہ کالم نگار نہ صرف خلائی علوم اور آثارِ قدیمہ کی ایک ممتاز ماہر ہے بلکہ اس نے اپنی ایک آرگنائزیشن بھی بنا رکھی ہے جس کا نام گلوبل ایکسپلورر(Global Explorer) ہے اور وہ خلائی سراغ رسانی کے ذریعے زمین کے نیچے مدفون بہت سے آثار قدیمہ اس خلائی ٹیکنالوجی کی بدولت دریافت کر چکی ہے اور وہ اب اس ادارے کو انڈیا لے کر جا رہی ہے تو شائد میں اس کالم کو آپ کے سامنے نہ رکھتا۔اس کا نام سارہ پارکاک(Sarah Parcak) ہے۔(جاری ہے)

مزید : کالم /رائے