حکومت اپوزیشن کے آئینی اور جمہوری حق کو تسلیم کرے، میاں افتخار   

      حکومت اپوزیشن کے آئینی اور جمہوری حق کو تسلیم کرے، میاں افتخار   

  



پبی (نما ئندہ پاکستان)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ حکومتی مذاکرتی کمیٹی سنجیدگی دکھائے حکومت ازادی مارچ کے حق تسلیم کریں تو بات چیت ہوسکتی ہے حکومت اپوزیشن کے ائینی اور جمہوری حق کو تسلیم کریں آزادی مارچ کی را ہ میں لگائی گئی تمام روکاوٹیں دور کریں اپوزیشن کا ایجنڈا بلکل واضح ہے وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک پارلیمنٹ کے دھاندلی کمیٹی کے سربراہ ہے اس کی کارکردگی سب کے سامنے ہے لیکن اس کے اباوجود اپوزیشن ذمہ دارانہ کردار ادا کررہی ہے اے این پی تین مختلف طریقوں سے آزادی مارچ کا حصہ بنے گی،اسفندیار ولی خان اس سلسلے میں واضح اعلان کرچکے ہیں کہ اے این پی اْس وقت احتجاج کریگی جب سیاسی کارکنان کو تشدد کا نشانہ بنایا جائیگا، اس طرح مولانا صاحب  اگر اسلام آباد پہنچ جاتے ہیں تو اْس صورت میں اے این پی بھر پور طریقے سے اسفندیار ولی خان کی قیادت میں مارچ کا حصہ بنے گی اور اگر جے یو آئی قائدین بالخصوص مولانا فضل الرحمان گرفتار ہوتے ہیں تو اْس صورت میں مارچ کی قیادت اسفندیار ولی خان خود کرینگے۔وہ مانکی شریف نوشہرہ میں اے این پی ضلع نوشہرہ کی ضلعی کونسل کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے جس کی صدرات ضلعی صدر جمال خان خٹک نے کی جبکہ کونسل کے اجلاس سے ا نجینئر حامد خان اور جمال خٹک نے بھی خطاب کیا اور ازادی کے حوالے سے تیاروں اور انتظامات کے بارے میں تفصیلات بیان کی میاں افتخار حسین نے اجلاس سے خطاب اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہیے کے وہ ازادی مارچ کو اسلام باد تک انے کی اجازت دیں اور اپوزیشن کا حق تسلیم کریں تو بات اگے بڑھ سکتی ہے اگر حکومت ہمار احق تسلیم نہیں کریں گی تو بات اگے نہیں بڑھ سکے گی مذاکرات کے لیے حکومت کو کھلے دل سے انا چاہیے وزیردفاع پرویز خٹک جو اس کمیٹی کے بھی سربراہ ہے وہ دھاندلی کمیٹی کے بھی سربراہ ہے انہوں نے ایک سال گزرنے کے بعد ایک اجلاس تک طلب نہیں کیا گیا کے دھاندلی کا اندازہ لگایا جائے کے کس سطح پر  دھاندلی ہوئی یا نہیں ہوئی کوئی بات واضح نہیں پرویز خٹک کا کردار بلکل سامنے ہے خدا جانے مزید کیا ہوگا ابھی رابطے کی فضا ہے مذاکرات کی فضاء نہیں ہے اس میں دیکھنا ہوگا کے حکومت اس میں کتنی سنجیدہ ہے اس میں مزید پیش رفت ہوسکتی ہے یا نہیں میاں افتخار حسین نے کہا کہ رہی اسلام اباد کی انتظامیہ سے اجازت یہ تو ہمارا ائینی حق ہے ہم ائین کے پابند ہے ہم نے اعلان کیا تھا عجیب بات یہ ہے کے اسلام اباد کی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذکرلیا اور بینر لگاتے ہوئے دو کارکنوں کو گرفتا کرلیا ان کی نیت کا تو پہلے سے پتہ چل گیا کے ان کی نیت کیا ہے حکومت کو بڑی سنجیدگی سے پھونک پھانک کر قدم رکھنا ہوگا بات بہت اگی جاچکی ہے اگر حکومت نے اپوزیشن پراسلام اباد جانے پر پابندی لگادی تو پورا ملک لاک ڈاؤن ہوگا انہوں نے خود جگہ جگہ کنٹینرزلگالیے ہے پورا ملک خود جام ہوجائے گا یہ خود بہ خود پورے ملک کو بلاک کررہے ہیں ان کی غلط حکمت عملی سامنے نظر ارہی ہے میاں افتخار حسین نے کہا کے رہبر کمیٹی نے اپنے تحفظات کے باوجود حکومت سے رابطہ کیا ازادی مارچ کی اجازت کے بعد بات اگے بڑھ سکتی ہے حکومت کو چاہیے کے وہ ہمیں مناسب جواب دیں جس پر ہم اپنے قائدین کے ساتھ مشاورت کریں گے تو ضرور پیش رفت ہوگی تمام اپوزیشن جماعتیں اْن چار نکات پر متفق ہیں جن کی بنیاد پر مولانا فضل الرحمان اسلام آباد مارچ کا انعقاد کررہے ہیں،حکومت کا استعفیٰ،نئے انتخابات کا انعقاد،تمام اداروں کا اپنے آئینی حدود میں رہنے اور آئین کے تحفظ پر تمام جماعتیں متفق ہیں،میاں افتخارحسین نے کہا اے این پی اپنا لائحہ عمل واضح کرچکی ہے کہ 27اکتوبر یا اْس کے بعد اسلام آباد پہنچنے تک جے یو آئی کے ورکرز پر حکومت تشدد کرتی ہے تو اسفندیار ولی خان خود احتجاج کا  اعلان کرینگے اور اے این پی اْس صورت میں احتجاج کریگی، اسی طرح اگر مولانا صاحب بخیر و عافیت اسلام آباد پہنچ جاتے ہیں تو تب اے این پی مارچ کا حصہ بنے گی اور اے این پی کارکنان بھرپور قوت کے ساتھ اسفندیار ولی خان کی قیادت میں اسلام آباد کا رخ کرینگے،اسی طرح اگر جے یو آئی کے قائدین گرفتار ہوتے ہیں تو اْس صورت میں اسفندیار ولی خان  مارچ کی قیادت خود کرینگے۔میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ مارچ سے نمٹنے کے حوالے سے حکومت نے جو رویہ اپنایا ہے اْس سے واضح ہورہا ہے کہ حکومت اور حکومتی وزراء  بوکھلاہٹ کا شکار ہیں،یوٹرن ماسٹر وزیراعظم نے مذاکرات کے حوالے سے بھی دو بار یوٹرن لیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ناجائز دھرنے کو جائز قرار دینے والے عمران نے اپنے دھرنے کیلئے ہر قسم کا سپورٹ حاصل کیا،عمران خان نے سول نافرمانی کا اعلان کیا،مذاکرات سے انکارکیا،پارلیمنٹ،سپریم کورٹ اور پی ٹی وی پر حملے کروائے،آج ملک کے تمام سیاسی جماعتوں سے وہی عمران آئینی حق چھیننا چاہتا ہے،اسلام آباد مارچ کے حوالے سے ہائی کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے پھر بھی حکومت کی جانب سے رکاوٹیں ڈالنے کی باتیں ہورہی ہے،جو سمجھ سے بالاتر ہے۔میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ آج حکومتی وزراء  جمیعت علمائے اسلام کے ڈنڈا بردار فورس پر تنقید کررہی ہے لیکن حکومتی وزراء تاریخ سے اتنے نابلد ہیں کہ جتنی بھی پرانی سیاسی پارٹیاں ہیں اْن کے اپنے رضاکار ہوتے ہیں یہاں تک کہ محمد علی جناح صاحب نے بھی مسلم لیگ کیلئے نیشنل گارڈز کے نام پر رضاکاروں کی تنظیم بنائی تھی،انہوں نے کہا کہ مارچ کے حوالے سے حکومتی ارادے عیاں ہورہے ہیں،حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مارچ کے شرکاء کو تحفظ اور راستہ فراہم کرنا ہوگا۔اس موقع پر ضلعی صدر جمال خان خٹک،ضلعی جنرل سیکرٹری انجنیئرحامد خان،مسعود عباس خان،زرعلی خان اور دیگر ضلعی قائدین نے میاں افتخار حسین کو یقین دلایا کہ اسفندیار ولی خان کی کال پر اے این پی نوشہرہ بھرپور انداز میں اسلام آباد مارچ میں شرکت کریگی

مزید : پشاورصفحہ آخر