حکومت اور اپوزیشن کا بہت کچھ داؤ پرہے

حکومت اور اپوزیشن کا بہت کچھ داؤ پرہے
 حکومت اور اپوزیشن کا بہت کچھ داؤ پرہے

  



اہم یہ نہیں ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں متحدہ اپوزیشن کا آزادی مارچ اپنا ہدف حاصل کرپاتا ہے یانہیں، بلکہ اہم یہ ہے کہ اس سارے عمل کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور خود وزیر اعظم عمران خان کس قدر غلطیاں کرتے ہیں کیونکہ سیاست میں غلطیاں طاقت کو کمزوری میں بدل دیا کرتی ہیں۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے اس ضمن میں پہلی غلطی تب کی جب انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ آج کل پارلیمنٹ بغیر ڈیزل کے چل رہی ہے۔

دوسری غلطی وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ کے طور پر اپوزیشن کو خبردار کرکے کی، کہ ہم نے تو اپنی ذمہ داری پوری کردی اور اب اگر اپوزیشن حکومت کے ساتھ نہیں بیٹھتی اور مذاکرات نہیں کرتی تو کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داروہی ہوگی۔ پھر ایک غلطی وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے یہ کہہ کر کی کہ حکومت سرکاری محکموں میں ایک کروڑ نوکریاں نہیں دے سکتی، کیونکہ حکومت 400 محکمے بند کرنے جا رہی ہے، اسی طرح کراچی شہر سے تعلق رکھنے والے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو کپتانی سے ہٹانا بھی ایک غلطی تصور ہوسکتا ہے، اگر ٹیم نے آسٹریلیا میں اس سے بھی بری کارکردگی کا مظاہرہ کیا جو وہ پاکستان میں سری لنکا کے خلاف کرچکی ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ وفاقی وزیر شہر یار آفریدی کا ہے جنہوں نے جان تو اللہ کو دینی، مگر عدالت کو ثبوت نہیں دینے!

اگر ان غلطیوں کو غلطیاں نہ بھی تصور کیا جائے تو بھی کچھ ایسے حلقے ہیں جو گزشتہ دو ہفتوں سے انہیں غلطیاں ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ٹی وی ٹاک شوز میں انہیں بطور غلطی کے ہی زیر بحث لارہے ہیں۔ یہ غلطیاں حکومت کو نازک سچوایشن میں لے جاسکتی ہیں اور اس کے حامی حلقوں کے لئے کھلے بندوں حکومت کی طرفداری کا مارجن کم ہوتا چلا جائے گا۔ پھر کوئی پریس کانفرنس کرکے یہ نہیں کہہ سکے گا کہ حکومت کو پرفارم کرنے کے لئے کم از کم ایک سال کا عرصہ دینا چاہئے۔ اگر یہ تاثر پیدا ہوگیا کہ حکومت کو طاقتور حلقوں کی سپورٹ نہیں ہے تو یہ حکومت اپنے ہی بوجھ سے نیچے آگرے گی اور اسٹیبلشمنٹ کے پاس اپنا گھوڑا تبدیل کرنے کے سوا کوئی راستہ نہ بچے گا۔

اس بات میں شک نہیں ہے کہ عوام مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ آچکی ہے اور اس کا غصہ آسمان کو چھو رہا ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ حکومت کے ساتھ لوگوں کی ناراضگی میں اضافہ ہو رہا ہے، ان کا اطمینان بے اطمینانی میں تبدیل ہورہا ہے، ان کی پریشان حالی میں اضافہ ہو رہا ہے، ان کی معیشت دم توڑتی جا رہی ہے، وہ اس حکومت سے چھٹکارا پانے کا سوچنے لگے ہیں اور نئے انتخابات کی راہ تکنے لگے ہیں، وہ کسی اور قیادت کے متمنی ہیں۔ ایسے میں اگر لوگوں کا ایک طبقہ احتجاجی سیاست کے خلاف ہے تو اس کی وجہ محض یہ ہے کہ انہوں نے عمران خان کو ووٹ دیا ہے اور ان کا خیال ہے کہ چونکہ وہ خود کرپٹ نہیں ہے اس لئے وہ ضرور ملک سے کرپشن کا خاتمہ کردے گا اور ملک ترقی کی جانب گامزن ہوگا۔

ایک خیال یہ ہے کہ حکومت کا بہت سا انحصار ان طاقتور حلقوں پر ہے جو شیخ رشید کے بقول سب کچھ کرنے پر قادر ہیں اور وہ 26اکتوبر تک اس حوالے سے ضرور کوئی بڑی خبر دیں گے۔ حکومت کے حواری ایسا تاثر دے رہے ہیں جیسے کوئی غیبی طاقت وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت کو بچالے گی۔ یہ الگ بات عمران خان کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن پر ڈیزل کی پھبتی کسے جانے کے بعد ان کا بھی ماننا ہے کہ اس اہم عہدے پر بیٹھ کر انہیں ایسی بات نہیں کرنا چاہئے تھی۔ سوال یہ ہے کہ اگر طاقتور حلقوں نے نیوٹرل رہنے کا ارادہ کرلیا تو عمران خان کی حکومت کس طرح آزادی مارچ سے نپٹے گی؟ کیونکہ جوں حوں حکومت حفاظتی تدابیر کرے گی، توں توں اس کی غلطیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا جو اس کی عوامی مقبولیت میں کمی کو موجب بنتی چلی جائیں گی۔

اسی طرح ایک خیال یہ بھی کیا جا رہا تھا کہ شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کے آدمی ہیں، لیکن بالآخر انہوں نے بھی مولانا کی کھلی حمایت کا اعلان کرکے میز الٹا دیئے ہیں اور وہ میڈیا کے سامنے نمودار ہو گئے ہیں۔ بلاول پہلے ہی اپنا وزن مولانا کے پلڑے میں ڈال چکے ہیں اور اگر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیچ پر ہیں تو ساری اپوزیشن آج بھی اسی طرح ایک پیج پر ہے جس طرح 2014ء میں حکومت میں ہوتے ہوئے ایک پیج پر تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ اپنے بارے میں پیدا ہونے والے تاثر کو مزید پختہ کرنے کا خطرہ مول لے گی؟ اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا متحدہ اپوزیشن آزادی مارچ کا بھی وہی حال تو نہیں کرے گی جو اس نے چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کاکیا تھا؟ اس صورت حال میں کہا جاسکتا ہے کہ خالی حکومت کا ہی نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن کا بھی بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے!

مزید : رائے /کالم