نواز شریف کی بیماری، حکومت کو انہیں باہر بھیجنا ہی پڑے گا

نواز شریف کی بیماری، حکومت کو انہیں باہر بھیجنا ہی پڑے گا

  



 تجزیہ؛۔ایثار رانا

انسانی ہمدردی کا تقاضہ ہے میاں نواز شریف کا باہر بھیج دیا جائے اور یہ بات ابھی تسلیم کرلی جائے کہ پاکستان میں انتہائی حساس بیماریوں کا علا ج ممکن نہیں۔ میرا یقین ہے جلد یا بدیر وہ باہر چلے جائینگے،یہی ان کیلئے بہتر ہے اور حکومت کیلئے بھی،اس میں کوئی شک نہیں انکی طبیعت بہت خراب ہے،انہیں بہتر علاج کی ضرورت ہے،اور یہ انکا حق بھی ہے،وہ تین بار وزیراعظم رہے انکی جماعت کا سب سے بڑا وو ٹ بنک ہے،وہ پچھلے پینتیس سال سے پاکستان کی قسمت کے بلا شرکت غیرے مالک رہے۔بے شک اللہ ہی سب سے بڑا بادشاہ ہے، با قی سب فانی ہے،میاں صاحب کیساتھ جو ہو رہا ہے وہ ایک طرف عبرتناک ہے تو دوسری طرف ایک سوالیہ نشان بھی کہ ہمیشہ ایک منتخب وزیراعظم اس حال کو کیوں پہنچتا ہے؟اور اسکی عوامی تائید کہاں نا پید ہوجاتی ہے جسکے سر پہ بڑے بڑے ایڈونچر کرنے سے نہیں گھبراتا۔ شاید جمہوریت کیلئے سڑکوں پہ نکلنے والی مخلوق اس خطے میں ترکی میں رہتی اور ایسی لیڈر شپ بھی۔طیب اردگان نے عوامی عزت اور دولت میں سے عزت کا انتخاب کیا۔پاکستان کے ذمہ دار حلقے بھی اس بات پہ متفق ہیں نواز شریف کو علاج کے نام پر باہر بھیج دینے میں کوئی حرج نہیں۔لیکن وزیر اعظم عمران خان کی ضد سامنے آجاتی ہے۔یہی ضد آصف زرداری کے حوالے سے بھی قائم ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر خدا نخو ا ستہ نواز شریف کو کوئی نقصان ہوا تو عمران خان کبھی اس شرمندگی سے نہیں بچ سکیں گے۔اگر آپ یہ کہیں کہ وہ اصولوں پہ سمجھوتہ نہیں کرتے تو اس بات پہ ایک بے ساختہ مسکراہٹ تو بنتی ہے۔نوازشریف کی حالیہ بیماری کا مولانا کے چھلانگ مارچ پہ یقینا اچھا اثر نہیں پڑے گا۔مولانا میڈیا میں سولو فلائٹ چاہتے ہیں۔جو اب میاں صاحب کو مل جائے گی۔آخری بات جیسے عمران خان کی کوئی ایک تقریر تحریک کے کارکنوں میں جان ڈال دیتی ہے اسی طرح میاں صاحب کی بیماری بھی لیگی کارکنوں کو جوان کردیتی ہے۔

 تجزیہ ایثار رانا

مزید : تجزیہ


loading...