عادی مجرم کو بھی جھوٹی شہادت پر سزا نہیں دے سکتے،سپریم کورٹ نے قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا

عادی مجرم کو بھی جھوٹی شہادت پر سزا نہیں دے سکتے،سپریم کورٹ نے قتل کیس کا ...
عادی مجرم کو بھی جھوٹی شہادت پر سزا نہیں دے سکتے،سپریم کورٹ نے قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے قتل کیس میں ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، عدالت نے قتل کے ملزم حامد مختار کو بری کردیا،چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہادت قابل اعتبار نہیں ہو گی توعدالت نہیں مانے گی،عادی مجرم کو بھی جھوٹی شہادت پر سزا نہیں دے سکتے،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اللہ کے سامنے گواہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ سب دیکھ رہا ہے ،نظام عدل میں گواہ پیش کرتے پڑتے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں قتل کیس کے ملزم کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربرہی میں بنچ نے سماعت کی،چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمے میں داماد اور کزن کو گواہ بنایا گیا ،جس گھر میں واقعہ ہوا اس گھر کے کسی فرد کو بطورگواہ پیش نہیں کیا گیا،یہ سسٹم کی نہیں ہماری نیب کی خرابی ہے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اللہ کے سامنے گواہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ سب دیکھ رہا ہے ،نظام عدل میں گواہ پیش کرتے پڑتے ہیں ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ شہادت قابل اعتبار نہیں ہو گی توعدالت نہیں مانے گی،عادی مجرم کو بھی جھوٹی شہادت پر سزا نہیں دے سکتے ۔سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردیتے ہوئے قتل کے ملزم حامد مختارکو بری کردیا۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد